معروف پاکستانی پلے بیک گلوکارہ حمیرا چنا نے پاکستانی میوزک انڈسٹری میں اقربا پروری اور لیجنڈز کو نظرانداز کرنے پر آواز اٹھا دی۔
حمیرا چنا نے نوّے کی دہائی میں فلمی دنیا کے لیے گائے گئے مقبول گانوں سے شہرت حاصل کی، وہ حال ہی میں پاکستانی میوزک انڈسٹری میں موجود تعصبات اور اقربا پروری کے خلاف کھل کر بول پڑیں۔
حمیرا چنا نگار ایوارڈز کی فاتح رہ چکی ہیں اور انہوں نے صوفی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی کے کئی لوک کلام پاکستان ٹیلی وژن پر گائے ہیں۔
حمیرا چنا نے شوبز میں قدم اپنے والد کے اثر سے رکھا، جو خود ایک فلم ساز تھے، حال ہی میں وہ عاصم اظہر کے مشہور ڈرامہ ’میری زندگی ہے تُو‘ کے او ایس ٹی کا کور گانے کی وجہ سے بھی خبروں میں رہیں۔
حمیرا چنا نے ایک پوڈکاسٹ میں بطور مہمان شرکت کی، جہاں انہوں نے انڈسٹری میں موجود جانبداری اور سینئر فنکاروں کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک پر تفصیل سے بات کی۔
حمیرا چنا کا کہنا تھا کہ پاکستانی میوزک انڈسٹری میں اقربا پروری بہت زیادہ ہے اور مخصوص فنکاروں کے گرد ہی تمام مواقع گھومتے رہتے ہیں، جبکہ باصلاحیت اور تجربہ کار گلوکاروں کو مسلسل نظرانداز کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انڈسٹری میں بہت زیادہ فیورٹ ازم ہے، چند مخصوص ناموں کے ساتھ بار بار کام کیا جاتا ہے اور باقی باصلاحیت فنکاروں کو بھلا دیا جاتا ہے، میں خود اس جانبداری کا شکار رہی ہوں، یہ افسوسناک ہے، مگر حقیقت یہی ہے، انڈسٹری کو چاہیے کہ وہ سب کو ساتھ لے کر چلے اور اُن فنکاروں کو بھی مواقع دے جو واقعی اپنے فن سے واقف ہیں۔
مزید گفتگو کرتے ہوئے حمیرا چنا نے لیجنڈ فنکاروں کے ساتھ ہونے والے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ لیجنڈ ہیں، ٹھیک ہے ہم لیجنڈ ہیں، مگر کیا کبھی کسی نے یہ سوچا کہ لیجنڈز کے پاس کام بھی ہے یا نہیں؟ جب کوئی فنکار دنیا سے چلا جاتا ہے تو تب کہا جاتا ہے کہ اگر وہ زندہ ہوتے تو ہم انہیں یہ گانا دیتے یا اگر کوئی بھارت سے واپس آ جائے تو اچانک وہ اسٹار بن جاتا ہے۔