آپ آف لائن ہیں
اتوار18؍ذی الحج 1441ھ 9؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

آج مجھے اپنا جاپانی دوست کین فرویا بہت یاد آرہا تھا، اس کی شخصیت ہی ایسی تھی۔  عمر پچاس سال کے لگ بھگ تھی، شخصیت انتہائی جاذبِ نظر، کیریئر بھی شاندار، ایک جاپانی ملٹی نیشنل کمپنی میں جنرل منیجر کے عہدے پر فائز تھا۔ 

کین فرویا نے انتہائی مصروف زندگی گزاری اور تاحال کنوارا تھا، اس سے جب بھی کنوارے پن کا سبب معلوم کرو تو ہنس کر کہتا کہ میں نے پلے بوائے کی زندگی گزاری ہے لہٰذا اتنی لمبی زندگی ایک ہی لڑکی کے ساتھ نہیں گزار سکتا اور مستقبل میں بھی کنوارا ہی رہنا چاہتا ہوں۔ یوں ہنسی مذاق میں بات ختم ہو جاتی۔ 

کچھ دنوں میں کین فرویا کی گروپ جنرل منیجر کے عہدے پر ترقی ہوئی، اس کی مصروفیات میں بھی مزید اضافہ ہو گیا، اب وہ رات دیر گئے دفتر میں رہتا اور مزید لگن کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کرتا۔ پھر اچانک ایک روز دفتر میں حیران کر دینے والی خبر پھیلی کہ کین فرویا نے اپنی ملازمت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ 

اسے روکنے کی بڑی کوششیں کی گئیں لیکن اس نے کسی کی بات ماننے سے انکار کردیا۔ کین فرویا کے اعزاز میں خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا اور یوں وہ ملازمت سے مستعفی ہوگیا۔ میرے ساتھ کین فرویا کے بہترین تعلقات تھے لہٰذا میں نے بھی اس سے ملازمت چھوڑنے کی وجہ معلوم کی تو اگلے روز اس نے مجھے دوپہر کے کھانے پر اپنے گھر آنے کی دعوت دے دی۔ 

اگلے روز ہفتے کا دن تھا، دفتر کی بھی چھٹی تھی لہٰذا میں دن بارہ بجے اس کے گھر پہنچ گیا۔ وہ ٹوکیو سے باہر ایک بہترین گھر میں رہائش پذیر تھا۔ گاڑی کی پارکنگ، خوبصورت لان، بہترین ڈرائنگ روم جہاں خوبصورت ڈائننگ ٹیبل بھی موجود تھی، کین فرویا نے اپنا سلیقے سے سجا گھر دکھاتے ہوئے ڈرائنگ روم میں بٹھایا اور پھر کافی دیر کے لیے غائب ہوگیا۔ 

تقریباً پندرہ منٹ بعد وہ ڈرائنگ روم میں ایک وہیل چیئر چلاتے ہوئے داخل ہوا جس پر ایک بوڑھی خاتون براجمان تھیں جو کین فرویا کی والدہ تھیں۔ بڑھاپے نے کین کی والدہ کو چلنے پھرنے سے معذور کردیا تھا۔

کین کی والدہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے دعائیں دیں جبکہ کین فرویا مسلسل ان کے کپڑے ٹھیک کرتا رہا، انہیں اپنے ہاتھ سے کھانا کھلاتا رہا، کچھ دیر بعد جب وہ تھک گئیں تو وہ مجھے ساتھ لیکر ان کے کمرے میں گیا انہیں گود میں لیکر بستر پر لٹایا اور پھر اجازت لیکر میرے ساتھ ڈرائنگ روم میں آگیا۔ 

کین نے بتایا کہ میری والدہ ہی میری گرل فرینڈ ہیں جن کے ساتھ میں ساری زندگی گزار سکتا ہوں، بڑھاپے اور بیماری کے باعث اب وہ بستر پر ہیں اور انہیں میری ضرورت ہے۔ ان کی دیکھ بھال کے لیے ہی میں نے ملازمت چھوڑی ہے، حالانکہ والدہ کی خواہش تھی کہ انہیں اولڈ ہائوس میں داخل کرا دیا جائے لیکن میرا ضمیر یہ ماننے کو تیار نہیں کہ جس ماں نے مجھے پال پوس کر بڑا کیا، اسے اولڈ ہائوس میں داخل کرائوں۔ 

لہٰذا میں نے فیصلہ کیا کہ والدہ کی زندگی تک ان کی خدمت کرنی ہے یہ کہہ کر کین کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ آج مجھے کین فرویا اس لیے یاد آرہا تھا کہ میرے ایک پاکستانی دوست نے جس کو اس کے والدین نے اپنا گھر سمیت تمام جمع پونجی بیچ کر امریکہ بھجوایا، اس نے امریکہ کا پاسپورٹ حاصل کیا.

پھر والدین کو امریکہ بھی بلایا اور چند مہینوں بعد اسے احساس ہوا کہ والدین اس پر بوجھ بن چکے ہیں لہٰذا اس نے کافی کوشش کی کہ والدین کو پاکستان واپس بھجوا دیا جائے لیکن پاکستان میں بھی ان کی تمام کشتیاں جل چکی تھیں، بیٹیاں اپنے گھروں کی ہو چکی تھیں اور اس قابل نہ تھیں کہ والدین کو سنبھال سکیں لہٰذا والدین کو امریکہ میں ہی رہنا تھا اور پھر اس نے اپنی پینسٹھ سالہ والدہ کے لیے ایک ملازمت ڈھونڈ لی، اب اس کی ماں، ایک ماسی بن چکی تھی۔ 

وہ ایک گھنٹے کا سفر کرکے لوگوں کے گھر کام کرنے جانے لگی تھی، وہ مہینے بھر کام کرکے آنے والے تمام پیسوں سے اپنے بیٹے کے گھر کا کرایہ اور راشن ڈلواتی ہے۔

 اس ماں نے فون پر اپنے حالاتِ زندگی سنائے یہ قسم دی کہ میں اس کے بیٹے سے کبھی اس کا ذکر نہ کروں ورنہ امریکہ میں زندگی اس کے لیے مزید مشکل نہ ہو جائے۔ کچھ دیر بعد اس کے بیٹے کا فون آیا۔ وہ بتا رہا تھا کہ اس نے اپنے والدین کو کس قدر بہترین زندگی فراہم کی ہے۔ 

اس کے ماں باپ کتنے خوش ہیں اور تو اور وہ مجھے بھی امریکہ آنے کی دعوت دے رہا تھا۔ دوست کی جھوٹی باتیں سن کر آج مجھے ایک غیرمسلم جاپانی بیٹا کین فرویا بہت یاد آیا۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)