آپ آف لائن ہیں
اتوار11؍شعبان المعظم 1441ھ 5؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

انٹرویو :ارشد عزیز ملک، قیصر خان

عکّاسی :فیاض عزیز

انسپکٹر جنرل آف پولیس ،خیبر پختون خوا، ثناء اللہ عباسی کاتعلق صوبۂ سندھ کے شہر، لاڑکانہ سے ہے۔ ایف ایس سی تک وہیں تعلیم حاصل کی۔ ڈاکٹر بننا چاہتے تھے اور والدین کی بھی یہی خواہش تھی، لہٰذا سندھ میڈیکل کالج، کراچی میں داخلہ لے لیا۔ جناح اسپتال سے ہائوس جاب مکمل کی۔ ڈاکٹر بننے کے بعد پولیس افسر بننے کا شوق ہوا، تو سی ایس ایس کی تیاری شروع کردی۔ مقابلے کے امتحان میں کام یابی کے بعد 1988ء میں پولیس میں ملازمت اختیار کی اور پہلی پوسٹنگ بطور اے ایس پی، بہاول پور ہوئی۔ لودھراں ، ملتان اور اوکاڑہ میں بھی اے ایس پی رہے۔ ایف سی سینٹر، حیات آباد میں بھی خدمات انجام دیتے رہے۔ 

بعدازاں سندھ میں تبادلہ ہوگیا۔ ایس پی نوشہرو فیروز،دو بار ایس پی شکار پور اور دو بار ایس پی جیکب آباد رہے۔اس کے بعد کمانڈنٹ پی ٹی سی، ایس ایس پی ملیر بھی رہے۔ تین سال تک بطورڈسٹرکٹ پولیس آفیسر،صدر خدمات انجام دیتے رہے۔سی آئی اے میں بھی خدمات انجام دیں۔ڈی آئی جی لاڑکانہ، ڈی آئی جی، حیدر آباد ،ایڈیشنل آئی جی کائونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ، کراچی تعیّنات رہے۔ 

اِس دَوران معروف قوّال، امجد صابری کی ٹارگٹ کلنگ، امریکی سفارت کاروں اور اسماعیلیوں کی بس پر حملے سمیت درجنوں اہم کیسز میں ملوّث گروہوں کا سُراغ لگایا۔ چھے ماہ تک فیڈرل انویسٹی گیشن ایجینسی میں بھی فرائض انجام دئیے ، جہاں سے بطور انسپکٹر جنرل آف پولیس، گلگت بلتستان تبادلہ ہوا۔ چند ماہ بعد انسپکٹر جنرل آف پولیس، خیبر پختون خوا تعیّنات ہوئے اور اِن دنوں اِسی عُہدے پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔گزشتہ دنوں ثناء اللہ عباسی سے ایک خصوصی نشست ہوئی، جس کا احوال قارئین کی نذر ہے۔

کبھی پوسٹنگ کیلئے سفارش نہیں کروائی
جنگ پینل سے گفتگو کرتے ہوئے

س: خیبر پختون خوا کے جنوبی اضلاع میں ایک بار پھر دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، اس کے کیا محرّکات ہیں ؟

ج: دیکھیں جی، پاک افغان سرحد بہت طویل ہے، جس پر باڑ لگائی جا رہی ہے۔ یقیناً باڑ لگانا پاک فوج کا ایک بڑا کارنامہ ہے، اس سے سرحد پار سے دہشت گردوں کی نقل و حرکت روکنے میں مدد مل رہی ہے۔ نیز، پولیس کے دیگر سیکوریٹی اداروں کے ساتھ بہتر تعاون کے نتیجے میں امن وامان کی صُورتِ حال میں بہتری آئی ہے۔ ٹانک اور دیگر علاقوں میں بارہ سے زائد دہشت گرد مارے جا چُکے ہیں۔جنوبی وزیرستان میں کچھ مسائل ہیں، لیکن وہاں بھی دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں ہوتی رہتی ہیں۔

س:کیا دہشت گردی اور بھتّہ خوری میں افغانستان ملوّث ہے ؟

ج: دہشت گردی اور بھتّہ خوری کے نیٹ ورکس چلانے والے افغانستان میں بیٹھے ہیں۔ وہاں سے بھتّے کے لیے فون کالز آتی ہیں۔ خیبر پختون خوا سے دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کردئیے، لیکن بعض علاقوں میں اب بھی اُن کے کارندے موجود ہیں، تاہم کوئی منظّم گروہ باقی نہیں بچا۔یہاں اندرونی عناصر کے ساتھ بعض افغان شدّت پسند گروپ بھی بدامنی میں ملوّث رہے ہیں، جن میں دوسرے ممالک کے لوگ بھی شامل ہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ان گروپس میں شامل غیر مُلکی ہی تخریبی کارروائیوں کی منصوبہ بندی، ہدف کی نشان دہی اور وسائل کا بندوبست کرتے تھے۔

س: آپ پہلی مرتبہ خیبر پختون خوا میں تعیّنات ہوئے ہیں، صوبے کی پولیس کو کیسا پایا؟

ج: یہاں کی پولیس دوسرے صوبوں کی نسبت بہتر ہے۔دراصل، یہاں کا کلچر دیگر صوبوں سے مختلف ہے اور پولیس بھی اسی کلچر کا حصّہ ہے۔ یہاں سوسائٹی کا بہت اچھا اثر ہے۔ دوسرے صوبوں کے مقابلے میں یہاں کے لوگ رکھ رکھائو والے ہیں۔ روایتی طور پر مہمان نواز اور دوسروں کو عزّت واحترام دیتے ہیں۔

یہاں کی کچھ معاشرتی’’ ریڈ لائٹس‘‘ ہیں، جنھیں کوئی کراس نہیں کرتا۔کسی شہری کو تھانے یا کسی اور مقام پر گالی نہیں دی جا سکتی، ان تمام باتوں نے صوبے کی پولیس کو بھی بہتر بنایا ہے۔ یہاں پولیس ایکٹ بھی اسی لیے آسانی سے نافدہے کہ اس کے لیے ماحول پہلے سے تیار تھا۔صوبے کا تھانہ کلچر بھی بہت اچھا ہے، جہاں عوام کے ساتھ ظلم و زیادتی کے واقعات بہت کم ہوتے ہیں۔

س :آئی جی کی حیثیت سے کیا ترجیحات ہیں ؟

ج: قبائلی علاقوں کی فورسز کا خیبر پختون خوا پولیس میں انضمام میری سب سے بڑی ترجیح ہے۔ نیز، دہشت گردی، اسٹریٹ کرائمز،منشیّات کی روک تھام، پولیس اہل کاروں کی فلاح وبہبود بھی ترجیحات میں شامل ہیں۔لیوی اور خاصہ دار فورس کے 29ہزار اہل کاروں کو اُن کے رینکس کی بنیاد پر ترقّی دی جائے گی۔یعنی اُن کا جو گریڈ اور تن خواہ تھی، اُسی کے مطابق پولیس میں انضمام ہوگا۔

س : آپ نے ضم شدہ قبائلی علاقوں کا دورہ کیا؟ خاصہ داروں سے بھی ملاقات ہوئی؟

ج: جی ہاں، ابھی تک خیبر، مہمند اور اورکزئی کا دورہ کر چُکا ہوں۔ وہاں کے لوگ بہت اچھے ہیں۔ لیوی اور خاصہ داروں سے بھی ملاقاتیں کیں۔ اس دَوران محسوس کیا کہ وہ پولیس فورس کا حصّہ بننے کے منتظر ہیں۔ خاصہ داروں اور لیوی اہل کاروں کو تشویش تھی کہ وہ نہ جانے کب پولیس کا حصّہ بنیں گے، حکومت نے ہماری درخواست منظور کرتے ہوئے پولیس میں ضم کرنے کی منظوری دے کر اُن کی تشویش ختم کردی۔ لیوی اور خاصہ دار وں کو بہت جلد تربیت کے لیے بھیجا جائے گا۔

قبائل، خیبر پختون خوا میں انضمام کے بعد اپنے اپ کو آزاد تصوّر کررہے ہیں،کیوں کہ وہاں اکیس ویں صدی میں بھی ایف سی آر کا پُرانا قانون چل رہا تھا، البتہ چند لوگ اب بھی انضمام کی مخالفت کر رہے ہیں، لیکن اکثریت اس اقدام کی حامی ہے۔ جلد ہی ضم شدہ علاقوں میں پولیس لائینز اور تھانوں کی تعمیر شروع کی جائے گی۔ 

اس حوالے سے زمین کی خریداری کا عمل شروع ہوچُکا ہے۔ حکومت پہلے ہی 450ملین روپے کی گرانٹ جاری کر چُکی ہےاور مزید فنڈز بھی ریلیز ہوں گے۔ نیز، تین ہزار جوانوں کو پولیس میں بھرتی کیا جائے گا ، جب کہ قبائلی روایات مدّ ِنظر رکھتے ہوئے ان علاقوں میں خواتین پولیس اہل کار بھی تعیّنات کی جائیں گی۔

س: پولیس میں کس حد تک سیاسی مداخلت کا خاتمہ ہوا ہے ؟

ج: اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ خیبر پختون خوا پولیس سے سیاسی مداخلت کا یک سَر خاتمہ ہو چُکا ہے۔ آئی جی تقرّریوں اور تبادلوں سمیت تمام اُمور میں بااختیار ،مگر عوام کو جواب دہ ہے۔ پولیس کا بنیادی کام امن و امان کا قیام اور عوام کے جان و مال کا تحفّظ ہے، اس لیے اگر افسران، پولیس سربراہ کی مرضی کے مطابق نہیں ہوں گے، تو ایک بہترین ٹیم کی تشکیل ممکن نہیں ہوگی۔ 

مجھے ایک ماہ قبل خیبر پختون خوا میں آئی جی پی تعیّنات کیا گیا اور اس دَوران کسی نے تقرّری یا تبادلے کے لیے کوئی سفارش نہیں کی۔ البتہ مَیں تعیّناتیوں میں مشاورت پر یقین رکھتا ہوں۔ اگر سفارش ہو گی، تب بھی وہی کروں گا، جو محکمے کے فائدے میں ہوگا۔ پولیس ایکٹ 2017 ءسیکشن 17 (1) (2) کے تحت تمام ایڈمنسٹریٹیو اور آپریشنل اختیارات بالترتیب ایڈیشنل انسپکٹر جنرل ہیڈکوارٹرز اور ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آپریشنز کو سونپ دیئے ہیں۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرز اور ایس پیز کی تقرّری اور تعیّناتی میرٹ پر یقینی بنانے کے لیے پولیس مینجمنٹ بورڈ بھی تشکیل دیا ہے۔ بورڈ کے ممبران میں ایڈیشنل انسپکٹر جنرل ہیڈکوارٹرز، آپریشنز، ڈی آئی جی اسپیشل برانچ اور متعلقہ یونٹ کے سربراہ شامل ہوں گے، جب کہ انسپکٹر جنرل پولیس بورڈ کے چیئرمین ہوں گے۔

س:کیا ماضی کی طرح جزاو سزا کی پالیسی جاری رہے گی ؟

ج:جی ضرور۔ جو بھی افسر یا اہل کار کسی جرم میں ملوّث پایا گیا، اُسے پولیس میں نہیں رہنے دوں گا۔ مَیں سابق افسر کے دَور کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتا، لیکن ایسا بھی نہیں کہ گزشتہ دَور میں کوئی پولیس افسر یا اہل کار کسی جرم میں ملوّث رہا ہو اور اس کے بارے میں رپورٹس پر خاموشی اختیار کرلوں۔ ایسے افسران کے خلاف انکوائری ہوگی اور الزام ثابت ہونے پر سخت کارروائی بھی۔

س: کیا محکمے کو افسران اور سپاہیوں کی کمی کا سامنا ہے ؟

ج: سینئر پولیس افسران کی بے حد کمی ہے۔ اس حوالے سے وفاقی اور صوبائی حکومت سے رابطے میں ہیں۔ حکومت نے افسران کی کمی پوری کرنے کی یقین دہائی بھی کروائی ہے۔تاہم، مَیں معیاری پولیسنگ پر یقین رکھتا ہوں۔ نفری کم ہو، لیکن میرٹ پر اور دیانت دار ہو۔نیز، اچھی تربیت سے بھی اچھے نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

س: سپاہی کم ہیں اور دوسری جانب وی آئی پیز کے ساتھ ڈیوٹی دینے والوں کی تعداد بھی کم نہیں؟

ج: وزراء، ایم پی ایز اور دیگر افراد کے ساتھ ڈیوٹی دینے والے ضرورت سے زاید اہل کاروں کو واپس بلوا رہےہیں، لیکن اس حوالے سے کوئی خطرہ بھی مول نہیں لے سکتے۔ اس لیے جن افراد کو خطرات لاحق ہیں، اُن سے نفری واپس نہیں لی جا سکتی۔

س:کائونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور اسپیشل برانچ کو مزید فعال کرنے کا بھی کوئی پروگرام ہے ؟

ج: بالکل ہے۔بلاشبہ اسپیشل برانچ اور سی ٹی ڈی پر بہت کام کی ضرورت ہے۔ درحقیقت اسپیشل برانچ ایک بہت بڑا محکمہ ہے، جو حکومت کے کان اور آنکھوں کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی بہت زیادہ ذمّے داریاں ہیں، لہٰذا اُس کے پاس جدید سہولتیں ہونی چاہئیں تاکہ حکومت تک بروقت معلومات پہنچ سکیں۔ اس ضمن میں حکومت کو تجاویز ارسال کر رہے ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت پانچ سو اہل کاروں پر مشتمل کائونٹر ٹیررازم فورس قائم کی جانی تھی، جو ابھی تک نہیں بنی۔ کوشش کر رہے ہیں کہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس انسدادِ دہشت گردی فورس بھی جلد کام شروع کردے۔

س: دہشت گردی سے نمٹنے اور جرائم کی سائنسی بنیادوں پر تفتیش کے لیے پولیس کے پاس جدید آلات کی کمی کی رپورٹس بھی آتی رہتی ہیں ؟

ج: ایسا ہی ہے۔ تاہم، وزیرِ اعلی نے یقین دہائی کروائی ہے کہ محکمۂ پولیس کو دورِ جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے فنڈز جاری کیے جائیں گے۔ صوبہ دہشت گردی کے حوالے سے جن حالات سے گزرا ہے، اُس کے پیشِ نظر پولیس کو پہلے کی نسبت جدید آلات اور اسلحہ سے لیس کیا گیا ہے، جب کہ جرائم کی سائنسی بنیادوں پر تفتیش کے لیے بھی آلات فراہم کیے گئے ہیں۔ 

دہشت گردی اور بھتّہ خوری میں ملوّث گروہوں کا سُراغ لگانے اور اُن تک پہنچنے کے لیے کائونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے پاس جی ایس ایم لوکیٹرز ہیں، جن کے نہ صرف اچھے نتائج سامنے آئے ہیں، بلکہ اس قسم کے واقعات کا تقریبًا خاتمہ ہو چُکا ہے۔ علاوہ ازیں،بہت جلد آٹو میشن فرانزک لیب اور پشاور سیف سٹی پراجیکٹ پر بھی کام شروع ہو جائے گا۔ دراصل، خیبر پختون خوا پولیس آپریشنل کاموں میں تو بہت تیز ہے، لیکن مَیں تفتیش کے معیار سے مطمئن نہیں ہوں۔

س:صوبے، خصوصاً پشاور میں اسٹریٹ کرائمز پر قابو پانے کے لیے کیا اقدامات کر رہے ہیں؟

ج:یقیناً اسٹریٹ کرائمز ہو رہے ہیں، لیکن پولیس ان کی روک تھام کے لیے اقدامات بھی کر رہی ہے۔ آئے روز گینگ پکڑے جارہے ہیں۔دراصل اسٹریٹ کرائمز کا بہت سی چیزوں سے تعلق ہے۔ ایک تو یہ کہ اِس طرح کی زیادہ تر وارداتوں میں افغان مہاجرین ملوّث ہیں۔ پھر غربت اور بے روزگاری کی وجہ سے بھی جرائم میں اضافہ ہوتا ہے۔ سیف سٹی منصوبہ بھی اسٹریٹ کرائمز کی روک تھام کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

س: ڈی آر سی کا تجربہ کام یاب رہا۔ کیا مزید تھانوں میں بھی اسی طرح کی کمیٹیز قائم کی جا رہی ہیں ؟

ج: ہاں ڈی آرسی کی کارکردگی بہت بہتر رہی ہے۔ درجنوں کیسز ان کمیٹیز کے ذریعے حل ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے تھانوں اور عدالتوں پر بھی بوجھ کم ہوا ہے۔ اس نظام کو مزید وسعت دے رہے ہیں اور صوبے کے جن علاقوں میں ڈی آرسیز نہیں ہیں، وہاں جلد قائم کردی جائیں گی۔

س: پولیس افسران کو اختیارات تو بہت مل گئے، لیکن اُن کا احتساب کون کرے گا ؟

ج:عام لوگوں کا یہی خیال ہے کہ محکمۂ پولیس میں احتساب کا کوئی نظام نہیں اور پولیس آزاد ہو گئی ہے، لیکن ایسا نہیں ہے۔ اگر دیکھا جائے، تو باقی محکموں کے مقابلے میں پولیس میں سزا کا عمل بہت بہتر ہے۔ یہاں سب سے زیادہ سزائیں دی جاتی ہیں۔ پولیس کا احتساب تو بہت سے طریقوں سے ہوتا ہے۔ میڈیا،عدلیہ اور منتخب حکومت ہر وقت پولیس کا احتساب کرتے رہتے ہیں۔

نیز، سینٹرل پولیس آفس میں ایس پی کمپلینٹ تعیّنات کیا گیا ہے، جس کا ڈیٹا سپریم کورٹ بھی جاتا ہے۔ اس ضمن میں پولیس کمپلینٹ اتھارٹی اور پولیس سیفٹی کمیشن کو بھی فعال کررہے ہیں تاکہ پولیس سربراہ کا بھی احتساب ہوسکے۔ ایس پی کمپلینٹ کے پاس آنے والی شکایات کی بلاتفریق تحقیقات ہوتی ہیں اور ملوّث اہل کاروں کے خلاف کارروائیاں کی جاتی ہیں۔

س:صوبے میں بچّوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے۔ پولیس کہاں ہے؟

ج: پولیس بچّوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات کی روک تھام کے لیے این جی اوز کے ساتھ مل کر آگاہی مہم شروع کررہی ہے۔ پھر یہ کہ ایسے کیسز میں پولیس بہتر انویسٹی گیشن کر رہی ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ اس قسم کے کیسز کے ٹرائل بھی تیز ہوں۔ پولیس نے مانسہرہ اور نوشہرہ میں بچّوں کے ساتھ زیادتی کے دو کیسز کا سُراغ لگایا، ملزمان بھی گرفتار ہو چُکے، ڈی این اے بھی ہو چُکا، ہماری خواہش ہے، اب ٹرائل بھی جلد ہو تاکہ ملزمان کو سزائیں ملیں۔

س:صوبے میں منشیّات کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ اب تو طلبہ بھی اس کے عادی ہو رہے ہیں؟

ج :منشیّات کے استعمال کی روک تھام ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔ دراصل، منشیّات کی تیاری اور سپلائی قبائلی علاقوں سے ہوتی تھی، جہاں پولیس کا عمل دخل نہیں تھا، لیکن اب قبائلی علاقوں کے انضمام کے بعد پولیس وہاں کاروائیاں کر رہی ہے۔حال ہی میں پولیس نے ضلع خیبر میں آئس کے تین کارخانوں پر چھاپہ مار کر اُنھیں ختم کیا۔

س: کیا افغانستان میں بدامنی کے اثرات بھی صوبے پر پڑتے ہیں ؟

ج:جی بالکل۔ خیبر پختون خوا بنیادی طور پر دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن صوبہ ہے، جس کی سرحد افغانستان سے ملتی ہے۔ افغانستان کی شورش کے اثرات براہِ راست خیبر پختون خوا پر پڑتے ہیں۔ تاہم، پاک ،افغان سرحد پر پاک فوج کی بہترین حکمتِ عملی کی بدولت ان اثرات میں کافی حد تک کمی آئی ہے اور بندوبستی علاقوں میں صُورتِ حال بہتر ہوئی ہے۔ جہاں تک سیکیوریٹی ایشوز کا تعلق ہے، تو اس میں بین الاقوامی سیاست اور خطّے کے حالات بھی اہم ہوتے ہیں۔ اس لیے جب تک افغانستان سمیت خطّے میں امن نہیں ہوتا، خیبر پختون خوا میں بھی دہشت گردی کا سلسلہ چلتا رہے گا۔

س: اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں کچھ بتانا پسند کریں گے؟

ج: شادی پسند اور والدین کی مرضی سے ہوئی۔چوں کہ ڈاکٹر تھا، اس لیے کسی ڈاکٹر ہی سے شادی کا خواہش مند تھا، اللہ تعالیٰ نے خواہش پوری کردی۔ اہلیہ کراچی میں ملازمت کرتی ہیں۔ دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ بچّے کراچی میں اپنی والدہ کے ساتھ رہائش پذیر ہیں۔ 

پولیس کی ملازمت کی وجہ سے اکثر گھر سے باہر رہتا ہوں، اس لیے بچّوں کی پرورش کی زیادہ ذمّے داری اہلیہ کے سُپرد ہے، جو ملازمت کے ساتھ بچّوں کی بہترین پرورش بھی کر رہی ہیں۔ ایک بیٹا اور بیٹی کالج میں پڑھتے ہیں، جب کہ چھوٹا بیٹا ابھی اسکول میں ہے۔

س:بچّوں کو وقت کیسے دیتے ہیں ؟

ج:پولیس افسر ہونے کی وجہ سے زیادہ وقت بچّوں سے دُور ہی گزرتا ہے۔ میری مصروفیات بہت زیادہ ہیں، لیکن اس کے باوجود بچّے کبھی ناراض نہیں ہوتے۔ کبھی کبھار مجھے بھی اپنے ساتھ باہر لے جانے کی ضد کرتے ہیں، تو وقت نکال کر اُن کے ساتھ باہر گھومنے پِھرنے چلا جاتا ہوں۔

س:پولیس کی ملازمت سے تنگ تو نہیں ہوئے؟

ج: پولیس افسر کو ملازمت کے ساتھ گھریلو اور معاشرتی معاملات بھی دیکھنے ہوتے ہیں، جو ایک مشکل کام ہے۔ ڈیوٹی اتنا مصروف رکھتی ہے کہ گھر اور رشتے داروں کو وقت ہی نہیں دے پاتے۔ پولیس کی ملازمت میں ذہن ہر وقت مصروف رہتا ہے، کسی غمی خوشی کے موقعے پر بھی ڈیوٹی آڑے آجاتی ہے۔ چُھٹی کے دن بچّوں کے ساتھ کوئی پروگرام بناتا ہوں، لیکن بعض اوقات وہ بھی منسوخ کرنا پڑ جاتا ہے۔

س:کھانے میں کیا پسند ہے؟ خود بھی کچھ پکا لیتے ہیں ؟

ج: دال چاول بہت پسند ہے، باقی چیزیں بھی رکھی جائیں، تو خوشی سے کھا لیتا ہوں۔ ابتدا میں اپنے لیے دال چاول خود پکاتا تھا، بعد میں مصروفیات بڑھ گئیں، تو ملازمین کھانا پکانے لگے۔

س: آپ کی ایک اچھی اور بُری بات کیا ہے؟

ج :اچھی بات تو یہ ہے کہ ہر کام میرٹ پر کرتا ہوں۔ حال میں زندگی گزارتا ہوں اور مستقبل کے معاملات میں اللہ پر یقین رکھتا ہوں۔ البتہ برائی سے متعلق دیگر افراد ہی بتا سکتے ہیں۔

س: آپ کے دوست ہیں؟ اور کیا اُنہیں وقت دے پاتے ہیں؟

ج: اسکول کے زمانے کے بڑے اچھے دوست ہیں اور اُن کی خُوبی یہ ہے کہ مَیں جتنا بھی اُن سے دُور رہوں، وہ ناراض نہیں ہوتے۔ اسکول، کالج اور یونی ورسٹی کے دوستوں سے ابھی تک رابطہ ہے، لیکن اسکول کے زمانے کے دوست زیادہ اچھے لگتے ہیں۔جب بور ہوتا ہوں، تو بچپن کے دوستوں کو فون کرکے گپ شپ لگالیتا ہوں۔ 

دوست بھی میرے آئی جی بننے پر بہت خوش ہیں۔ وہ اِس بات پر بھی خوش ہیں کہ مَیں آئی جی بننے کے بعد بھی اُنہیں یاد کرتا ہوں۔ ایک بار اسکول کے زمانے کے ایک دوست کی یاد آئی، تو چھے ماہ تک اُس کا موبائل نمبر تلاش کرتا رہا۔ نمبر ملنے کے بعد اُس کے ساتھ خُوب گپ شپ ہوئی اور بچپن کی یادیں تازہ کیں۔ اکثر اپنے پرانے اساتذہ کے بارے میں بھی پوچھتا رہتا ہوں۔

س : کیا ہمیشہ ہی سنجیدہ رہتے ہیں؟ کبھی ہنستے بھی ہیں ؟

ج: بچپن ہی سے زیادہ باتونی نہیں ہوں، خاموش رہنا پسند ہے اور ضرورت کے مطابق ہی بات کرتا ہوں۔ البتہ جب کبھی کوئی خوشی کا موقع آتا ہے یا بیوی بچّوں کے ساتھ ہوتا ہوں، تو ہنستا مُسکراتا بھی ہوں۔

س: زندگی کا حاصل کیا ہے؟

ج: وقت کے ساتھ نظریات تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ پچاس سال کی عُمر میں یہ احساس ہوتا ہے کہ آج جن باتوں کا ادراک ہوا ہے، کاش اٹھارہ سال کی عُمر میں ہو جاتا۔ جوانی میں پروفیشنل طور پر ترقّی کرنے اور آگے بڑھنے کی خواہش زیادہ ہوتی ہے، البتہ اب بھی اپنی جوانی کو بہت یاد کرتا ہوں ۔بس، یہی زندگی ہے۔

س:زندگی میں کس چیز کو اہمیت دیتے ہیں، عزّت، دولت یا شہرت؟

ج:عزّت کو فوقیت دیتا ہوں، لیکن ہمیشہ اللہ کا نام لے کر محنت کرتا ہوں اور دُعا کرتا ہوں کہ’’ اے اللہ! مَیں نے اپنا فرض پورا کردیا، اب نتائج آپ بہتر بنائیں۔‘‘

س: موسم، رنگ، پھول اور لباس میں کیا پسند ہے؟

ج: سردی پسند ہے، جس میں کوٹ اور سویٹر پہن لیتا ہوں، تو اچھا محسوس کرتا ہوں۔ کپڑے جو مل جائیں، پہن لیتا ہوں۔ البتہ زیادہ تر شلوار قمیص پہنتا ہوں۔ گلاب بہت پسند ہے، میرے سامنے جتنے بھی رنگ رکھے جائیں، بلیک رنگ ہی پسند کروں گا ۔

س : کپڑوں وغیرہ کی خریداری اور انتخاب کون کرتا ہے؟

ج:عام طور پر دوست میرے لیے جو کپڑے لاتے ہیں، وہی بنوا لیتا ہوں۔ بیوی بھی میرے لیے شاپنگ کرتی ہیں۔ البتہ عید کی خریداری خود کرتا ہوں۔

س: کبھی اہلیہ سے لڑائی جھگڑا ہوا؟ گھر میں کس کی چلتی ہے ؟

ج : مَیں اکثر الگ تھلگ اور خاموش رہتا ہوں، اس لیے لڑائی جھگڑا نہیں ہوتا۔ گھر میں اہلیہ ہی کی چلتی ہے، کیوں کہ وہی تو گھر اور بچّوں کا خیال رکھتی ہیں۔

س:صبح کا آغاز کیسے ہوتا ہے؟

ج: صبح چھے بجے اُٹھتا ہوں اور اُٹھتے ہی پہلا کام بچّوں کو کال کرنا ہوتا ہے۔ روزانہ دو تین بار بچّوں کو فون کر کے خیریت دریافت کرتا ہوں۔

س: فلمیں تو دیکھتے ہوں گے؟

ج: جوانی میں اُردو فلمیں دیکھتا تھا، اب دیکھنے کا موقع نہیں ملتا، صرف میوزک سُنتا ہوں اور اس میں بھی کچھ خاص پسند نہیں، جو مل جائے، سُن لیتا ہوں۔ گاڑی میں بھی میوزک سُنتا ہوں اور واک کرتے وقت بھی۔

س :بچّوں کو آپ کی کون سی خُوبی بھاتی ہے ؟

ج:بچّے کہتے ہیں’’ پاپا! عام لوگوں میں آپ کے بارے میں تاثر ہے کہ آپ بہت دیانت دار ہیں‘‘، میری یہی دیانت داری اُنہیں اچھی لگتی ہے۔ بچّے مجھ سے بہت زیادہ متاثر ہیں۔ بیوی اور بچّے مجھ سے کبھی ناراض نہیں ہوتے۔ اصل بات یہ ہے کہ اگر بندہ کم بولے، تو زندگی زیادہ آسان ہو جاتی ہے۔

س:دورانِ ملازمت رشوت کی پیش کش تو ہوئی ہوگی؟

ج:کسی نے براہِ راست کبھی رشوت کی پیش کش نہیں کی، لیکن جب اے ایس پی تھا، اُس وقت بعض اوقات محسوس ہوا کہ کچھ لوگ رشوت دینا چاہتے ہیں، لیکن اُن کی ہمّت نہیں ہو رہی۔دراصل، اگر ملازمت کی ابتدا ہی میں بندہ ٹھیک رہے، کرپشن اور رشوت سے بچنے کی کوشش کرے، تو لوگوں کو خود بخود اُس کی دیانت داری کا پتا چل جاتا ہے۔ 

پھر کوئی اُسے رشوت دینے کی کوشش نہیں کرتا۔ مَیں نے ہمیشہ کوشش کی کہ ہر کام میرٹ پر ہو، کیوں کہ میری تمام تعیّناتیاں میرٹ ہی پر ہوئی ہیں۔ زندگی میں کبھی بھی پوسٹنگ کے لیے سفارش نہیں کروائی۔

س:آپ کا کیریئر بہت صاف ستھرا ہے۔ ایک آئی جی پی کی تن خوا ہ کتنی ہے اور گھر کس طرح چلتا ہے ؟

ج: میری مختصر فیملی ہے اور ساڑھے پانچ لاکھ روپے تن خواہ ہے۔ اس میں میرا گھر بڑے اچھے انداز میں چل رہا ہے۔ خرچے کم ہوں، تو زندگی آسانی سے گزر جاتی ہے۔ دیانت داری کا فائدہ یہ ہے کہ مجھے ہر جگہ عزّت ملی، عُہدہ ملا۔ اس لیے مَیں تو اسی کو اچھا سمجھتا ہوں۔پھر یہ کہ میرا کوئی ایسا شوق بھی نہیں، جس پر زیادہ خرچے ہوتے ہوں۔ زیادہ سوشل بھی نہیں ہوں، اس لیے اخراجات کنٹرول میں رہتے ہیں۔ ویسے میری پہلی تن خواہ ساڑھے چار سو روپے تھی۔

س:پاکستان کے بارے میں کیا کہیں گے ؟

ج: بہت سے ممالک گیا ہوں، پاکستان جیسا اچھا مُلک کہیں نہیں دیکھا۔ لیکن بدقسمتی سے یہاں جو کچھ ہو رہا ہے، اس سے بہت دُکھ ہوتا ہے۔ اس کا انحصار عوام پر بھی ہے کہ وہ اسے کس طرف لے جاتے ہیں۔ بس دُعا ہے اور کوشش بھی کہ ہمارا مُلک زیادہ سے زیادہ ترقّی کرے۔

س:سیر وسیّاحت کا شوق ہے؟

ج:پہلے تو نہیں جاتا تھا، لیکن اب بچّے بڑے ہو گئے ہیں، تو وہ دبائو ڈالتے ہیں کہ ہمارے ساتھ سیر وتفریح کے لیے چلیں۔تو چلا جاتا ہوں۔ ویسے ابھی پہلی بار بچّوں کے ساتھ عُمرے کی ادائی کے لیے بھی گیا تھا۔

س: آئی جی بننے میں تقدیر کا کتنا عمل دخل سمجھتے ہیں ؟

ج: مستقبل کے بارے میں سوچ سمجھ کر فیصلہ کرتا ہوں اور پھر اللہ تعالی سے دُعا کرتا ہوں کہ’’ اے اللہ! وہ فیصلہ کر دے، جس میں میری بہتری، خوشی اور عزّت ہو کہ تُو ہی بہتر جانتا ہے اور مَیں نے تیرے سِوا کسی کے دَر پر جا کر مانگنا بھی نہیں۔‘‘

سنڈے میگزین سے مزید