تحریم نیازی ،لاہور
پاکستان اس اعتبار سے خوش قسمت مُلک ہے کہ موسم کی مناسبت سےجہاں انواع و اقسام کے پھل سارا سال دستیاب ہوتے ہیں، وہیں زرخیز مٹّی اور منفرد آب و ہوا نے بیش تر پھلوں کو ذائقے اور لذّت میں بھی دُنیا بھر میں ممتاز کر رکھا ہے۔جیسے ہمارے مُلک کا آم پوری دُنیا میں ذائقے اور مٹھاس کے اعتبار سے نمبر وَن قرار دیا گیا ہے، تو مالٹا اور کینو دنیا بَھرکے ترش پھلوں میں اپنا الگ مقام رکھتے ہیں۔ آم کے ساتھ کینو کئی مُمالک میں درآمد کیا جاتا ہے اور معیار کے اعتبار سے سرِفہرست ہے۔
ترش پھلوں کے خاندان میں مالٹا، مسمّی، کینو، سنگترہ، چکوترا، لیموں اور فروٹر وغیرہ شامل ہیں ،جن میں مالٹا موسمِ سرما کے پھلوں کا بادشاہ کہلاتا ہےکہ اس میں متعدد بیماریوں کا علاج پوشیدہ ہے۔ مالٹے کے کیمیائی اجزاء میں سٹرک ایسڈ اور وٹامن سی زائد مقدار میںپائے جاتے ہیں،تو وٹامن اے، کیلشیم، آئرن، جست، تانبے، پوٹاشیم اور فاسفورس کی مقدار نسبتاً کم ہوتی ہے۔کیلوریز کی مقدار بھی کم، جب کہ چکنائی، کولیسٹرول اور سوڈیم سِرے سے نہیں ہوتا، تو امراضِ قلب کے مریضوں کے لیے اس کا استعمال بے حدمفید ہے۔اس میں موجود فائبر،کولیسٹرول کی سطح نارمل رکھتاہے اور اضافی اجزاء کے اخراج میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ کولیسٹرول کی زیادتی کے شکار افراد کوروزانہ مالٹے کا جوس پینا چاہیے،اس سے کولیسٹرول کی مقدارمیں اضافہ نہیں ہوتا۔ علاوہ ازیں، مالٹے میں پائے جانے والے بعض اجزاء خون کی شریانوں کے مختلف خطرات کم کرنے کا سبب بنتے ہیں۔
نیز، پوٹاشیم خون کے دباؤ کو متوازن کرکے فالج سے تحفّظ فراہم کرتا ہے۔ مشاہدے میں ہے کہ ذیابطیس سے متاثرہ افراد عام طور پر پھلوں کی مٹھاس کی وجہ سے اُن کے استعمال میں احتیاط برتے ہیں یا پھر سِرے سے کھاتے ہی نہیں۔ تاہم، مالٹا ایک ایسا پھل ہے، جو مٹھاس کم ہونے کے سبب کسی خدشے کےبغیر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ خواتین کے لیے اس کی افادیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ چہرے کے داغ دھبّے اور جھائیاں دُورکرکے رنگ نکھارتا ہے۔ معدے کے لیے بھی اس کا استعمال اس لیے مفید ہے کہ غذا جلدہضم کرتا ہے، جب کہ پھوک سمیت کھانے سے قبض کی شکایت بھی ختم ہوجاتی ہے۔ اس کا استعمال دِل ودماغ کو راحت بخشتا ہے اور معدے کی تیزابیت ختم کرتا ہے۔ نیز، خون کی کمی دور کرکے مسوڑھوں سے خون آنے کی شکایت بھی رفع کرتاہے۔اس کے علاوہ نزلے زکام اور موسمی انفیکشنز سے بچاؤ میں بھی مددگار ثابت ہوتاہے۔ (مضمون نگار ماہرِ اغذیہ ہیں)