• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آئی ایم ایف سے مذاکرات کا دوسرا دن، ورچوئل بات چیت جاری

 پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان آج دوسرے دن ورچوئل مذاکرات ہوں گے۔

ذرائع کے مطابق ابھی یہ طے ہونا باقی ہے کہ آئی ایم ایف کا وفد استنبول سے مذاکرات کرے گا یا واشنگٹن سے، گزشتہ روز آئی ایم ایف ٹیموں نے استنبول اور واشنگٹن سے ورچوئل مذاکرات کیے تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آج آئی ایم ایف اور ایف بی آر کے درمیان مذاکرات کے 3 ادوار ہوں گے، جن میں انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس سے متعلق علیحدہ علیحدہ اجلاس منعقد ہوں گے، جبکہ کسٹمز حکام کے ساتھ بھی بات چیت کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق ایف بی آر کے ساتھ اجلاس میں 428 ارب روپے کے شارٹ فال پر گفتگو ہو گی، ایف بی آر محصولات میں کمی پوری کرنے کے لیے حکمتِ عملی پر بریفنگ دے گا اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے اقدامات زیرِ غور آئیں گے۔

پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی (PDL) سے حاصل ہونے والے ریونیو سے بھی آئی ایم ایف کو آگاہ کیا جائے گا، حکومت نے فروری تک پی ڈی ایل کی مد میں 200 ارب روپے ہدف سے زائد جمع کیے ہیں۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ ایف بی آر میں ٹیکس وصولیوں کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی بات چیت ہو گی، جبکہ کسٹمز حکام انفورسمنٹ کے ذریعے ریونیو میں بہتری اور اسمگلنگ کی روک تھام کے اقدامات پر بریفنگ دیں گے۔

وزارتِ خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف اور معاشی ٹیم کے مذاکرات اب ورچوئلی جاری رہیں گے، آئی ایم ایف مشن نے 11 مارچ تک قیام کرنا تھا تاہم علاقائی سیکیورٹی صورتحال کے باعث وفد قبل از وقت روانہ ہو گیا۔

حکام کے مطابق گزشتہ روز مشن چیف ایوا پیٹروا نے مذاکرات میں پائیدار اصلاحات پر زور دیا۔

 سرکاری افسران کے اثاثہ جات کی جانچ سے متعلق ورچوئل اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں صوبائی ملازمین کے اثاثے ظاہر کرنے کے نظام میں بینکوں کی تربیت میں کمی کو رکاوٹ قرار دیا گیا، اس حوالے سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور فنانشل مانیٹرنگ یونٹ بینکوں کو تربیت فراہم کریں گے اور آئی ایم ایف کو بریفنگ دی جائے گی۔

حکام کے مطابق ساورن ویلتھ فنڈ، ای پروکیورمنٹ اور نیب سے معلومات کے تبادلے سے متعلق اجلاس منسوخ کر دیے گئے، جبکہ سرکاری کمپنیوں کے ساتھ ترجیحی سلوک کے خاتمے پر بات چیت بھی مؤخر کر دی گئی۔

تجارتی خبریں سے مزید