آپ آف لائن ہیں
منگل13؍شعبان المعظم 1441ھ 7؍اپریل2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

تھوڑی دیر کے لئے دنیا اور دنیاداری سے تھوڑا سا ہٹ کر اک اور قسم کے لوگوں کی دنیا میں جھانکتے ہیں کہ.... ’’لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے‘‘ایک سوداگر حضرت حاتم اصمؒ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا ’’میرے پاس بہت سا مال ہے۔

میں چاہتا ہوں کہ آپ اور آپ کے مریدوں کو اس میں سے کچھ پیش کروں‘‘ آپ نے مسکراتے ہوئے فرمایا ’’تمہارا بہت بہت شکریہ‘‘ لیکن میں سوچتا ہوں اور ڈرتا ہوں کہ اگر تو مجھ سے پہلے مر گیا تو مجھے کہنا پڑے گا کہ ’’اے آسمان سے روزی دینے والے! زمین سے روزی دینے والا مر گیا‘‘حضرت امام ابوحنیفہؒ نے اک عجیب سی بات تکبر اور غرور کے متعلق فرمائی کہ اور تو جتنے بھی گناہ ہیں۔

ان کی سزا میں تو دیر ہو سکتی ہے مگر تکبر اک ایسا گناہ ہے جس کی سزا فوراً مل جاتی ہے کیونکہ متکبر فوراً مخلوق کی نظروں سے گر جاتا ہے۔حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ تین آدمی فی الفور جنت میں داخل ہوں گے۔ اوّل جو اپنے کپڑے دھونا چاہے تو اسے کوئی پرانا کپڑا نہ ملے جس کو پہن کر وہ پہنا ہوا کپڑا دھو سکے۔

دوسرا وہ شخص جس نے اپنے چولہے پر دو ہنڈیائیں کبھی نہ چڑھائی ہوں اور تیسرا وہ شخص جو اپنے کم سن معصوم بچوں کی خوشی کے لئے وہ شے خریدنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو جسے لینے کے لئے وہ مچل رہے ہوں۔جناب سعدیؒ اپنے والد کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔

دوران سفر ایک رات اپنے والد کے ساتھ قرآن پاک کی تلاوت کرتے رہے۔ تہجد کے وقت آپ نے نماز پڑھی جبکہ دوسرے اہل قافلہ سو رہے تھے۔ آپ نے والد سے کہا ’’یہ کیسے بے خبر لوگ ہیں جو نیند میں غرق ہیں اور ان کو اتنی سی بھی توفیق نہیں کہ اُٹھ کر نماز پڑھ لیں۔‘‘

والد نے کہا جان پدر! لخت جگر! اگر تم بھی سوئے ہی رہتے تو اس سے کہیں بہتر تھا کہ ان لوگوں کی غیبت کرتے‘‘حضرت حمدون قصارؒ کا تقویٰ اس قدر تھا کہ اپنے ایک بیمار دوست کے سرہانے تشریف فرما تھے۔ دوست بستر مرگ پر عالم نزع میں تھا۔ دیگر احباب بھی دعا میں مصروف تھے کہ دوست نے جان جان آفریں کے سپرد کر دی تو آپ نے چند لمحوں بعد چراغ گل کر دیا۔

کسی نے سبب پوچھا تو بولے کچھ دیر پہلے یہ ہمارے دوست کا مال تھا لیکن اب یہ یتیموں کی امانت ہے۔حضرت جنیدؓ کے پاس اک شخص حاضر ہوا اور ہزار دینار ان کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے عرض کیا ’’اس رقم کو اپنے ہاتھوں سے اپنے لوگوں میں تقسیم کر دیجیے‘‘

آپ نے پوچھا کیا تمہارے پاس ان ایک ہزار دیناروں کے علاوہ بھی مال موجود ہے؟ اس نے اثبات میں سر ہلایا تو فرمایا ’’اور کیا تم اس مال میں اضافہ کے خواہش مند بھی ہو؟‘‘ اس نے پھر اثبات میں سر ہلایا تو بولے... ’’ان دیناروں کو تم ہی لے جائو کیونکہ باقیوں سے زیادہ تو خود تمہیں ان کی ضرورت ہے۔‘‘ربیع بن حیشم ؒ نے اپنے گھر کے صحن میں ایک قبر کھود رکھی تھی اور اکثر اس میں لیٹتے اور کہتے کہ اگر ایک پل بھی میں موت کو بھول جائوں تو میرا دل سیاہ ہو جائے۔

شیخ ابوالحسنؒ نے نئے غلام سے پوچھا... ’’تو کیا کھانا پسند کرے گا؟‘‘ بولا ’’جو آپ کھلائیں۔‘‘ پھر پوچھا ’’کیا پہننا چاہے گا؟‘‘ بولا ’’جو آپ پہنانا پسند فرمائیں‘‘ پھر پوچھا ’’کہاں قیام کرنا چاہتا ہے؟‘‘ عرض کیا ’’جہاں حضور پسند فرمائیں‘‘ آپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ غلام کو گلے سے لگاتے ہوئے فرمایا ’’تیری جو حالت میرے ساتھ ہے۔

کاش بالکل یہی حالت میری اپنے رب کے ساتھ ہو، تو کس قدر مبارک ہے‘‘حضرت وہبؒ اکثر فرمایا کرتے’’آئو ہم اس گناہ سے توبہ کریں جس سے توبہ کرنا لوگوں نے چھوڑ دیا ہے‘‘ پوچھا جاتا وہ کیا ہے تو بتاتے ’’دنیا کی محبت۔ عنقریب لوگ دنیا کو اچھا جانیں گے اور یہاں تک کہ اس کی اور اہل دنیا کی پرستش شروع کر دیں گے‘‘کسی زاہد و عابد نے میٹھا کھانا صرف اس لئے چھوڑ دیا کہ وہ اس کا شکر ادا نہیں کر سکتا۔

خواجہ حسن بصریؒ کو علم ہوا تو پیغام بھیجا... ’’کیا تم ٹھنڈے پانی کے ایک گھونٹ کا بھی شکر ادا کر سکتے ہو؟‘‘مرزا مظہر جان جاناں دہلوی کرائے کے مکان میں رہتے تھے۔

کسی نے کہا ’’مرزا! آپ اپنا مکان کیوں نہیں بنوا لیتے‘‘ تو ہنستے ہوئے کہا ’’چھوڑ جانے کو اپنے اور غیر کے گھر میں کیا فرق ہے؟‘‘حضرت عبداللہ ؒ درزیوں کا کام کرتے۔ ایک نوسرباز ان سے جب بھی کپڑے سلواتا تو کھوٹے سکے دے جاتا اور آپ چپ چاپ قبول کر لیتے۔ ایک بار ان کی غیرموجودگی میں ان کے ایک شاگرد نے کھوٹے سکے لینے سے انکار کر دیا اور کھرے سکے وصول کر لیئے۔

آپ کو واپسی پر علم ہوا تو اپنے شاگرد سے بولے’’تو نے اچھا نہیں کیا۔ وہ عرصہ سے میرے ساتھ اسی طرح کرتا ہے اور میں نے بھی اسے کبھی نہیں جتایا اور ہر بار اس خیال سے کھوٹے سکے بخوشی قبول کرتا رہا کہ اگر میں نے نہ لیئے تو یہ شخص کسی اور مسلمان کو فریب دے گا‘‘ابن سیرینؒ نے ایک شخص سے پوچھا... کیسے ہو؟

اس نے کہا ’’مقروض اور کثیر العیال ہوں‘‘ اسے گھر لے گئے۔ پیسے دیئے اور کہا ’’آدھے سے قرض اتارو باقی اہل خانہ پر خرچ کرو‘‘ اس کے بعد عہد کیا کہ کبھی کسی کا حال اس لئے نہ پوچھوں گا کہ اگر اس کی مدد نہ کر سکا تو کیا کروں گا۔

تازہ ترین