آپ آف لائن ہیں
ہفتہ یکم صفرالمظفر 1442ھ19؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

عام آدمی پارٹی نے 2015کی طرح 2020میں بھی دہلی کی اسمبلی میں کامیابی حاصل کرلی ہے اور دائیں بازو کی انتہا پسند جماعت بھارتیا جنتا پارٹی کو بھاری شکست دی ہے۔ آیئے دیکھتے ہیں کہ یہ دہلی کی اسمبلی ہے کیا اور اس میں جماعتوں کا کیا کردار رہا ہے۔

دہلی کی قانون ساز اسمبلی جسے ودھان سبھا کہا جاتا ہے، ایک یک ایوانی مقننہ ہے،جب کہ دہلی بھارت کے آٹھ یونین یا وفاقی علاقوں میں سے ایک ہے۔ دہلی کی مقننہ اسمبلی میں ستر منتخب ارکان ہوتے ہیں۔ اس اسمبلی کو سب سے پہلے 1952میں تشکیل دیا گیا تھا ،جس کے پہلے وزیراعلیٰ چوہدری براہم پرکاش تھے جو اس وقت صرف پینتیس سال کے تھے اور تین برس یعنی 1955تک دہلی کے وزیر اعلیٰ رہے۔

1953میں بھارت میں انتظامی اکائیوں کی تشکیل نو کے لیے ایک کمیشن بنایا گیا تھا جس کی سربراہی جسٹس فضل علی نے کی تھی، اسی لیے اسے فضل علی کمیشن بھی کہا جاتا ہے۔ اس کمیشن کی سفارشات پر عمل کرتے ہوئے پورے بھارت میں نئے صوبے بنائے گئے تھے۔ کمیشن نے یہ تجویز کیا تھا کہ زیادہ تر لسانی بنیادوں پر چودہ ریاستیں یا صوبے اور چھ علاقے تشکیل دیئے جائیں۔

اسی کی روشنی میں 1956میں ایک نیا قانون منظور کیا گیا جس کے تحت دہلی کو یونین یا وفاقی علاقے کا درجہ دے دیا گیا تھا جس کا انتظام صدر بھارت کے ہاتھ میں تھا۔ پھر 1957میں یہاں دہلی میونسپل کارپوریشن بنائی گئی جو 1990تک چلی اس طرح دہلی کے پہلے انتخابات 1951میں ہوئے تھے،تقریباً چالیس سال کے وقفے کے بعد 1990میں ودھان سبھا کا قانون منظور ہوا جس کے تحت 1993میں پہلے انتخابات منعقد ہوئے۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ جب دہلی کو ودھان سبھا بنانے کا فیصلہ ہوا، اس وقت 1990میں جنتا دل کے وی پی سنگھ وزیراعظم تھے اور جب پہلے انتخابات 1993میں ہوئے تو اس وقت کانگریس کے وزیراعظم پر نرسمہا رائو تھے لیکن دہلی کی اسمبلی میں بی جے پی جیت گئی اور دہلی کے وزیراعلیٰ پانچ سال میں تین تبدیل ہوئے، جن میں 1998کے آخری دو مہینے بی جے پی کی رہ نما سشما سوراج وزیراعلیٰ بنی تھیں۔ لیکن دہلی کی حالیہ تاریخ میں سب سے طویل عرصہ کانگریس کی شیلا ڈکشٹ تھیں ،جنہوں نے پندرہ سال حکومت کی یعنی 1998سے 2013 تک تین بار کانگریس نے دہلی کے انتخابات جیتے تھے۔ 

شیلا ڈکشٹ جب وزیراعلیٰ بنی تھیں تو ساٹھ برس کی تھیں اور پچھتر سال تک دہلی کی وزیراعلیٰ رہیں۔ انہیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ کسی بھی بھارتی ریاست کی سب سے طویل عرصہ مسلسل وزیراعلیٰ رہیں۔پھر اچانک دہلی کے منظر پر ایک نئی پارٹی نمودار ہوئی جس کا نام’’ عام آدمی‘‘ پارٹی رکھا گیا اور جس کے سربراہ کیجری وال بنے۔ یہ کیجری وال بھی دل چسپ شخصیت کے مالک ہیں، جو 1995سے 2005تک انکم ٹیکس کمشنر رہے پھر یہ بدعنوانی کے خلاف ایک تحریک میں شامل ہوگئے اور استعفیٰ دے کر انّا ہزارے کے ساتھ شامل رہے۔ 

انّا ہزارے ایک سماجی کارکن ہیں جو کرن بیدی کے ساتھ مل کر بدعنوانی کے خلاف تحریک چلا رہے تھے۔ کرن بیدی جو اس وقت ستر سال کی ہیں پینتیس سال پولیس سروس میں کام کرکے 2007میں ریٹائر ہوئیں اور پھر انّا ہزارے کے ساتھ کام کیا مگر 2015میں بی جے پی میں شامل ہوگئیں۔اس طرح یہ تین لوگوں کا گروپ تھا یعنی انّا ہزارے، کرن بیدی اور مگر کیجری وال ان میں سے سب سے بہتر ثابت ہوئے انہوں نے 2012میں عام آدمی پارٹی بنائی اور 2013میں دہلی اسمبلی کے انتخابات جیت کر وزیراعلیٰ بن گئے۔2013کے انتخابات بڑے سخت تھے کیوں کہ ستر میں اکتیس نشستیں بی جے پی جیت چکی تھی اور عام آدمی پارٹی کی اٹھائیس نشستیں تھیں جب کہ کانگریس کا صفایا ہوگیا تھا۔ کیجری وال نے اقلیتی حکومت بنائی اور پھر 2015میں دوبارہ انتخابات ہوئے تو عام آدمی پارٹی کو ستر میں سے 67نشستیں مل گئیں۔اب پانچ سال بعد انتخابات ہوئے اور عام آدمی پارٹی ایک مرتبہ پھر جیت چکی ہے۔ اس جیت کے پیچھے دو بڑی وجوہ ہیں۔ 

ایک تو عام آدمی پارٹی کا شان دار کام اس نے پچھلے چھ سال میں خاص طور پر تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بہت کام کیا ہے۔ مثلاً محلہ کلینک قائم کئے گئے جنہوں نے دہلی کے عوام کو بہت فائدہ پہنچایا۔ ان کی تعداد سیکڑوں کلینک تک پہنچ گئی، گو کہ عام آدمی کا وعدہ کل ایک ہزار دوا خانے قائم کرنے کا تھا۔پھر انہوں نے پوری دلی میں خواتین کے لیے مفت بس سروس شروع کی۔ اسی طرح سرکاری اسکولوں کا نظام بہت بہتر کرلیا گیا۔ 

ان سب کاموں کے کیجری وال اور ان کی جماعت کی عوام میں ساکھ بہت بہتر ہوئی اور وہ یہ انتخابات بآسانی جیت گئے مگر اس کے علاوہ ایک دو وجوہ اور بھی تھیں۔ بی جے پی جو پچھلے بائیس سال سے دہلی کی حکومت نہیں بنا سکی ہے اس بار بھی ناکام رہی اور اس کی سب سے بڑی وجہ اس کی ہندو انتہا پسندی، مذہب کا سیاست میں بے تحاشہ استعمال، اقلیتی گروہوں کی طرف معاندانہ رویہ اور خود بی جے پی کی سرپرستی میں سگھ پری وار کو کھلی چھوٹ ہے۔

سنگھ پری وار جو جن سنگھ اور راشٹریہ سیوک سنگھ کے علاوہ بجرنگ دل وغیرہ پر مشتمل ہے ایک فاشسٹ خاندان ہے جو سیاست میں ہندوئوں کی بالادستی چاہتا ہے اور اس کے نشانے پر صرف مسلمان ہی نہیں دیگر اقلیتیں بھی ہیں مثلاً مسیحی، اور سنکھ وغیرہ۔پچھلے ایک سال میں بی جے پی نے جو فرقہ وارانہ سیاست کی ہے اس کے نقصان اب واضح ہو کر سامنے آرہے ہیں۔ ویسے تو خود 2019میں ہونے والے عام انتخابات کے نتائج خاصے متنازع تھے اور کسی کو بھی بی جے پی کی اتنی بڑی جیت کی امید نہیں تھی کہ وہ مرکز میں بھاری اکثریت کے ساتھ حکومت بنائے گی اسی لیے کئی مبصرین کا خیال ہے کہ 2019کے عام انتخابات میں بی جے پی نے ووٹ گننے کی مشینوں میں دھاندلی کرائی۔

اب دہلی کی ریاستی اسمبلی میں بی جے پی کو شکست سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ بی جے پی کی ہندو توا پالیسی ہر جگہ کام یاب نہیں ہوسکتی ویسے بھی دہلی میں شاہین باغ کے علاقے میں بہت بڑی تعداد میں لوگوں نےدھرنا دیا ہوا ہے کہ شہریت کا ترمیمی بل واپس لیا جائے۔اب ایک نظر بی جے پی کی سیاست پر بھی ڈال لیتے ہیں۔ یہ جماعت اس وقت وجود میں آئی تھی جب 1980 میں سابقہ جنتا پارٹی ٹوٹی تھی۔ دراصل بی جے پی کے ڈانڈے راشٹریہ سیوک سنگھ سے ملتے ہیں جس کا ترجمہ’’ہم قومی رضا کار تنظیم‘‘کے طور پر کرسکتے ہیں۔ 

1977 میں جب اندرا گاندھی کے ہنگامی حالات کے خاتمے کے بعد عام انتخابات ہونے والے تھے تو جن سنگھ نے کئی دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر جنتا پارٹی بنائی تھی جس نے کانگریس کو شکست دی تھی،مگر 1980میں جنتا پارٹی ٹوٹ گئی اور جن سنگھ کے ارکان نے اس سے الگ ہوکر بھارتیا جنتا پارٹی کی بنیاد رکھی تھی مگر وہ 1984کے انتخابات میں صرف دو نشستیں حاصل کر پائی تھی پھر بی جے پی نے رام جنم بھومی کی تحریک چلائی اور کئی ریاستی انتخابات میں کام یابیاں حاصل کیں۔

1996تک بی جے پی بھارت کی لوک سبھا میں سب سے بڑی جماعت بن چکی تھی مگر اسے حکومت بنانے کی اکثریت حاصل نہ ہوئی۔ 1998میں بی جے پی نے این ڈی اے نامی اتحاد کے ساتھ مرکزی حکومت بنائی تھی جو واجپائی کی سربراہی میں 2004 تک چلی۔ 2004 سے 2014 تک کانگریس نے مرکزی حکومت چلائی لیکن پھر نریندر مودی نے 2014میں پہلی بار وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا اور 2019میں دوبارہ اس عہدے پر فائز ہوئے۔

اب دہلی میں بی جے پی کی شکست کی بڑی وجہ خود مودی اور بی جے پی کے صدر امیت شاہ کی پالیسیاں ہیں، انہوں نے اپنی جماعت کو مکمل طور پر فرقہ وارانہ جماعت بنادیا ہے اور سیکولر ازم کے خلاف کام کررہے ہیں، جب کہ عام آدمی پارٹی سیکولر ازم کی داعی ہے۔ ان انتخابات میں شکست سے یہ واضح ہوگیا ہےکہ دہلی کے عوام سیکولر ازم کے مقابلے میں ہندو قوم پرستی اور انتہا پرستی کے خلاف ہیں۔سیکولر ازم کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ریاست کا کوئی سرکاری مذہب نہ ہو،بل کہ ریاست مذہب کے معاملے میں غیرجانب دار رہے مذہب کو افراد کا ذاتی معاملہ سمجھے اور لوگوں کے مذہبی عقائد میں دخل نہ دے۔ 

کانگریس کو بہرحال یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ اس نے مذہب کے نام پر بھارت کی تقسیم کے باوجود بھارت کو ایک سیکولر آئین دیا ورنہ جب ہم نے پاکستان کو اسلامی جمہوریہ بنایا اور یہاں کا سرکاری مذہب اسلام کو قرار دیا تو اس وقت ہندو انتہا پسند طاقتیں بھارت میں یہ مطالبے کر رہی تھیں کہ بھارت کو ایک ہندو ریاست قرار دیا جائے۔اب تقسیم ہند کے ستر سال بعد بی جے پی اس کوشش میں ہے کہ بھارت کو ایک ہندو ریاست بناکر یا تو تمام غیرہندو باشندوں کو دوسرے درجے کا شہری بنا یا جائے یا پھر انہیں ہندو بنایاجائے یا پھر بھارت سے نکال باہر کیا جائے،مگر حالیہ دہلی کے انتخابات نے بی جے پی کو دھچکا لگایا ہے۔ 

اب آگےکیا ہوگا؟ اہم بات یہ ہے کہ اکتوبر 2020میں بھارت کے آبادی کے لحاظ سے تیسرے بڑے صوبے بہار میں بھی انتخابات ہونے ہیں۔ یاد رہے کہ بھارت کی سب سے بڑی دو ریاستیں یوپی اور مہاراشٹر ہیں۔ یوپی کی آبادی پاکستان کے برابر تقریباً بائیس کروڑ ہے جب کہ مہارشٹر کی آبادی بہار کے برابر تقریباً بارہ کروڑ ہے جو پاکستانی پنجاب کے برابر ہے۔بہار میں اس وقت جنتا دل (متحدہ) کی حکومت ہے جس نے بی جے پی کے ساتھ مل کر صوبائی حکومت بنائی ہے مگر بی جے پی کی کوشش ہے کہ بہار کے اگلے انتخابات میں بی جے پی تنہا حکومت بنانے کے قابل ہوجائے۔

اس کے علاوہ اگلے سال کے شروع میں بھارت کی پانچ ریاستوں میں انتخابات ہونے ہیں جن میں آسام، بنگال، پودو چیری (سابقہ پانڈے چیری)، تامل ناڈو، اور کیرالا شامل ہیں۔ دہلی کے حالیہ انتخابات میں بی جے پی کی ناکامی ایک اچھا شگون ہے اور امید کی جانی چاہئے کہ بہار میں بھی بی جے پی ناکام ہو کیوں کہ اسی طرح بھارت میں سیکولر ازم کو باقی رکھا جاسکتا ہے۔