آپ آف لائن ہیں
پیر12؍شعبان المعظم 1441ھ 6؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

چین کا امریکی مصنوعات پر محصولات میں کمی کا وعدہ، عالمی حصص کی پرانی کیفیت میں واپسی

ہانگ کانگ:ہڈسن لوکیٹ

بیجنگ: رایان مک مورو

چین نے اعلان کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کے فیز ون کے نفاذ اور کورونا وائرس کی وباء پھیلنے سےاقتصادی بحران کو روکنے کے لئے اقدامات کے طور پر کچھ امریکی درآمدات پر محصولات کو نصف کردے گا۔

اس اقدام سے وائرس سے چین پر اثرات کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات کی وجہ سے شدید نقصانات سے دوچار ایشیائی بازار کے ساتھ حصص عالمی اسٹاک مارکیٹوں کی پرانی حالت میں واپسی کی حوصلہ افزائی ہوئی۔یورپی حصص کو فائدہ ہوا جبکہ امریکی مارکیٹ کےآغاز میںبھی تیزی آئی۔

چین کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ گزشتہ ماہ کی 14 تاریخ کو دونوں ممالک کے مابین طے ہونے والے معاہدے پر 14 فروری کو کچھ مصنوعات پر محصولات میں 5 فیصدسے 5.2 فیصد یا 5 سے 10 فیصد تک نصف کم کردی جائے گی۔کٹوتی کا اطلاق ستمبر میں چین کی جانب سے 1717 امریکی مصنوعات پر عائد تادیبی محصولات پر کیا جائے گا۔

امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر سے فیڈرل رجسٹر کو جاری کئے نوٹس کے مطابق امریکا نےبھی 14 فروری کو کچھ چینی مصنوعات پر محصولات کو 5.7 فیصد سے 15 فیصد تک کم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔امریکی ٹیرف گزشتہ سال ستمبر میں عائد کیا گیا تھا جب امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے چین سے کی جانے والی درآمدات پر تادیبی محصولات عائد کرنے کی دھمکی دی تھی۔چین کی وزارت خزانہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ چین بیک وقت اقتصادی اور تجارتی کشیدگی دور کرنے اور اقتصادی اور تجارتی تعاون کو بڑھانے کے لئے اپنے اقدامات کو اس کے مطابق بنائے گا۔

ترجمان نے مزید کہا کہ معاہدے پر بروقت عمل درآمد سے مارکیٹ کے اعتماد میں اضافہ ہوگا، امریکا کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو فروغ ملے گا اور عالمی معاشی ترقی میں مدد ملے گی۔

معاہدے کے مطابق چین 2017 کی سطح کے مقابلے میں دو سال کے دوران امریکا سے درآمدات میں 200 ملین ڈالر کا اضافہ کرے گا۔گزشتہ ماہ کورونا وائرس کی وباء پھوٹنے سے قبل متعدد ماہرین اقتصادیات اس نصب العین کو پرکشش سمجھتے تھے۔

گزشتہ ہفتے ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلیٰ معاشی مشیر لیری کڈلو نے اعتراف کیا کہ وباء پھیلنے کی وجہ سے خریداری میں تاخیر ہوسکتی ہے۔

جمعرات کو چین کا CSI 300 انڈیکس شنگھائی اور شینزین لسٹڈ اسٹاک 9.1 فیصد کے ساتھ بند ہوئے، جبکہ ٹوکیو کا ٹاپکس کا دن 1.2 فیصد پر ختم ہوا۔ہینگ سینگ کا ستمبر کے بعد سب سے اچھا دن رہا،جس کی شرح 6.2 فیصد بڑھی۔

یورپ کی سب سے بڑی کمپنیوں کا ٹریک رکھنے والی اسٹاکس 600 کی ابتدائی تجارت میں ایک نئی ریکارڈ بلندی ہوئی اور دوپہر کی ابتداء تک 3.0 فیصد تک کا اضافہ ہوا۔اس ہفتے انڈیکس میں 5.3 فیصد کا اضافہ ہوا اور 2016 کے آخر سے اس کی ہفتہ وار کارکردگی کا مظاہرہ جاری ہے۔کیپیٹل اکنامکس میں سینئر چائنا اکنامسٹ جولین ایوانز پرچرڈ نے کہا کہ چھوٹ دینے یا دیگر عارضی اقدامات کے استعمال کی بجائے کورونا وائرس نے محصولات میں مستقل کٹوتی کے چین کے فیصلے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں اسے براہ راست ترقی کو فروغ دینے کی کوشش کے طور پر نہیں دیکھ رہا،بلکہ میں اسے امریکا کو اشارہ دینے کے اقدام کے طور پر دیکھ رہا ہوں کہ ہم فوری طور پر درآمدات میں اضافے کے قابل نہیں ہیں لیکن ہم ابھی بھی معاہدے پر قائم ہیں۔

چائنیز آئل ایگزیکٹوز نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ انہیں فروری 2019 جب چین ہرروز 13 ملین بیرل تیل درآمد کررہا تھا کے مقابلے میں رواں ماہ گھریلو تیل کی کھپت میں کم از کم 25 فیصد کمی کی توقع ہے۔

جمعرات کے روز چین کے قومی ہیلتھ کمیشن نے کہا کہ ملک میں کورونا وائرس پھیلنے سے اموات کی تعداد 500 سے تجاوز کرگئی ہے، اس کے مصدقہ کیسز کی تعداد 28 ہزار سے زائد ہے۔ہلاکتوں کی بڑی تعداد وباء پھوٹنے کے مرکزوہان شہر اور اس کے صوبے ہوبی میں ہوئی ہے۔

چین کے مرکزی بینک نے اس ہفتے معیشت کو سہارا دینے کے لئے سیکڑوں اربوں ڈالر اپنے مالیاتی نظام میں داخل کردیے ہیں۔

چین کی وزارت خزانہ کے ترجمان نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ امریکا کے ساتھ محصولات میں اضافے کے خاتمے کے لئے کام کریں گے۔امریکا کے ساتھ معاہدے کے ایک حصے کے طور پر چین نے اپنی کرنسی کو قابو میں نہ رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔جمعرات کو اس اعلان کے بعد ملک میں ریمنبی کی تجارت ڈالر کے مقابلے میں 9719.6 رینمنبی ہموار رہی۔

(اس آرٹیکل کیلئے اضافی رپورٹنگ واشنگٹن میں جیمز پولیٹی اور ہانگ کانگ میں ٹام مچل نے کی)

فنانشل ٹائمز سے مزید