آپ آف لائن ہیں
منگل13؍شعبان المعظم 1441ھ 7؍اپریل2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

حکومتیں سوشل میڈیا ریگولیٹری نظام لا ئیں،بانی فیس بک کا مشورہ

میونخ(آئی این پی)دنیا کی سب سے بڑی سوشل ویب سائٹ فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے دنیا کی تمام حکومتوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے لیے مناسب ریگولیٹری نظام لائیں۔فیس بک کے بانی کی جانب سے حکومتوں کو یہ تجویز ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب کہ پوری دنیا میں سوشل میڈیا پر غلط معلومات کے پھیلائو کی وجہ سے نئے ریگولیٹری نظام لائے جانے کی باتیں زیر بحث ہیں۔سوشل میڈیا خاص طور پر فیس بک، ٹوئٹر، یوٹیوب اور انسٹاگرام جیسی مقبول ویب سائٹس اور ایپلی کیشنز کے لیے ریگولیٹری نظام لانے کی باتیں نہ صرف یورپ و امریکا بلکہ ایشیا و افریقا میں جاری ہیں۔سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل مواد کی نگرانی اور وہاں پر مواد کے لیے ریگولیٹری نظام لانے کے لیے کچھ چند ہفتوں سے پاکستان میں بھی بحث جاری ہے اور حکومت نے ریگولیٹری نظام بھی متعارف کرادیا ہے۔ایسے میں ہی فیس بک کے بانی کی جانب سے دنیا بھر کی حکومتوں اور خاص طور یورپی و امریکی ممالک کی حکومتوں کو تجویز دی گئی ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے لیے مناسب ریگولیٹری نظام لائیں۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق سوئٹزرلینڈ کے شہر میونخ میں ہونے والی سیکیورٹی کانفرنس کے دوران خطاب کرتے ہوئے مارک زکربرگ کا کہنا تھا کہ نفرت انگیز اور غلط مواد کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حکومتوں کا اپنا

کردار ادا کرتے ہوئے مناسب ضوابط متعارف کرانے چاہیے۔فیس بک بانی کا کہنا تھا کہ کس طرح کے مواد کو آگے جانا چاہیے یا کس طرح کی تقریر کو پھیلایا جانا چاہیے یہ کام فیس بک سمیت دیگر سوشل ویب سائٹس کا نہیں ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ فیس بک اظہار رائے کی آزادی پر یقین رکھتا ہے تاہم غلط معلومات کے پھیلا اور نفرت انگیز مواد کی آن لائن ترسیل کو روکنے کے لیے حکومتوں کو کردار ادا کرنا پڑے گا۔مارک زکربرگ کا کہنا تھا کہ جب تک حکومتیں اپنا کردار ادا نہیں کرتیں تب تک فیس بک اپنے ذرائع اور وسائل کے ذریعے غلط معلومات اور نفرت انگیز مواد کو روکنے کی بھرپور کوشش کرے گا۔

یورپ سے سے مزید