آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ24؍ جمادی الثانی 1441ھ 19؍ فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

تاریخی ورثہ انوکھی سواری روٹ کاوزٹ

تحریر: حافظ عبدالاعلیٰ درانی۔بریڈفورٖڈ
پنجاب کی تعمیر و ترقی میں جن لوگوں نے ناقابل فراموش کردار ادا کیا ہے ان میں سرگنگا رام کانام بہت نمایاں ہے۔عام لوگ بھی انہیں سر گنگا رام ہسپتال کی وجہ سے جانتے ہیں۔ انہوں نے خاص طورپر لاہورکو ترقی یافتہ بنانے میں بہت کام کیا۔ سر گنگا رام کی پیدائش 1851میں مانگٹا نوالہ ضلع شیخوپورہ میں ہوئی۔ وہ ایک عالیٰ دماغ انجینئر تھے جنہوں نے اپنے زرخیزدماغ سے نہ صرف پنجاب میں بے شمار منصوبے مکمل کئے بلکہ دہلی میں بھی کئی رفاہی منصوبے بنائے۔ لاہور میں ہائی کورٹ، پوسٹ آفس، ایچی سن کالج، ایڈروڈ کالج، سرگنگا رام ہسپتال اور نہ جانے کتنے ادارے ،منصوبے اور مال روڈ پر بڑی بڑی عمارتیں ڈیزائن کیں۔ 1925میں انہوں نے رینالہ خورد میں رینالہ ہائیڈرل پاور اسٹیشن بھی قائم کیا۔ سرگنگا رام نے 10جولائی1927کو لندن میں انتقال کیا ان کی سمادھی لاہور راوی پل کے قریب بنائی گئی تھی۔ فیصل آباد میں جڑانوالہ کے قریب چک نمبر591 گنگا پورنامی ایک گائؤں ہے جو فیصل آباد سے39میل دور ہے۔اس کا یہ نام سر گنگا رام کی وجہ سے پڑا کیونکہ وہ اس علاقے کے مالک تھے۔ انہوں نے انگریزوں سے پچاس ہزار ایکڑ بنجراراضی لیز پرحاصل کی تھی اور اس علاقے کوگوجرہ نہر سے سیراب کرنے کا منصوبہ بنایا۔ انہوں نے گنگا پور میں ایک بہت

بڑا پھلوں کا باغ بھی بنایا۔ جو پہلے پچاس ایکڑ رقبے پر مشتمل تھا۔ اس باغ سے 22ملین روپے کی آمدنی ہواکرتی تھی۔ جو گائؤں کی فلاح و بہبود پر خرچ کی جاتی تھی۔ اس کے علاوہ بھی انہوں نے اس علاقے میں بہت سے ترقیاتی کام کروائے۔ سر گنگا رام نے پہلی دفعہ زرعی مشینری بھی اس علاقے میں متعارف کروائی۔ یہ اس دورکاواقعہ ہے جب دیہاتی علاقوں میں سڑکوں کا تصور تک نہیں تھا۔ سرگنگارام نے 1903 میں الیکٹرک موٹر لاہور سے منگوائی ۔اس بھاری مشینری کو بچیانہ ریلوے اسٹیشن تک تو ٹرین میں لانا ممکن تھا لیکن اس ہیوی ڈیوٹی موٹر کو اسٹیشن سے دو میل دور گائؤں میں کیسے لایا جائے ؟اس کے لئے ان کے زرخیز دماغ نے ایک ایسا منصوبہ بنایا جس سے ان کا نام تاریخ میں ثبت ہوگیااورانہوں نے بچیانہ اسٹیشن سے اپنے آباد کردہ گائؤں تک دومیل کیلئے ٹرام چلانے کے لئے دو فٹ چوڑی پٹڑی بچھائی۔ جس سے الیکٹرک موٹر کو ٹرالی پر گھوڑوں کی مدد سے گنگا پورلایاگیا۔ گویا گھوڑا ٹرالی (انوکھی سواری) 1903 میں گنگا پور کے ساتھ ہی وجود میں آئی جو ایک بڑے عجوبے کی حیثیت رکھتی تھی۔1947میں تقسیم ملک کی وجہ سے سرگنگا رام کی فیملی کو بھارت شفٹ ہونا پڑابعدمیں یہ گھوڑاٹرالی عام لوگوں کی سواری کیلئے استعمال ہونا شروع ہوگئی اورکوئی سو سال کے لگ بھگ پٹڑی اور گھوڑا ٹرام اپنی قدیمی حالت میں عوام کو سفری سہولت پہنچاتی رہی۔ حتیٰ کہ مقامی سوسائٹی کی نااہلی اور عدم دلچسپی کی وجہ سے یہ انوکھی سواری اپنا وجود برقرار نہ رکھ سکی۔اور 1998میں اس ٹریک کو بند کردیا گیا۔ راقم نے اس انوکھی سواری کا نام بڑے عرصے سے سن رکھا تھاگزشتہ سال اکتوبر2019میں اپنے سفر پاکستان کے دوران اس خواہش کی تکمیل ہوسکی۔ کافی دنوں تک باجماعت گنگا پور جانے کا منصوبہ بنتا رہا لیکن عین موقع پر باقی ساتھیوں کو مصروف ہونا پڑا اور میں نے اکیلے ہی جانے کا پروگرام بنا لیا۔ چنانچہ بدھ اکتوبر23کو صبح چھ بجے والی گاڑی پرجانے کیلئے میں تاندلیانوالہ سے ساٹھ میل کا سفر دواڑھائی گھنٹے میں طے کرکے بچیانہ اسٹیشن پر اتر گیا۔ اسٹیشن پر گھوڑاٹرام کی ٹرالی کا انجر پنجر پڑا ہے جس کی زبوں حالی کی وجہ سے کسی کی توجہ اس طرف نہیں جاتی مجھے بھی بعد میں پتہ چلا۔ میں اسٹیشن سے باہر نکلا تو ایک مقامی شخص سے گھوڑا ٹرام کے بارے میں پوچھا اس نے بتایا کہ دائیں طرف چوک میں ایک چھوٹا ساگھنٹہ گھر بنا ہوا ہے وہاں سے گنگا پور جانے کیلئے سواری مل جائیگی۔ میں گھنٹہ گھر والے چوک میں پہنچا۔ گنگاپور جانے سے پہلے کچھ معلومات لینا چاہتاتھا۔ چنانچہ گھوڑا ٹرام کی پٹڑی جگہ جگہ زمین میں دبی دیکھی تو ایک دکاندار جس کا نام فضل رسول تھااس نے بتایا کہ سرگنگا رام نے دو فٹ پٹڑی بچھائی تھی بعد میں اسے 4فٹ چوڑا کردیا گیا جس پر گھوڑاٹرالی بڑی آسانی سے رواں دواں چلائی جاتی رہی۔ بیس سال پہلے اسے بند کردیا گیا۔چندسال بعد مقامی اور ضلعی انتظامیہ نے اسے دوبارہ بحال کیا گیاتھا مگراب تو بالکل ہی بند ہوگئی ہے۔ کاش گورنمنٹ اس کی دوبارہ بحالی میں دلچسپی لے۔ ساری پٹڑی بے نشان ہوتی جارہی ہے۔ مٹی کے نیچے دبی ہوئی ہے۔ اس نے اپنی دکان کے سامنے دبی ہوئی پٹڑی دکھائی۔ پھرمیں ایک رکشے میں سوار ہوگیا اور اس سڑک کے ساتھ ساتھ بائیں طرف کے ریلوے ٹریک کو ڈوبتا ابھرتا دیکھتارہااور افسوس و صدمے کی کیفیت طاری رہی کہ برصغیر کے ایک ممتاز انجینئر نے کمال درجے کی ذہانت و سخاوت سے کام لے کر 1903میں ایک انوکھی سواری بنا کر دی۔ 1947 میں ان کی فیملی ہندو ہونے کی وجہ سے ہندوستان چلی گئی۔ پیچھے ناخلف انتظامیہ نے بنی بنائی گھوڑا گاڑی روٹ کو اجاڑ کر رکھ دیا۔اگر اس قسم کا عجوبہ کسی یورپی ملک کو ورثے میں ملا ہوتا تو وہ ساری زندگی اسے سنبھالتے اور اس سے بے پناہ دولت کماتے جیسا بریڈفورڈ کے نواح Howarth ہاورتھ میں جین آئر ناول کی مصنفہ شارلٹ1816-1855)اور اس کی بہن جو برونٹی سسٹرز کے نام سے مشہور ہیں وہ خود بھوک افلاس اورفاقوں کی وجہ سے ٹی بی کی بیماری سے جواں سالی ہی میں مرگئی تھیں۔ لیکن ان کے نام کومسلسل بیچا جارہاہے اور ان کی چھوڑی ہوئی جائیدادکو میوزیم بنا کراس سے بریڈفورڈ کونسل بے تحاشا پیسہ کما رہی ہے ( فی نفر دس پونڈ دیکھنے کاٹکٹ ہے) یہی حال برطانیہ کے تقریباًہر شہر کا ہے جہاں ہسٹری کے نام سے کمائی کی جارہی ہے کیونکہ انہوں نے اپنا ورثہ سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔ اور ہمارے ہاں اتنے بڑے بڑے عجائبات ہیں لیکن ان کی بے قدری بھی انتہادرجے کی ہے ۔گھوڑا ٹرین کیلئے دو اسٹیشن اب بھی موجود ہیں ایک بچیانہ میں اور دوسرا گنگا پور میں جہاں سے شروع ہوتی ہے وہاں بھی گھنٹہ گھر بنا ہوا ہے اور جہاں اس کا روٹ ختم ہوتا ہے وہاں60فٹ اونچا گھنٹہ گھر بناہوا ہے۔ اور دونوں اسٹیشنوں پر سنگ مرمر کی نصب شدہ تختیوں پر اس کی دوبارہ مرمت اور بحالی کے بارے میں کچھ معلومات لکھی ہوئی ہیں۔ تاہم ,16جنوری2007کو گھوڑا ٹرام کی اہمیت، انوکھے پن اور مفید ہونے کی وجہ سے مقامی سیاسی و سماجی رہنمائؤں نے خاص طور پر رائؤ منوراحمد خان نے اس انوکھی سواری کی تجدید اوراسے دوبارہ کار آمد بنانے کا بیڑہ اٹھایا۔ ڈی سی او فیصل آباد سعید اقبال واہلہ نے11جون2009کو خود اس پراجیکٹRehabilitation Project Anokhi Sawari Horse Tram)) کاافتتاح کیا۔ منصوبے کی نگرانی اور تکمیل نیو الخدمت سٹیزن کمیونٹی بورڈ کے زیر نگرانی صدر کو آپریٹو سوسائٹی راؤ منور احمد خان اورچوہدری محمد نوازEOC CDکی مکمل دلچسپی اور کوششوں سے ممکن ہوسکی۔ اب ٹریک دو فٹ کی بجائے چار فٹ بنایا گیا۔ پروجیکٹ کی تکمیل 9مارچ2010کو ہوئی۔ اس کا افتتاح سعید اقبال واہلہ ڈی سی او فیصل آباد نے کیا۔ اس طرح یہ انوکھی سواری 17سال بعد اپنے سفر کا دوبارہ آغاز کرسکی۔ بحالی کے اس منصوبے پر54لاکھ روپیہ خرچ ہوا۔33لاکھ روپے ڈسٹرکٹ گورنمنٹ فیصل آباد اور4لاکھ روپے ٹاؤن ناظم جڑانوالہ چوہدری محمد اکرام نے ادا کئے۔ بقایا 17لاکھ روپے مقامی کواپریٹوسوسائٹی اور عام لوگوں نے فنڈ مہیاکرکے اس روٹ
کو بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔(یہ معلومات راؤ منور احمد خان کی طرف سے گھوڑاٹرام کے متروکہ اسٹیشن پر ایک تختی کی شکل میں تحریر ہیں) جو ابھی تک وہاں نصب پتھر پر موجود ہیں۔ ابھی تک کسی بکری گائے یا بھینس نے انہیں نقصان نہیں پہنچایاجبکہ گزشتہ سات آٹھ سال سے پھریہ تاریخی شاہکار متروک ہوچکاہے اور اب تو دوسری پٹڑی بھی تباہ و برباد ہوچکی ہے اور یہ عجوبہ اس قوم کی بے حسی پر ماتم کناں ہے۔ یہ تفصیلی معلومات پتھرپر لکھی ہوئی دیکھ کر دل سے ان سب کیلئے دعا نکلی جنہوں نے اس تاریخی ورثے اوراس عجوبے کی حفاظت و تجدید کرنے میں اپنی صلاحیتیں کھپائیں۔ اللہ انہیں اس کا اجر دے گا اور اللہ کرے کہ پھر کوئی راؤ منورخان، چوہدری اکرم، سعید اقبال واہلہ جیسے لوگ بیدار ہوں اورسر گنگا رام کے بنائے ہوئے اس تاریخی شاہکار کو عوام کی سہولت کیلئے دوبارہ بحال کرسکیں۔گنگا پور گاؤں ۔۔۔بہرحال میں چوک گھنٹہ گھر سے رکشے پر بیٹھ کر گنگا پور پہنچ گیا۔اور رکشے سے اترکر چوک کی طرف چلا۔ تھوڑی دور گھوڑا ٹرام کا اسٹیشن دیکھا جہاں بکریاں اور بھینسیں بندھی ہوئی تھیں۔ پورا گاؤں کچا ہے کہیں بھی پکی سڑک یا پکا چوک نظر نہیں پڑا۔ مکانات بالعموم عام دیہاتوں کی طرح کچے پکے ہیں۔ محمد نواز نامی ایک نوجوان کو میں نے بتایا کہ میں لاہور سے گنگاپور گاؤں اور گھوڑا گاڑی دیکھنے کیلئے آیا ہوں۔ یاد رہے میں نے کسی کو نہیں بتایا کہ میں انگلینڈ سے آیا ہوں کیونکہ کئی قسم کی قباحتوں کااندیشہ ہوتاہے۔ اس نے کچھ باتیں بتائیں لیکن کوئی خاص بات معلوم نہیں ہوئی۔ باغ کے بارے میں اس نے بتایا کہ وہ یہاں سے کچھ دور ہے جہاں وہ جانے کیلئے میرے ساتھ تیار تھا لیکن میرے پروگرام میں شامل نہ تھا۔ نوجوان کاشکریہ ادا کرکے میں گاؤں کے وسط میں نصب گھنٹہ گھرتک پہنچ گیا۔ گنگاپور گاؤں کے عین وسط میں فیصل آباد شہر کی طرح ایک60فٹ اونچا گھنٹہ گھر بنایا گیا۔جس کے چاروں طرف لمبے لمبے بازار ہیں۔ جن کے نام میں یاد رکھ سکا ہوں وہ چار ہیں مین بازار، رئیساں والا بازار، باغ بازار اور اسپتال بازار۔ فیصل آباد کے آٹھ بازار ہیں اور یہاں ان سے کم لیکن انداز اور نقشہ وہی ہے ۔ جس کی تکمیل کا شاید اس کے بانی کوموقع نہیں مل سکا۔ اسی چوک ہی میں ایک چھوٹامگر صاف ستھرا ریستوران نظر آیا۔ اس کے مالک سے مل کرکچھ معلومات ملیں۔ وہ بھی پرتپاک انداز سے ملا۔جب اسے میری آمد کا مقصد معلوم ہوااس نے بتایاکہ اگر آپ شام تک ٹھہریں تو بہت سے پرانے لوگ مل سکتے ہیں اور کئی باتیں بتا سکتے ہیں میں نے شکریہ ادا کیا۔ دوبارہ ٹرام اسٹیشن پر آگیا۔ کچھ دیر وہاں رکا لوگوں نے بتایا کہ بالعموم یہاں غیر ملک سے اخباری نمائندے آتے رہتے ہیں۔ میں نے بتایاکہ میں میڈیا کا آدمی نہیں ہوں۔ یوں ہی تاریخی ورثے کو دیکھنا چاہتا تھا اس لئے چلا آیا۔ اہل سنت مسجد کے خطیب صاحب نے شام کو مسجد میں درس دینے کی دعوت بھی دی۔ لیکن میں نے بتایا کہ میں نے ابھی ننکانہ صاحب جانا ہے اور شام کو لاہور واپس پہنچنا ہے۔ گنگاپور گاؤں کایہ وزٹ بہت اچھا رہا۔ لوگوں نے مہمان نوازی کی پیشکش کی، معلومات بھی دیں اور عزت واحترام بھی دیا۔ جو
بہرحال ہماری قوم کا طرہ امتیاز ہے۔ لیکن تاریخی ورثے کی ناقدری پر بہت دکھ ہے یا شاید یہ بھی ہمارا قومی مزاج ہے۔ اللہ کریم میرے وطن کے چپے چپے کی حفاظت فرمائے اور اسے مہکتا رکھے۔

یورپ سے سے مزید