امریکی ریاست منیسوٹا کے شہر منیاپولس میں منگل کے روز فیڈرل ایجنٹس نے جس خاتون کو گاڑی سے کھینچ کر گھسیٹا، ان کا نام عالیہ رحمان ہے، ان کا کہنا ہے کہ اپنی معذوری کا بتانے پر بھی امریکی ایجنٹ نے مجھے جانور کی طرح گاڑی سے کھینچ کر نکالا۔
بنگلادیش سے تعلق رکھنے والی عالیہ رحمان سافٹ ویئر انجینیر ہیں، انہوں نے اے بی سی نیوز کو انٹرویو میں بتایا کہ وہ خود کو خوش قسمت سمجھتی ہیں کہ زندہ بچ گئیں۔
عالیہ رحمان نے کہا کہ وہ اپنے علاج کے لیے ٹرامیٹک برین انجری سینٹر جا رہی تھیں، نقاب پوش ایجنٹس نے یہ بتانے کے باوجود کہ وہ ڈس ایبل ہیں، انہیں جانور کی طرح گاڑی سے کھینچ کر نکالا۔
یہ واقعہ اس جگہ سے صرف دو بلاک دور پیش آیا، جہاں فیڈرل ایجنٹس نے 37 سالہ رینی نکول گُڈ کو قتل کیا تھا۔
عالیہ رحمان نے کہا کہ رینی گڈ کے قتل کے تناظر میں انہیں خوب اندازہ تھا، کہ انہیں مزاحمت نہیں کرنی ہے۔
فیڈرل ایجنٹس کی حراست کے دوران انہوں نے ڈاکٹرز سے معائنہ کروانے کی درخواست کی لیکن انہیں حراستی مرکز پہنچا دیا گیا۔ جہاں وہ بے ہوش ہوگئیں۔ بے ہوش ہونے پر انہیں اسپتال پہنچایا گیا، اسی دوران رینی گڈ کی ہلاکت کی دستاویزات سامنے آنے لگیں۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 7 جنوری کو ماری گئی خاتون رینی گڈ کے سینے، بازو اور سر میں گولیاں لگیں۔ دو گولیاں سینے میں دائیں جانب اور ایک گولی بائیں بازو میں لگی۔ موقع پر پہنچنے والے طبی عملے کا کہنا ہے کہ ابتدائی معائنے میں ہی پتہ چل گیا کہ رینی گڈ کی سانس ڈوب چکی ہے۔
خیال رہے کہ امریکا میں 37 سالہ رینی نکول گُڈ پر منیاپولس میں ہونے والی جان لیوا فائرنگ نے ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کو جنم دیا ہے اور اس کے سبب امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ ایجنسی (آئی سی ای) کو مزید سخت جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔