آپ آف لائن ہیں
پیر12؍شعبان المعظم 1441ھ 6؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

مستقبل میں تعمیراتی منظر نامہ بہت مختلف ہوگا۔ تعمیراتی سائٹ پر انسانوں سے زیادہ خودکار مشینی انسان یعنی روبوٹس کام کرتے نظر آئیں گے، جو متحرک نئے مواد کا استعمال کرتے ہوئے پیچیدہ ڈھانچے کی تعمیر کے لئے ایک ٹیم کے طور پر کام کریں گے۔ تعمیرات میں استعمال ہونے والے اجزا خودکار انداز میں جڑیں گے۔

ڈرون طیارے اُڑتے ہوئے سائٹ کا مستقل جائزہ لیتے ہوئے کام کا معائنہ کریں گے اور مسائل سامنے آنے سے پہلے ہی جمع ہونے والے اعداد و شمار کے ذریعے روبوٹک کرینوں، کھدائی کرنے والے روبوٹس اور خودکار تعمیر سازوں کو ہدایات بھیجیں گے کہ فلاں حکمت عملی اپنائیں۔

انسان کا کام صرف دور دراز بیٹھے تماش بین کا رہ جائے گا، جو 3D اور 4D بصری ٹیکنالوجی اور اعداد و شمار کی مدد سے آن سائٹ مشینوں سے معلومات حاصل کرکے اس بات کی تسلی کرے گا کہ آیا پروجیکٹ پر تعمیراتی کام نقشے کے مطابق ہورہا ہے یا نہیں؟ تعمیراتی ماہرین سائٹ پر مشینری اور دوسرے روبوٹس کو منتقل اور کنٹرول کرنے کے لیے ’’اعصابی کنٹرول ٹیکنالوجی‘‘ کا استعمال کریں گے۔ ہمیں روبوٹس سے خوف کھانے کے بجائے خود کو آنے والے آٹومیشن انقلاب کے لیے تیار کرنا ہوگا۔

پیداواری صلاحیت میں اضافہ

سپر مارکیٹوں میں خود کار خادم روبوٹس، سڑکوں پر خودکار گاڑیاں اور ہمارے گھروں میں آواز سے چلنے والی ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز، یہ سب ہمارے کام، خریداری، سفر، آرام اور دنیا کے ساتھ بات چیت کے اندازکو تبدیل کررہی ہیں۔ ہمارے فیصلوں کی ڈور الگورتھم کے ہاتھ میں ہے۔ نئے تعمیراتی مٹیریلز اورتھری ڈی کنسٹرکشن کے ابتدائی تجربات حیران کن ہیں۔ 

یہ تکنیکی تبدیلیاں ہمار ی تعمیراتی صنعت میں تبدیلی کےلیے اہم مواقع لاتی ہیں۔ اس ضمن میں محقق بیلفور بِیٹی(Balfour Beatty) کا ماننا ہے کہ ڈیجیٹلا ئزیشن اور روبوٹکس سے تعمیراتی صنعت کی پیداواری صلاحیت میں بہت زیادہ اضافہ ہوگا، جو بظاہر تو ایک بہت بڑا مگر تاریخی اعتبار سے کم پیداواری شعبہ ہے۔ نئی ٹیکنالوجی سے کارکردگی میں اضافے کے ساتھ دنیا بھر کے ممالک کو درپیش ہنر مندافرادی قوت کی قلت کے مسئلے کو حل اور عمارت سازی کے دوران اموات کے خطرے کو کم کیا جاسکے گا۔

انفرااسٹرکچر پہلی ترجیح

انفرااسٹرکچر دنیا بھر کے ممالک میں ایک سیاسی اور معاشی ترجیح ہے۔ سست معیشتوں کی حوصلہ افزائی، پرانے نظام کو اَپ گریڈ کرنے ،بڑھتی آبادی کی رہائش کا مسئلہ حل کرنے اور آبادیوں کی منتقلی کے لئے تیزی سے پیچیدہ منصوبے بنائے جارہے ہیں۔ 

اعلیٰ معاشی نشوونما اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کو دیکھتے ہوئے نئے شہروں کی تعمیر کے بارے میں پیش گوئی کی جارہی ہے، جس کے باعث آنے والے عشروں میں بڑے پیمانے پر نئے انفرااسٹرکچر کی طلب میں اضافہ ہوگا۔ ہمیں کاروبار، خدمات، صارفین کی بڑھتی توقعات اور آبادی کے روز افزوں اضافےکے پیشِ نظر تعمیراتی منصوبوں میں تیزی لانے کے ساتھ اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ کاربن کا اخراج اور تعمیراتی مٹیریل کا زیاں کم سے کم ہو۔

روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت

روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کی ڈیجیٹل اور دیگر نئی ٹیکنالوجیز کو تعمیراتی صنعت کے مرکزی دھارے میں لانا صنعت کے لئے ایک گیم چینجر ثابت ہوگا۔ اس سےتعمیراتی تعطل ختم ہوگا، کام کی رفتار تیز ہوگی، مستحکم جدت ساز عمارات کو فروغ ملے گا اور اس شعبے کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کیا جاسکے گا، جس کا سامنا ہمیں روز کرنا پڑتا ہے۔

ڈیجیٹلائزیشن کے تعمیراتی فوائد

بیلفور بِیٹی جیسی کمپنیوں کے لئے ڈیجیٹلائزیشن کے تعمیراتی فوائد بالکل واضح ہیں۔ وہ پہلے ہی اپنے تعمیراتی منصوبوںکے مشاورتی کاروبار میں کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور موبائل ٹیکنالوجی کااستعمال کررہی ہیں، جن کے بارے میں ان کا ماننا ہے کہ اس طرح تعمیراتی منصوبوں کو زیادہ مؤثر انداز میں پایہ تکمیل تک پہنچایا جاسکتا ہے۔ 

بیلفور بِیٹی کی خدمات میں بلڈنگ انفارمیشن ماڈلنگ (بی آئی ایم) کے منصوبوں کی 3D ڈیجیٹل نمائندگی کی شکل میں شیڈولنگ اور لاگت پر 4D تفصیل شامل ہے۔ ورچوئل ریئلٹی ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے کمپنی نے ریئل اسٹیٹ دفاتر اورتعمیراتی سائٹس کے مابین رابطے کی سہولت بھی فراہم کی ہے۔ ان کا الگورتھم ٹیلی ایمٹیکس گاڑیوں کو محفوظ انداز میں چلانے کے لیے استعمال ہورہا ہے جبکہ اعداد و شمار کے تجزیے سے انفرااسٹرکچر میںخامیوں کا پتہ چلایا جاتا ہے۔

تعمیراتی صنعت کا مستقبل

پاکستان، امریکا، چین اور آسٹریلیا سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں اسمارٹ سٹیز پر تیزی سے کام ہورہا ہے۔ انٹرنیٹ کی سہولت سے آراستہ یہ شہر خودکار انداز میں چلا کریں گے، جہاں ’ڈیجیٹل ٹریفک کنٹرول سسٹم‘ ٹریفک کی روانی کو کنٹرول کرے گا۔ ا سمارٹ عمارتوں کو کنٹرول کرنے کے لئے ٹریفک لائٹس، کار پارکوں، سڑکوں اور پلوں میں نصب سینسروں کی شکل میں ’’انٹیلی جنٹ ٹرانسپورٹ سسٹم ‘‘ (آئی ٹی ایس) کا استعمال ٹریفک حادثات میں کمی لائے گا۔ انٹرنیٹ آف تھنگس اسمارٹ شہروں میں ​​ خود کار، توانائی آمیز اور اسمارٹ عمارات کو بجلی فراہم کرے گا۔ 

تعمیراتی کام انتہائی تیز رفتار ہوجائے گا۔ 3D اور 4D پرنٹنگ ٹیکنالوجی سے عمارت کی تعمیر عام ہوجائے گی، بس نقشے کے مطابق تعمیراتی مٹیریل ڈالا اور عمارت اپنی مکمل رعنائیوں کے ساتھ تیار۔ اس کے علاوہ زلزلے یا نقل مکانی کی صورت میں مکانات کی ضرورت کو بآسانی پورا کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح تعمیراتی صنعت مستقبل میں ہونے والی نئی ایجادات کی مکمل میزبان ہوگی، جس کے لئے ہمیں قواعد و ضوابط اور مہارتوں کے لحاظ سے بھی تیار رہنا چاہئے۔

تعمیرات سے مزید