آپ آف لائن ہیں
پیر12؍شعبان المعظم 1441ھ 6؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

سوال:۔مجھے ایک ذاتی نوعیت کامشورہ درکار ہے۔میں اپنی زندگی ہی میں اپنی جائیداد اولاد میں تقسیم کردوں یا ایسا نہ کروں ؟( بدیع الزماں،کراچی)

جواب:۔ زندگی میں تقسیم جائز ہے ،مگر ضروری نہیں ہے۔تقسیم کرنے یا نہ کرنے کے متعلق ایک ہی نوعیت کا مشورہ سب کو نہیں دیا جاسکتا۔اگر اولاد نیک ہے اور والد محسوس کرے کہ انہیں فوری ضرورت ہے یا والد کو اندیشہ ہو کہ اس کی وفات کی بعد کچھ ورثاء کو میراث سے محروم کردیا جائے گا، مثلاً بیٹے اپنی بہنوں کو حصہ نہیں دیں گے تو زندگی میں تقسیم بہتر ہے اور اگر یہ اندیشہ ہو کہ اولاد فسق وفجور اوراللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں رقم خرچ کردے گی یا حصہ ملنے کے بعد نافرمان ہوجائے گی تو پھر تقسیم نہ کی جائے۔

اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

masail@janggroup.com.pk

اقراء سے مزید