غزہ اور مصر کے درمیان واقع رفح کراسنگ کی اچانک بندش نے ہزاروں بیمار فلسطینیوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال دی ہیں جبکہ بیرونِ ملک علاج کے منتظر مریضوں کی طبی منتقلی مکمل طور پر رُک گئی ہے۔
عرب میڈیا کی جانب سے بیمار فلسطینیوں کی صورتحال پر ایک رپورٹ شائع کی گئی ہے۔
’الجزیرہ‘ کے مطابق 5 ماہ سے کم عمر بچی الما ابو ریدہ کو پھیپھڑوں میں رسولی کے باعث فوری آپریشن کی ضرورت ہے جو غزہ میں ممکن نہیں، اس کی والدہ لاما ابو ریدہ کے مطابق یکم مارچ کو اردن روانگی کی تمام تیاریاں مکمل تھیں مگر سفر سے ایک دن پہلے سرحدی گزرگاہ بند کر دی گئی۔
بچی گزشتہ تین ماہ سے ناصر اسپتال، خان یونس میں زیرِ علاج ہے اور آکسیجن مشین کے بغیر سانس نہیں لے سکتی، ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بروقت سرجری نہ ہوئی تو اس کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔
واضح رہے کہ رفح کراسنگ غزہ کا بیرونی دنیا کے ساتھ ایک اہم راستہ ہے، یہ کراسنگ اکتوبر 2023 سے جاری جنگ کے دوران طویل عرصے تک بند رہی، جبکہ یکم فروری کو محدود بنیادوں پر کھولی گئی تھی تاکہ طبی مریض بیرونِ ملک جا سکیں مگر 28 فروری کو دوبارہ بندش نے تمام طبی انخلا روک دیا۔
دوسری جانب ہادیل زروب نامی خاتون اپنے دو بچوں کو علاج نہ ملنے کے باعث کھو چکی ہیں، ان کی 8 سالہ بیٹی لانا اور 6 سالہ بیٹا صہیب ایک نایاب جینیاتی بیماری میں مبتلا تھے اور بیرونِ ملک علاج کے منتظر تھے، دونوں بچوں کی موت طبی اجازت نہ ملنے کے دوران ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق ہادیل زروب کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران صحت کا نظام تباہ ہونے، ادویات کی قلت اور بے گھری نے بچوں کی حالت مزید خراب کر دی، وہ کہتی ہیں ’میں نے اپنے بچوں کو آہستہ آہستہ مرتے دیکھا، مگر کچھ نہ کر سکی۔‘
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اس وقت 20 ہزار سے زائد مریض بیرونِ ملک علاج کے منتظر ہیں جن میں تقریباً 4 ہزار کینسر کے مریض اور ساڑھے 4 ہزار بچے شامل ہیں۔ تقریباً 440 مریضوں کو فوری جان بچانے والے علاج کی ضرورت ہے۔
انسانی حقوق تنظیم الضمیر ایسوسی ایشن نے رفح کراسنگ کی بندش کو اجتماعی سزا قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس سے مزید مریضوں کی جانیں خطرے میں پڑ جائیں گی جبکہ اسرائیلی حکام نے اعلان کیا ہے کہ رفح کراسنگ بدھ کے روز محدود نقل و حرکت کے لیے دوبارہ کھولی جا سکتی ہے تاہم مریضوں اور ان کے خاندانوں کو اب بھی مکمل بحالی کی امید نہیں۔