آپ آف لائن ہیں
اتوار11؍شعبان المعظم 1441ھ 5؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

امریکی این جی او کے بغیر رجسٹریشن پاکستان میں کام کرنے کا انکشاف

لاہور (جواد رضوی) ایک امریکی بین الاقوامی این جی او ٹوبیکو فری کڈز ایک ایسے وقت پاکستان میں کام کر رہی ہے جب حکومت ایف اے ٹی ایف سے بلیک لسٹ ہونے سے بچنے کے لئے سرتوڑ کوشش کر رہی ہے۔ یہ این جی او پاکستان میں کسی رجسٹریشن کے بغیر سرگرم عمل ہےجبکہ پاکستان اس وقت ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ سے بچنے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ اس نے کسی سرکاری محکمے یا خصوصاً وزارت داخلہ سے کوئی رجسٹریشن نہیں کرائی ہے۔ ٹوبیکو فری کڈز کے عنوان سے این جی او پاکستان میں مختلف سرگرمیوں میں مصروف ہے۔ ایس ای سی پی حکام نے بھی تصدیق کی کہ مذکورہ این جی او کی رجسٹریشن کے حوالے سے ڈیٹا کا کوئی علم نہیں ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ این جی او مستقل بنیادوں پر نیشنل ہیلتھ سروسز سمیت سرکاری محکموں سے ڈیل کرتی ہے۔ اس وقت وزارت داخلہ نے بین الاقوامی این جی اوز کی رجسٹریشن کے لئے کڑا طریقہ کار اختیار کر رکھا ہے جس میں انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والوں سے کلیئرنس لینا بھی شامل ہے۔ ساتھ ہی اقتصادی امور ڈویژن بھی ان این جی اوز سے نمٹتا ہے۔ واضح رہے کہ نیشنل این ہیرنٹ رسک اسسمنٹ (این آر اے) نے پاکستان میں تقریباً نصف درجن فعال این جی اوز کا پتہ چلایا ہے جودہشت گردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کے بارے میں ایف اے ٹی ایف کی وضع کردہ تعریف کے زمرے

میں آتی ہیں۔ ایک ماہر کے مطابق ایس ای سی پی قانونی طور پر این جی اوز کو ریگولیٹ نہیں کرسکتا۔ 15 ہزار این جی اوز میں سے اکثر رجسٹرڈ ہیں۔ ان کے علاوہ بڑی تعداد میں غیر رجسٹرڈ خیراتی ادارے بھی ہیں، جن کی قطعی کا علم نہیں ہے۔ اگر ان کے بین الاقوامی دہشت گرد نیٹ ورکس سے تعلق نکلا یا اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ فہرست میں شامل ہیں تو یہ پاکستان کے لئے بڑا خطرہ ہوگا۔ ایک سینئر سرکاری افسر کا کہنا ہے کہ جو بین الاقوامی این جی اوز غیر ملکی فنڈز اور مالی اعانت حاصل کرتے ہیں، انہیں وزارت داخلہ سے رجسٹر ہونا پڑتا ہے۔ ٹوبیکو فری کڈز کے کنٹری ہیڈ واک نے کہا کہ ان کی تنظیم کا پاکستان میں کوئی دفتر نہیں ہے تاہم انہوں نے پارٹنرز کے بارے میں کچھ بتانے سے گریز کیا۔ موقف جاننے کے لئے بار بار رابطے کے باوجود ترجمان وزارت داخلہ دستیاب نہیں ہوئے۔

اہم خبریں سے مزید