آپ آف لائن ہیں
جمعہ23؍ذی الحج 1441ھ14؍اگست2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مسلم ڈاکٹر پر بننے والی فلم آسکر کیلئے نامزد


 فلم ’دی کیو‘ کا ٹریلر


شام سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر امانی بلور پر بننے والی ڈاکیومنٹری ’دی کیو‘ کو آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔

32 سالہ خاتون ڈاکٹر امانی بلور نے شام میں حکومت مخالف گروہوں والے علاقے میں سرکاری افواج کے محاصرے کے دوران زخمی ہوجانے والوں کا علاج کیا اور عالمی دنیا میں انسانیت کی نئی تاریخ رقم کی ۔

ایک گھنٹے اور 47 منٹ پر مشتمل ڈاکیومنٹری’ دی کیو‘ کی نامزدگی کے لیے ڈاکٹر امانی اتوار کو لاس اینجلس میں ہونے والے آسکرز کی تقریب میں شرکت کے لیے ویزہ حاصل کر چکی ہیں۔

آسکر نامزدگی کےحوالے سے ڈاکٹر امانی کا کہنا ہے کہ وہ پُر امید ہیں کہ ان پر بننے والی ڈاکیومنٹری شام میں گزشتہ 9 سال سے جاری خانہ جنگی کی طرف عالمی دنیا کی توجہ مبذول کروانے میں کامیاب رہے گی۔

ڈاکیومنٹری فلم میں ڈاکٹر امانی کو موضوع بناتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ مشرقی غوطہ میں زیر زمین ’دی کیو‘ نامی  ایک اسپتال چلاتے ہوئے وہ  کیسے جنگ کے ماحول میں زخمی بچوں کو تحفظ دینے کے لیے جدوجہد کرتی رہیں ۔

خواتین کی قیادت میں چلنے والے اسپتال کو دکھاتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ مقامی لوگوں کو طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے اپنی زندگی کی پرواہ کئے بغیر باہمت خواتین انسانیت کے فروغ میں اپنا حصہ ڈال رہی ہیں۔

ناصرف یہ بلکہ بطور عورت انہیں یہ کام کرنے میں کن کن مسائل کا سامنا کرنا پڑا، اس پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق امانی کا کہنا ہے کہ ابھی تک وہ ان ہزاروں مریض بچوں کے صدمے سے باہر نہیں آسکیں جن کا وہ علاج کر چکی ہیں۔

ڈاکٹر امانی کا کہنا ہے کہ ’دی کیو‘ میں ان کا سب سے مشکل اور کٹھن وقت اگست 2013 کا ایک دن تھا جب زہریلی گیس کے حملے میں جاں بحق ہونے والے بچوں کی تعداد چار سو 26 تھی۔

وہ کہتی ہیں کہ انہیں آج بھی یاد ہے  کہ اس دن ’دی کیو‘ اسپتال میں ہر جگہ  لاشیں موجود تھیں، مزید لاشیں رکھنے کی جگہ نہیں تھی تو ہم نے لاشوں کو ایک دوسرے کے اوپر رکھ دیا تھا۔

امانی کے ذہن پر 11 سالہ عبدالرحمٰن نے عجیب نقوش چھوڑے کہ آج بھی انہیں پوری طرح یاد ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ عبدالرحمٰن کے اسکول میں بم شیل گرنے سے وہ اپنی دونوں ٹانگوں سے محروم ہوگیا تھا۔

جب وہ اسپتال لایا گیا اور ہوش میں آیا تو اس نے مجھ سے پوچھا کہ ’آپ نے میری ٹانگیں کیوں کاٹ دیں؟‘

ڈاکٹر امانی کا کہنا ہے کہ’ اس وقت آپ بچوں کی آنکھوں میں دیکھ کر انہیں ان کے سوالوں کا جواب نہیں دے سکتے تھے، وہ بچے تھے جو کچھ نہیں سمجھتے تھے، وہ ہمیشہ پوچھتے تھے کہ کیا ہو رہا ہے، انہیں سب سمجھانا بہت مشکل تھا۔‘

ڈاکٹر امانی کون ہیں ؟

32 سالہ ڈاکٹر امانی بلور بچوں کے امراض کی ماہر ہیں۔ باہمت ڈاکٹر امانی مشرقی غوطہ کے پانچ سالہ محاصرے کے بعد شامی حکومت کے دوبارہ قبضے میں جانے کے بعد سے ترکی میں رہائش پذیر ہیں۔

غیر معمولی انسانی خدمات کی بدولت امانی کونسل آف یورپ کی جانب سے’ راول والنبرگ ایوارڈ ‘ بھی اپنے نام کر چکی ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید