آپ آف لائن ہیں
جمعرات 22؍ ذی الحج 1441ھ13؍اگست2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے اپنے پلان میں جھگڑے کی اصل بنیاد کو پکڑا ہے اور مسلم دنیا کو بالآخر ماننا پڑے گا کہ اسرائیل ایک یہودی ریاست ہے، اسرائیل کی سیکورٹی کے لیے ایسٹرن بارڈر اور وادیٔ اردن پر کنٹرول لازم ہے۔ یروشلم کے مذہبی مقامات پر حاضری کی اجازت اگرچہ تمام مذاہب کے ماننے والوں کو ہو گی لیکن اسرائیلی خود مختاری کے اندر اور یروشلم ناقابلِ تقسیم ہوگا۔ ہم مستقبل کی فلسطینی ریاست پر مذاکرات کے لیے تیار ہیں مگر کسی یہودی کو اس کے گھر سے نہیں نکالا جائے گا۔

درویش کی نظروں میں ٹرمپ امن پلان کی سب سے بڑی خامی جو اسے بجا طور پر قابلِ استردار قرار دیتی ہے وہ اس کی یکطرفہ تیاری ہے گو جیرڈ کشنر کا یہ دعویٰ ہے کہ انہوں نے فلسطینی نقطۂ نظر اور مفاد کے حصول کی خاطر فلسطینی زعما سے پیہم مشاورت کی ہے اور اسے دو طرفہ بنانے کے لیے بڑی کاوش کی ہے لیکن پلان میں ایسا کچھ موجود نہیں ہے۔ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اول و آخر ترجیح اسرائیل کی سلامتی کا تحفظ تھا اور گھوم پھر کر وہ اسی کا طواف کرتے رہے۔ سابق امریکی صدور نے اسرائیلی سیکورٹی کو ترجیح دینے کے باوجود کبھی اپنے پلان کو اس طرح یکطرفہ تشکیل نہیں دیا۔ صدر ٹرمپ کے حوالے سے درویش نے پیہم یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ مسلم دنیا ان سے کسی بھلائی کی توقع نہ رکھے، انہیں جو قوتیں برسرِ اقتدار لائی ہیں ان کا مطمح نظر ہی یہ تھا کہ مذہبی شدت پسندی کے خلاف ان کو استعمال کرتے ہوئے حساب برابر کیا جائے۔ ہمارے لوگ ان سے کارٹر، ریگن، بش، کلنٹن یا اوباما جیسی توقعات نہ رکھیں۔ نیز سارا غصہ ان پر نکالنے کے بجائے کچھ اپنی کوتاہیوں، غیرذمہ دارانہ رویوں اور پالیسیوں پر بھی نکالیں۔ امن کے نام پر جو پلان انہوں نے دیا ہے اس کا مطمح نظر محض سیاسی مفادات یا مزید یہودی خوشنودی کا حصول ہے، وہ خود اور وزیراعظم نیتن یاہو اندورنی طور پر اپنے ممالک میں بھی بہت زیادہ پاپولر قیادتیں نہیں ہیں۔ اگلے ماہ اسرائیلی وزیراعظم کو اور اسی سال خود صدر ٹرمپ کو انتخابات کا سامنا ہے۔ یہ سارا غیرسنجیدہ رویہ اسی کا شاخسانہ ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے اس پلان کو پیش کرتے ہوئے فلسطین اور مڈل ایسٹ میں اعتدل پسند قوتوں کو کمزور جبکہ انتہا پسندوں کو مضبوط کیا ہے۔ انہوں نے محمود عباس جیسے امن کے داعی، دانا و معتدل رہنما کو نظر انداز کر کے مشکل میں ڈال دیا ہے۔ اگر وہ اپنے اس پلان کو کسی بھی درجے میں قابلِ قبول بنانا چاہتے تو لازم تھا کہ ان کی ایک جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو ہوتے تو دوسری طرف فلسطینی صدر محمود عباس۔بحیثیت مجموعی ان کا یہ پلان محض یہودیوں کو خوش کرنے کے لیے ہے۔ ان کی موجودگی میں جب نیتن یاہو پیہم اسرائیل کے لیے یہودی ریاست کے الفاظ زور دے کر بول رہے تھے تو اس کے بعد کیا کسر رہ جاتی ہے۔ ایسی شدت پسندی کا مظاہرہ تو سابق اسرائیلی قیادت بھی نہیں کرتی رہی ہے۔ اسرائیل کو کسی مذہبی کے بجائے ہمیشہ ایک سیکولر ریاست کی حیثیت سے پیش کیا جاتا رہا ہے۔ اسرائیل نے وادیٔ اردن میں 4لاکھ یہودیوں کے لیے جو بستیاں بسائی ہیں اور مشرقی یروشلم میں دو لاکھ یہودیوں کی آباد کاری کی ہے اس پلان کے ذریعے اس متنازع کارروائی کو بھی جواز فراہم کر دیا گیا ہے۔ بہرحال ان تمام تر خامیوں کے باوجود امریکی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اب بھی فلسطینیوں کو اعتماد میں لیتے ہوئے مذاکرات کا ڈول ڈالے۔ بصورتِ دیگر یہ متنازع پلان کئی نئے مسائل کا باعث بنے گا۔ دوسروں پر تنقید کے ساتھ ہمیں جذبۂ خود احتسابی کے تحت اپنے گریبان میں بھی جھانک لینا چاہئے۔ شدت پسندی کی وجہ سے ہم دنیا میں امن کے داعی کا کردار ادا کرنے کی بجائے منافرتوں کے سوداگروں کی حیثیت سے جانے یا پہچانے جاتے ہیں اور اندرونی طور پر بھی جبرو جہالت میں لتھڑے ہوئے ہیں۔ درویش نے ارضِ مقدس کے تنازع کو جتنا بھی سمجھا ہے اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ دو ریاستی حل بھی بالآخر ناپائیدار اور تباہ کن ثابت ہوگا، جس نوع کی فلسیطنی ریاست بننے جا رہی ہے وہ محض معاشی ہی نہیں کئی حوالوں سے viableنہیں ہو پائے گی۔ مسلم ورلڈ کی معتدل قیادتیں جن کے امریکہ سے بہتر تعلقات ہیں عرب لیگ اور OIC مل بیٹھ کر معتدل سوچ تشکیل دیتے ہوئے ٹرمپ کی میعاد پوری ہونے کے بعد نئی منتخب ہونے والی امریکی قیادت خواہ وہ ٹرمپ ہی ہوں یا کوئی اور، سے بات کرے جس کا بنیادی نقطہ یہ ہو کہ کس طرح اسرائیلی اور فلسطینی عوام کی باہمی منافرتوں کا بتدریج خاتمہ ہو سکتا ہے۔ اگر لبنانی آئین میں شیعہ، سنی اور مسیحی فرقے متحدہ قومیت تشکیل دیتے ہوئے اختیارات اور ذمہ داریاں بانٹ سکتے ہیں تو کسی اور جگہ یہ تجربہ کیوں نہیں دہرایا جا سکتا۔ کنعان (اسرائیل) دونوں کا مشترکہ وطن ہے اگر اس بڑی سوچ کو اپنا لیا جائے تو خطے کے ایک سو ایک مسائل ختم ہو سکتے ہیں۔ اس کے لیے مذہبی تنگنائوں کو کشادگی و محبت میں بدلنا پڑے گا، اس سوچ کے ساتھ کہ مذہب بندے اور خدا کا باہمی معاملہ ہے۔