• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران جنگ امریکا کو کتنی مہنگی پڑ سکتی ہے؟ ہتھیاروں کی کمی بڑا چیلنج بن گیا

—فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
—فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اب کھلی جنگی کارروائیوں میں تبدیل ہو چکی ہے، امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فضائی کارروائیوں کے بعد واشنگٹن نے ایران میں جاری فوجی مہم کو ’آپریشن ایپک فیوری‘ کا نام دیا ہے۔

عرب میڈیا ’الجزیرہ‘ کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس جنگ کی اصل قیمت صرف مالی نہیں بلکہ امریکی ہتھیاروں کے ذخائر پر دباؤ بھی بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔

آپریشن ایپک فیوری کیا ہے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 28 فروری کو اعلان کیا تھا کہ امریکا نے ایران کے اندر بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کر دی ہیں، جس کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا بتایا گیا تھا۔

امریکی فوج کے مطابق ایران میں 1,250 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا، 11 ایرانی بحری جہاز تباہ کیے گئے، حملوں میں فضائی، بحری اور میزائل نظام استعمال ہوئے، ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای ابتدائی حملوں میں شہید ہو گئے اور ایرانی ریڈ کریسنٹ کے مطابق مختلف علاقوں میں کم از کم 555 افراد شہید ہوئے۔

امریکا پہلے ہی کتنی رقم خرچ کر چکا؟

’الجزیرہ‘ کی رپورٹ میں ’براؤن یونیورسٹی‘ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اکتوبر 2023ء سے امریکا نے اسرائیل کو 21.7 ارب ڈالرز فوجی امداد دی، مشرقِ وسطیٰ میں اضافی امریکی فوجی کارروائیوں پر 9.65 سے 12.07 ارب ڈالرز خرچ ہوئے، یوں مجموعی اخراجات 31 سے 34 ارب ڈالرز تک پہنچ چکے ہیں۔

جنگ میں کون سے ہتھیار استعمال ہو رہے ہیں؟

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق جنگ میں 20 سے زائد جدید نظام استعمال کیے جا رہے ہیں جن میں فضائی طاقت میں بی-2 اسٹیلتھ بمبار، ایف-35، ایف-22، ایف-15، ایف-16، اے-10 اور دیگر جنگی طیارے شامل ہیں۔

اسی طرح ڈرون اور میزائلز کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے جن میں ایم کیو-9 ریپر ڈرون، ٹوماہاک کروز میزائل، ہیمارس راکٹ سسٹم شامل ہے۔

دفاعی نظام کے تحت پیٹریاٹ اور تھاڈ میزائل ایرانی بیلسٹک میزائل روکنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

بحری طاقت کے طور پر 2 امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے ہیں، جن میں یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ اور یو ایس ایس ابراہم لنکن شامل ہے۔

جنگ کی روزانہ کی لاگت کتنی ہے؟

عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ ابتدائی اندازوں کے مطابق جنگ کے پہلے 24 گھنٹوں میں تقریباً 779 ملین ڈالرز خرچ ہوئے، فوجی تیاریوں پر مزید 630 ملین ڈالرز لگے جبکہ 1 طیارہ بردار بیڑے کو چلانے کی لاگت تقریباً 6.5 ملین ڈالرز روزانہ ہے۔

اصل خطرہ پیسہ نہیں، ہتھیاروں کی کمی ہے

’الجزیرہ‘ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا کے ایک ٹریلین ڈالرز دفاعی بجٹ کے باعث مالی طور پر جنگ جاری رکھنا ممکن ہے مگر اصل مسئلہ میزائل دفاعی ہتھیاروں کی محدود تعداد ہے۔

خاص طور پر پیٹریاٹ اور ایس ایم-6 انٹرسیپٹر میزائل تیزی سے استعمال ہو رہے ہیں، یہی ہتھیار یوکرین اور ایشیاء میں بھی درکار ہیں جبکہ نئے میزائل تیار کرنے میں طویل وقت لگتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگر ہتھیاروں کی پیداوار میں اضافہ نہ کیا گیا تو امریکا کے لیے موجودہ رفتار سے کارروائیاں کئی ہفتوں تک جاری رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔

خاص رپورٹ سے مزید