کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان میں گھریلو تشددنہ صرف ایک سماجی وبااور مسئلہ ہے بلکہ عورتوں پر ہونے والے تشد د میں سب سے بڑی قسم ہے۔ ساتھ ہی اس کا شکار ہونے والوں کے لئے قانونی اور نفسیاتی حل بھی بہت زیادہ نہیں ہیں اوران جرائم کو رپورٹ کرنے کا طریقہ کار بھی مشکل ہے۔ پاکستان میں خواتین اور بچیوں کے خلاف تشدد اور صنفی تشدد کی صورتحال تشویش ناک ہے اور ریاست کو اسے جنگی بنیادوں پر نمٹنے کی ضرورت ہے۔ان خیالات کا اظہارمقررین نے مقامی ہوٹل میں صنفی اور خواتین پر تشدد کی صورتحال پر رپورٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مقررین میں جسٹس (ر) ماجدہ رضوی، ڈاکٹر خالدہ غوث ،یو این ویمن سندھ کے کپل دیو، سی پی ایل سی کے شوکت علی ، جینڈر ایکٹیو الائنس کی سربراہ بندیا رانا ،مددگار نیشنل ہیلپ لائن کے بانی ضیاء احمد اعوان، وکلاء برائے انسانی حقوق و قانونی امداد کے پروگرام مینیجر محمد علی بلگرامی ودیگر شامل تھے ۔ تقریب میں حکومت، قانون سازوں اور سول سوسائیٹی کے مابین عورتوں کے لئے نظام تحفظ اورقوانین کی بہتری پر مکالمہ کے لئے اہم معلومات دی گئی ہیں۔ تقریب کا انعقاد وکلاء برائے انسانی حقوق و قانونی امداد نےصوبائی محکمہ ترقی نسواں اوریو این ویمن کے اشتراک سے کیا۔