آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
موجودہ پاکستان کی مذہبی، سیاسی جماعتوں کی صورت حال دیکھ کر مجھے 1977ءکی صورت حال یاد آجاتی ہے۔ مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کے پورے دور حکومت میں اپوزیشن کا کردار اسبملی میں مذہبی رہنماو ¿ں مولانا شاہ احمد نورانی، مفتی محمود اور پروفیسر عبدالغفور احمد نے ادا کیا۔ لیکن جب بھٹو صاحب نے خلاف توقع 1977ءکے آغاز میں انتخابات کا اعلان کیا تو ایک وسیع تر اپوزیشن اتحاد کی ضرورت محسوس ہوئی، کیونکہ اس وقت اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کا مشترکہ پلیٹ فارم متحدہ جمہوری محاذ (یو ڈی ایف) ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر ختم ہوچکا تھا۔ ائرمارشل اصغر خان علیحدہ پرواز (سولو فلائٹ) کا ارادہ کرچکے تھے، پیر پگارا کو جماعت اسلامی سے شکوہ تھا، جماعت اسلامی بھی اپنی برتری ثابت کرنے پر تلی ہوئی تھی، اس صورت حال میں مولانا شاہ احمد نورانی نے جے یو پی کے مرکزی رہنما رفیق احمد باجوہ ایڈووکیٹ کے گھر لاہور میں اپوزیشن لیڈروں کا اجلاس طلب کیا۔ اخبارات کے تجزیئے یہی کہہ رہے تھے کہ اپوزیشن لیڈران کا اکٹھا ہونا مشکل ہے۔ مسٹر بھٹو اپوزیشن کے ایک ایک لیڈر کا مذاق اڑا رہے تھے، انہیں یقین تھا کہ یہ مذہبی رہنما کبھی اکٹھے نہیں ہوں گے۔ مولانا کوثر نیازی جو مذہبی امور کے وفاقی وزیر تھے اور جماعت اسلامی کی تربیت کے مرحلوں سے گزر کر آئے تھے، انہوں نے ایک موقع

پر کہا تھا کہ یہ مذہبی لیڈر ایک دوسرے کے پیچھے نماز تک نہیں پڑھتے اور ایک دوسرے کو کافر اور مشرک کہتے ہیں، کیسے اکٹھے ہوسکتے ہیں۔ مفتی محمود نے مولانا نورانی کے پیچھے نماز پڑھ کر مولانا کوثر نیازی کے چیلنج کا جواب دے دیا تو مولانا کوثر نیازی نے بیان دیا تھا ”مفتی صاحب نہیں، مولانا نورانی مفتی محمود کے پیچھے نماز پڑھیں تو مانوں گا“۔ مولانا نورانی نے کہاں نماز پڑھنی تھی، اس طرح کوثر نیازی کو تقریباً ہر تقریر میں مخالف مذہبی رہنماو ¿ں کو تنقید کا نشانہ بنانے کا موقع ملتا رہا۔ اس صورت حال میں لاہور شادباغ میں رفیق احمد باجوہ کے گھر میں ہونے والا اجلاس بہت اہمیت اختیار کرگیا تھا، اس وقت الیکٹرانک میڈیا نہیں تھا صرف اخبار نویس ہوتے تھے لہٰذا اخبار نویسوں کا ایک جھمگٹا باہر تھا اور ایک ایک لمحہ قیمتی تھا۔ اخبار نویسوں کے گروپ میں کچھ لوگ ایجنسیوں کے نمائندے بھی ہوتے ہیں لہٰذا حکومت کو بھی خبریں پہنچ رہی تھیں۔ اندر کی صورت حال مولانا نورانی اور مولانا نیازی یوں بتاتے تھے کہ پیر صاحب پگارا کو ائرمارشل اصغر خان کی قیادت قبول نہیں تھی اور ائرمارشل اصغر خان مفتی محمود کی قیادت پر زیادہ خوش نہیں تھے۔ پیر پگارا یو ڈی ایف (متحدہ جمہوری محاذ) کے صدر تھے لہٰذا ان کی خواہش تھی کہ انہیں صدر بنایا جائے لیکن نوابزادہ نصراللہ خان اس پر خوش نہیں تھے۔ اس پر مولانا نورانی نے کہا کہ مفتی محمود صاحب کی سابقہ جماعت (یعنی جمعیت علماءہند) پر تحریک پاکستان کی مخالفت کرنے کا الزام موجود ہے اور ہمارے مخالفین یہ الزام لگائیں گے لیکن ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے، لہٰذا میں مفتی محمود صاحب کو صدر ماننے کے لئے تیار ہوں۔ سارے شرکاءحیرت سے مولانا نورانی کو دیکھنے لگ گئے۔ پیر پگارا اور ائرمارشل اصغر خان کو سب سے زیادہ حیرت ہوئی۔ اس پر سوال یہ پیدا ہوا کہ جماعت کو متحرک کرنے کے لئے سیکرٹری جنرل کون ہو؟ جماعت اسلامی کی خواہش تھی کہ یہ عہدہ اس کو ملنا چاہئے، ائرمارشل اصغر خان نے واضح طور پر کہا کہ یہ عہدہ مولانا نورانی کی جماعت کو ملنا چاہئے۔ بحث نے طول پکڑا اور ایک مرحلہ پر ایسا لگا کہ اتحاد نہیں ہوگا تو مولانا نیازی غصے میں آگئے۔ وہ بتاتے تھے کہ میں اپنا ڈنڈا لے کر دروازے پر کھڑا ہوگیا اور اونچی آواز میں سب کو بتا دیا کہ آپ لوگ اتحاد کرکے ہی اس کمرے سے باہر نکل سکتے ہیں، اگر اتحاد کئے بغیر کسی نے اس کمرے سے باہر نکلنے کی کوشش کی تو میں اس کا سر پھوڑ دوں گا۔ پتہ نہیں مولانا نیازی کی اس قلندرانہ ادا پر قہقہے گونجے یا سراسیمگی پھیلی۔ لیکن یہ ضرور ہوا کہ اس دن جب اپوزیشن کے قائدین باہر نکلے تو وہ یہ فیصلہ کرکے نکلے کہ نئے اپوزیشن اتحاد کا نام ”پاکستان قومی اتحاد“ (پاکستانی نیشنل الائنس، یعنی پی این اے) ہوگا اس کے صدر مفتی محمود، نائب صدر نوابزادہ نصراللہ خان، سیکرٹری جنرل رفیق احمد باجوہ اور پارلیمانی بورڈ کے سربراہ پیرپگارا ہوں گے۔ اس شام کو مسٹر بھٹو حیرت میں مبتلا ہوچکے تھے اور اپوزیشن اتحاد کی وجہ سے مذہبی طبقہ ایک نئی اٹھان، ایک نئی امنگ کے ساتھ میدان عمل میں آچکا تھا۔ ہر طرف ایک نیا جذبہ تھا۔ بھٹو صاحب نے اپنے دور حکومت میں اپوزیشن کے ساتھ جو سلوک روا رکھا تھا اور اپوزیشن کا ساتھ دینے والے اخبارات اور قومی رسائل کو جس طرح بندش کا اور سرکاری جبر کا سامنا کرنا پڑا تھا، اس کی وجہ سے پاکستان قومی اتحاد کا قیام خوش گوار ہوا کا جھونکا ثابت ہوا۔ اس نے انتخابی نشان ”ہل“ چُنا۔ ”ہل“ پاکستان کے ہر کسان کے استعمال کی چیز ہے، اس لئے فوری طور پر یہ نشان مقبول ہوگیا۔ ائرمارشل اصغر خان کراچی پہنچے تو کراچی ائرپورٹ سے لے کر شہر کے وسط تک انسانی سروں کا سمندر موجزن تھا۔ اس وقت ایم کیو ایم کا وجود نہیں تھا، اس لئے کراچی پر جے یو پی اور جماعت اسلامی کا راج تھا۔ لاہور میں چوہدری ظہور الٰہی امیدوار تھے۔ پی پی پی نے طعنہ دیا کہ چوہدری ظہور الٰہی سپاہی تھے، صنعتکار کیسے بن گئے؟ قومی اتحاد نے نعرہ دیا ”اللہ کا سپاہی، ظہور الٰہی“ مولانا نورانی نے مفتی محمود کو مشورہ دیا کہ ”لاہوریئے“ آپ کو داتا دربار پر حاضری دیئے بغیر ووٹ نہیں دیں گے، لہٰذا مفتی محمود حضرت داتا گنج بخشؒ کے مزار پر گئے، چادر چڑھائی، تبرک کی چادر گلے میں لٹکائی اور دیگ نذر کی۔ میں نے بڑے بڑے دیوبندی علماءکو پُرجوش انداز میں ”نعرہ ¿ رسالت یا رسول اللہ“ کہتے ہوئے سنا اور دیکھا۔ مذہبی اور مسلکی یکجہتی اور یگانگت کا ایک ماحول تھا، لیکن مسٹر بھٹو کے منظر سے ہٹنے کے بعد مولانا نورانی اور ائرمارشل اصغر خان اکیلے رہ گئے اور تقریباً باقی سارے جنرل ضیاءالحق کی کابینہ میں شامل ہوگئے۔ لیکن عوام میں اعتماد کھو دیا۔ صورت حال کچھ یوں ہوئی:
پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں
اس عاشقی میں عزت سادات بھی گئی
جنرل پرویز مشرف کے دور میں امریکی مخالفت کے نام پر ایم ایم اے نے دو صوبوں میں حکومت بنائی لیکن معمولی اور اچھی کارکردگی نہ دکھا سکی اور اب بات یہاں تک پہنچی ہے کہ سیاسی جماعتوں سے مذہبی جماعتیں سیٹوں کی ایڈجسٹمنٹ کے نام پر ”خیرات“ مانگ رہی ہیں۔
تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا
ورنہ گلشن میں علاج تنگیِ ¿ داماں بھی ہے

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں