آپ آف لائن ہیں
بدھ21؍ذی الحج1441ھ12؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پاکستان کی برآمدات انتہائی کم، افغانستان، یمن، سوڈان اورایتھوپیا کے ساتھ کھڑاہے، ملک ایسے نہیں چلتے، گورنر اسٹیٹ بینک

کراچی / اسلام آباد (نیوز ایجنسیز / جنگ نیوز) گورنراسٹیٹ بینک رضا باقر نے کہا ہے کہ پاکستان کی برآمدات انتہائی کم ہیں ، پاکستان افغانستان، یمن، سوڈان، جنوبی سوڈان اور ایتھوپیا کے ساتھ کھڑا ہے اور ملک ایسے نہیں چلا کرتے، معاشی اشاریئے اب بہت بہتر ہوچکے، ایکسچینج ریٹ اور زرمبادلہ کے ذخائر تسلی بخش ہیں، تنقید کرنے و الے بھی خاموش ہیں، مالی اور کرنٹ اکائونٹ خسارہ کم ہوگیا ، سود کی شرح میں کمی افراط زر کم ہونے پر کی جائے گی، ہمیں اپنی پیداوار بڑھانے اور جدت لانے پر توجہ دینا ہوگی ۔ 

ان خیالات کا اظہار انہوںنے کراچی میں سی ای او سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کیا جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران خدمات کے شعبہ کی اوسط شرح نمو 5.5؍ فیصد رہی ہے۔ 

تفصیلات کےمطابق کراچی کے مقامی ہوٹل میں سی ای او سمٹ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ آج پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ ترقی کررہی ہے، اسٹیٹ بینک مستقبل کے لیے پر امید ہے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور مالیاتی خسارے کا بڑی خوش اسلوبی سے انتظام کیا گیا، ایک برآمدی یونٹ کے لیے قرضہ کی حد بھی دگنی کردی گئی، اسٹیٹ بینک ملک میں مالیاتی خدمات کا دائرہ وسیع کررہا ہے۔

گورنراسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ ایس ایم ایز کوسستے قرضے فراہم کیے جارہے ہیں، 500؍ ارب روپے کے قرضہ ایس ایم ایز کو جاری کیے جائیں گے تاہم یہ حجم ابھرتی ہوئی معیشتوں کے تناسب میں کافی کم ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ پاکستان کم ترین ایکسپورٹ کے ساتھ افغانستان، یمن، سوڈان، جنوبی سوڈان اور ایتھوپیا کے ساتھ کھڑا ہے اور ملک ایسے نہیں چلا کرتے۔ 

گورنراسٹیٹ بینک نے کہا کہ ملک کی نصف آبادی خواتین پر مشتمل ہے لیکن خواتین کی نمائندگی 5 فیصد سے بھی کم ہے، ملک کی بالغ آبادی میں خواتین اکاؤنٹ ہولڈرزکی تعداد 15 فیصد ہے، دنیا میں یہ تناسب 55 فیصد سے زائد ہے، اسٹیٹ بینک نے خواتین انٹرپرنیورزکے لیے خصوصی اسکیمیں متعارف کرائی ہیں، مشکل وقت کا سامنا ہے، آسان فیصلے کرنا ہوتے توپہلے کرلیے جاتے، معاشی ترقی کے لیے اسٹیٹ بینک ایکسپورٹ، انکلوژن، ڈیجیٹائزیشن پر توجہ دے رہا ہے۔ 

چھوٹی مالیت کی ادائیگیوں کے لیے الیکٹرانک پے منٹ پلیٹ فارم کا جلد اعلان کیا جائے گا، سیکنڈزمیں رقوم کا لین دین مکمن ہوسکے گا جب کہ نادرا اور پی ٹی اے کی مدد سے موبائل والٹ پے منٹ کا نظام بھی تیارکررہے ہیں۔

گورنراسٹیٹ بینک نے کہا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان معاشی نمو کے لیے اپنا کردار بخوبی انجام دے رہا ہے، جی ڈی پی میں ایکسپورٹ کا تناسب 10 فیصد سے بھی کم ہے، یہ تناسب عالمی تناسب سے کافی کم ہے، برآمدات میں پائیداراضافہ کے لیے اسٹیٹ بینک سہولتیں فراہم کررہا ہے۔

اہم خبریں سے مزید