آپ آف لائن ہیں
منگل13؍شعبان المعظم 1441ھ 7؍اپریل2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
تحریر:محمد صادق کھوکھر۔۔لیسٹر
ممتاز اسلامی اسکالر اور یوکے اسلامک مشن کے سابق نائب صدر و جنرل سیکریٹری عبدالرشید صدیقی اسلامی تنظیموں، اداروں اور اپنے چاہنے والوں کو سوگوار چھوڑ کر اپنے رب کے حضور پہنچ گئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔ عبدالرشید صدیقی ایک ممتاز مفکر اور اسلام کے متحرک داعی تھے۔ وہ 1932 میں بھارت کے شہر گوالیار میں پیدا ہوئے۔ بمبئی یونیورسٹی میں انہوں نے معاشیات اور سیاسیات میں ڈگری لی۔ بعد ازاں ایل ایل بی بھی کیا پھر لائبریری سائنس میں پوسٹ گریجویٹ کیا۔ ان کے والد قیامِ پاکستان سے قبل ہی انتقال کر چکے تھے۔ 1962 میں اپنی والدہ اور بہن کے ہمراہ ہجرت کر کے کراچی چلے آئے۔ ان کے کئی رشتہ دار اپنے گھر بار بھارت میں چھوڑ کر پہلے ہی کراچی منتقل ہو چکے تھے۔ انہوں نے ایک دفعہ پھر ملک چھوڑا اور دسمبر 1963میں وہ برطانیہ آبسے۔ برطانیہ میں ان کا پہلا پڑاؤ لیورپول تھا جہاں پبلک لائبریری میں ملازمت اختیار کر لی تھی۔ لیورپول میں ہی انہیں پاکستانی طلبہ کی زبانی معلوم ہوا کہ یوکے اسلامک مشن کا تاسیسی اجلاس لندن میں منعقد ہو رہا ہے۔ چنانچہ آپ بھی اس اجلاس میں شریک ہوئے اوراس کے رکن بنے۔ شرکاء کی اکثریت سید ابوالاعلیٰ مودودی کی تحریروں سے متاثر تھی۔ بیرسٹر قربان علی کو یو کے اسلامک مشن کا پہلا صدر

منتخب کیا گیا جن کا تعلق مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) سے تھا۔ عبدالرشید صدیقیؒ صاحب طالب علمی دور میں ہی جماعتِ اسلامی ہند سے وابستہ ہو گئے تھے۔ معروف مفسرِ قرآن شمس پیرزادہ کے قرآنی دروس سن کر اسلام کے شعوری پیغام سے اگاہ ہوئے۔ ان دروس سے انہیں قرآن کی حقیقی قدر و قیمت کا احساس ہوا۔ پھر انہوں نے قرآن کو سمجھنے اور اس کے پیغام کو دوسرے انسانوں تک پہنچانے کیلئے اپنی عمر کا ایک بڑا حصہ صرف کیا۔ اس مقصد کی خاطر کئی کتب لکھیں۔ لیور پول میں کچھ عرصہ قیام کے بعد وہ لیسٹر آگئے اور لیسٹر یونیورسٹی سے وابستہ ہوگئے۔ بعد ازاں معروف علمی اور سیاسی شخصیت پروفیسر خورشید احمد بھی لیسٹر آبسے، جنہوں نے لیسٹر میں ایک علمی ادارے "اسلامک فاؤنڈیشن" کی بنیاد رکھی۔ عبدالرشید صدیقی بھی اس ادارے کے ٹرسٹی بن گے۔ یہ تعلق انہوں نے عمر بھر نبھایا۔ وہ یوکے اسلامک مشن کے اولین رکن تھے اور پھر عمر بھر اس تنظیم کی آبیاری کرتے رہے۔ 1984میں اس تنظیم کے جنرل سیکریٹری بنے۔ وہ کئی برس یو کے اسلامک مشن کے سینئر نائب صدر بھی رہے۔ برسوں اس کی مجلسِ شوریٰ کے رکن بھی رہے اور مختلف کمیٹیوں کی نظامت بھی کرتے رہے۔ انہوں نے نوجوانوں کی تنظیم "ینگ مسلم" اور بعد ازاں "اسلامک سوسائٹی آف برٹین" کے قیام میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ 2010 میں یورپ بھر میں تحریکِ اسلامی سے وابستہ تنظیموں کی مشترکہ باڈی کا قیام عمل میں آیا۔ جس کا نام "یورپین مسلم کونسل" ہے، اس کا دستور بنانے اور متحرک کرنے میں بھی ان کا بہت بڑا حصہ ہے، اس مقصد کے لیے انہوں نے ناروے، اٹلی، سپین، ڈنمارک اور جرمنی میں ہونے والے اجلاسوں میں شرکت کی۔ یوکے اسلامک مشن نے پیغام کے نام سے ایک ماہنامہ رسالہ جاری کیا جس کے مدیر بنائے گئے۔ یہ میگزین 1968 میں شروع ہوا تھا اور کئی برس تک جاری رہا۔ شروع میں عبدالرشید صدیقیؒ کی تحریریں زیادہ تر اردو زبان میں تھیں۔ لیکن ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے انگریزی زبان کو بھی ذریعہ ابلاغ بنایا۔ انہوں نے قرآنی تعلیمات پرمبنی کئی کتب لکھیں۔ ایک کتاب قرآنی تعلیمات پر مبنی غیر مسلموں کیلئے تحریر کی تاکہ وہ قرآنی پیغام سے اگاہ ہو سکیں، پھر مختلف سورتوں کے مضامین پر مبنی کتب شائع کیں۔ قرآنی اصطلاحات کی تشریح پر بھی ان کی ایک کتاب منظرِ عام پر آئی۔ گزشتہ سال انکی ایک کتاب اسلامی شریعت کےحوالے سے منظر عام پر آئی جس میں انہوں نے مغرب کے پھیلائے ہوئے ان شبہات کا جواب دیا ہے، جو انہوں نے اسلامی شریعت کے متعلق پھیلائے ہیں۔ فرد کی انفرادی اصلاح اور تربیت کیلئے بھی ان کی کتب موجود ہیں۔ عام طور پر ہمارے علماء کرام اپنے خطبات میں غیر ضروری بحثوں میں الجھ جاتے ہیں۔ انہوں نے دو جلدوں پر مشتمل خطبات پر مبنی ایک ایسی کتاب تحریر کی ہےجو خطیب حضرات کی رہنمائی کرتی ہے ۔ علامہ اقبال کے نظریہ خودی کو متعارف کرانے کیلئے بھی انہوں نے لکھا۔ ان کی یہ ساری کتب انگریزی زبان میں ہیں۔ اردو میں بھی ان کے کئی مضامین ترجمان القرآن اور دیگر رسائل کی زینت بنے ہیں۔ نیز ان کی شاعری کا ایک مجموعہ "نوائے بے نوا" کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ دوسرا بھی تیاری کے مرحلے میں ہے۔ ان کی کتب کی تعداد ایک درجن سے زیادہ ہے۔ مرحوم اسلامک فاؤنڈیشن کے علاوہ "مارکفیلڈ انسٹی ٹیوٹ آف ہائر ایجوکیشن" کے بھی آخر وقت تک ٹرسٹی رہے۔ اس کے علاوہ کئی دیگر رفاعی اداروں سے وابستہ تھے۔ وہ 23 دسمبر 2019 کو وفات پا گئے۔ ان کی نمازِ جنازہ میں برطانیہ بھر سے بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے اس موقع پر ہر آنکھ اشک بار تھی۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو جنت الفردوس میں جگہ عطا کرے۔ آمین آسمان تری لحد پر شبنم افشانی کرے۔ 

یورپ سے سے مزید