آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
21فروری2013ء کو سندھ اسمبلی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے قیام کا قانون جاری کیا۔ جس کے تحت تمام صوبائی جامعات کا اختیار صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے سپرد کر دیا جائے گا جبکہ موجودہ ہائر ایجوکیشن کمیشن جو کہ2002ء میں وفاقی آرڈیننس کے تحت قائم ہوا تھا اس کو ملک کی تمام جامعات بشمول صوبائی جامعات پر مکمل اختیار حاصل ہے۔ سندھ کے وزیر قانون کا یہ بیان نہایت حیران کن ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد ہائر ایجوکیشن خود بخود تحلیل ہو کر صوبائی حکومت کا حصہ بن چکا ہے جو کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بالکل برعکس ہے جس میں 12/اپریل 2011ء کے فیصلے کی HEC کی تحلیل اور صوبوں میں ضم ہونے کے بارے میں واضح طور پر حکم دیا تھا کہ وفاقی حکومت کا یہ قدم سراسر غیر قانونی تھا اور احکامات جاری کر دیئے تھے کہ HEC مکمل طور پر آئین کے تحت محفوظ ہے۔ جس میں تحقیق اور تکنیکی تربیت، منصوبہ بندی سائنس و تکنیکی تحقیق، قانون اور طب سے تعلق رکھنے والے ادارے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اداروں کا معیار برائے اعلیٰ تعلیم و تحقیق جس میں سائنسی و تکنیکی ادارے حتیٰ کہ بین الصوبائی معاملات اور آپس کا ربط بھی ہائر ایجوکیشن کمیشن کی آئینی ذمہ داریوں میں شامل ہیں اور کسی صورت میں بھی کوئی نیا صوبائی قانون پہلے سے

رائج وفاقی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی وفاقی حیثیت اور ذمہ داریوں میں رد و بدل نہیں کر سکتا۔
اس کے علاوہ اٹھارہویں ترمیم کے تحت آئینی اور اصلاحاتی کمیٹی نے یہ بھی واضح فیصلہ سنایا تھا کہ اعلیٰ تعلیمی معاملات جس میں ملکی مداخلت اور ملکی ترقیاتی پروگرام شامل ہوتے ہیں وفاقی سطح پر طے کئے جائیں۔ اعلیٰ تعلیمی و تحقیقی معاملات ہمیشہ سے وفاق ہی کا حصہ رہے ہیں نہ صرف پاکستان میں بلکہ بھارت، کوریا، ترکی، چین، برطانیہ وغیرہ میں بھی وفاقی سطح پر اعلیٰ تعلیمی معاملات طے کئے جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ HEC آرڈیننس 2002ء کی تشکیل سے پہلے بھی اعلیٰ تعلیمی معاملات یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے تحت بھی وفاق کا ہی حصہ تھے اور اس کا قیام ذوالفقار علی بھٹو نے وفاقی منشور (یونیورسٹی گرانٹس کمیشن ایکٹ 1942ء)کے تحت کیا تھا۔اس طرح حقائق سے پشت پناہی کرتے ہوئے اعلیٰ تعلیمی ادارے کو تحلیل کر کے صوبوں کے اختیار میں دے دینا سپریم کورٹ کے فیصلے کی صریحاً توہین ہے۔ بلاشبہ اٹھارہویں ترمیم کا چوتھا حصہ (آرٹیکل (4)70وفاقی قانون ساز فہرست حصہ اول و حصہ دوم) HECکے موجودہ افعال و اختیارات کی مکمل حفاظت کرتا ہے اور یہ واضح کرتا ہے کہ اعلیٰ تعلیم و تحقیق وفاق کا حصہ ہیں جبکہ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ چاروں صوبائی سیکریٹری یا ان کے نامزد کردہ نمائندے پہلے ہی HEC کے معاملات میں اُس کے بورڈ کے ممبر کی حیثیت سے اپنا اظہارِ رائے پیش کر سکتے ہیں۔ دیگر ماہرین جو وزیراعظم کی طرف سے نامزد کئے جاتے ہیں اس میں بھی صوبائی توازن کا خاص خیال رکھ کر انتخاب کیا جاتا ہے تاکہ پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی شعبے میں ترقی کو فروغ دینے کے منصوبوں اور پالیسیوں کے عمل میں فعال طور پر حصہ لے سکیں۔ حالیہ برسوں میں اعلیٰ تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی اور تعلیم پر متعدد حملے ہوئے ہیں۔ سب سے پہلے قومی کمیشن برائے بائیوٹیکنالوجی کو تباہ کر دیا گیا اور اس کے تمام پروگراموں کو ملک بھر سے ختم کر دیا گیا پھر قومی کمیشن برائے نینو ٹیکنالوجی(NanoTechnology)جو بڑی تیزی سے ابھرتا ہوا شعبہ ہے، ختم کر دیا گیا اور اس کے بعد قومی کمیشن برائے سائنس و ٹیکنالوجی، سب سے اعلیٰ سطحی شعبہ جو کہ وزیراعظم پاکستان کی سربراہی میں کام کرتا ہے محض اس لئے اُس کا رتبہ کم کیا گیا تاکہ وزیراعظم کو اس کی سربراہی نہ کرنی پڑے۔ اگلا اقدام یہ کیا گیا کہ جامعات کوHEC کی طرف سے ادا کیا جانے والا ترقیاتی بجٹ کم کر کے نصف کر دیا گیا۔ 2013ء میں موجودہ حکومت کی کابینہ سے تعلیم کے لئے مجموعی ترقیاتی بجٹ کا7%منظور ہوا تھا جس کوصریحاً نظر انداز کرتے ہوئے مجموعی ترقیاتی بجٹ کا صرف 1.8% حصہ دیا گیا، نتیجہ یہ ہوا کہ پاکستان تعلیم کے لئے دنیا میں سب سے کم خرچ کرنے والے 7ممالک کی صف میں پہنچ گیا پھر ایک غیر قانونی حربہ استعمال کرتے ہوئےHEC کو تحلیل کرنے کی کوشش کی گئی جسے اس ملک کے اعلیٰ عدالتی فیصلے کے ذریعے بچایا گیا پھر وزیراعظم پاکستان کے آفس نےHECکو اپنا ”تابعدار“ ادارہ بنانے کی کوشش کی تاکہ وہ تمام بدعنوان سیاستدانوں کی ڈگریاں بغیر چوں و چرا تصدیق کر دے۔ یہ قدم PM آفس کے ایک ریٹائرڈ آرمی میجر نے اٹھایا تھا جو اس وقت سیکریٹری وزارتِ تعلیم ہیں،HEC کے چیف ایگزیکٹو کے منصب پر فائز کر دیا تھا۔ ایک بار پھر میں نے سپریم کورٹ کو درخواست دائر کر کے اس کوشش کو ناکام کر دیا تھا۔
HECپر تازہ ترین حملہ سندھ اسمبلی کی طرف سے ہوا ہے جس میں قانون پاس کیا گیا ہے کہ صوبائیHEC قائم کی جائے گی جو کہ تمام سندھ کی جامعات کی ذمہ دار ہو گی۔ یہ بات سب کو اچھی طرح سے معلوم ہے کہ صوبائی قانون وفاقی قانون پر سبقت حاصل نہیں کر سکتا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق HECاور اس کے قومی سطح کے پروگرام کسی بھی صورت میں روکے نہیں جا سکتے کیونکہ یہ سب آئین میں محفوظ ہے اور سندھ اسمبلی کے ارکان کا یہ بیان بالکل غلط ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے تحت ہائر ایجوکیشن کا شعبہ تحلیل ہو کر صوبائی حکومت کی تحویل میں آ جائے گا۔ سندھ حکومت تو پہلے ہی ثانوی سطح کی تعلیم اور اس کے معیار کو برقرار رکھنے اور بہتر کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے بلکہ معذرت سے یہ کہنا پڑے گا کہ دوسرے صوبوں کی نسبت سندھ کا تعلیمی نظام سب سے بدتر ہے۔ اس صورتحال میں کوئی یہ اندازہ کر سکتا ہے کہ صوبہ سندھ اعلیٰ تعلیم کا نظام کس طرح بہتر چلاسکے گا۔ 200سے زائد جعلی ڈگریوں کے حامل قومی اور صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ کے اراکین کو HECکی بلا امتیاز بنیادوں پر مشتمل پالیسیوں سے خطرہ ہے جس نے سیاسی دباؤ میں آنے سے قطعاً انکار کر دیا ہے اور یہی وہ اہم وجہ ہے جس کے پیشِ نظرHECمستقل حملوں کی زد میں ہے۔ HECکی شاندار کامیابی اور اعلیٰ تعلیم پرHECپروگراموں کے مثبت اثرات کا ذکر کثیر تعداد میں جاری رپورٹوں میں کیا گیا ہے۔ ان رپورٹوں میں عالمی بینک، برٹش کونسل ، رائل سوسائٹی (لندن) اور اقوامِ متحدہ کا کمیشن برائے سائنس و ٹیکنالوجی اور ترقی شامل ہیں۔
ہماری 6جامعات دنیا کی عمدہ 500جامعات کی فہرست میں شامل ہو گئی ہیں جن میں سے 2جامعات کا دنیا کی300عمدہ جامعات کی فہرست میں شمار ہوتا ہے جبکہ 2003ء تک کوئی بھی جامعہ اس مقام تک نہیں پہنچی تھی،HEC کی شاندار کارکردگی کا مشاہدہ طلبہ کے بڑھتے ہوئے اندراج سے لگایا جا سکتا ہے جو 2003ء میں 270,000سے بڑھ کر موجودہ اندراج 10لاکھ طلبہ سے بھی زیادہ ہو گیاہے، 2000ء میں موجود جامعات کی تعداد59سے بڑھ کر موجودہ تعداد137ہو گئی، تحقیقی پیداوار 600تحقیقی اشاعت سے بڑھ کر 2012ء میں 8,000تحقیقی اشاعت پر مشتمل ہو گئی۔ تحقیق کے میدان میں معیارِ تعلیم میں اس حیرت انگیز انداز سے پیشرفت ہوئی کہ آزاد بین الاقوامی مبصرین داد دیئے بغیر نہ رہ سکے۔ بدقسمتی سے یہ تمام ترقی و پیشرفت ہمارے حکمرانوں کے مزاج کے بالکل خلاف تھی کیونکہ تعلیم یافتہ اور تکنیکی ماہرین ان جاگیرداروں کی مضبوط بنیادوں کے لئے خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ کو سندھ اسمبلی کے 21فروری 2012ء کے جاری کردہ اس قانون کو غیر قانونی اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی توہین قرار دیتے ہوئے ضروری کارروائی عمل میں لانی چاہئے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں