• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کئی دنوں سے لاہور میں ہیں، لاہور میں انہوں نے مختلف سیمینارز سے خطاب بھی کیا ہے اور مختلف وفود سے ملاقاتیں بھی کیں، اس مرتبہ انہوں نے ایک نیا رخ اختیار کیا ہے۔ 

انہوں نے لوگوں کو اپنے پاس بلانے کے بجائے خود لوگوں کے پاس جانا پسند کیا ہے۔ دورۂ لاہور میں بلاول بھٹو نے پی ٹی آئی اور (ن) لیگ دونوں کو ہدفِ تنقید بنایا ہے۔

 تحریک انصاف پر تنقید عام لوگوں کو سمجھ آتی ہے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر بلاول بھٹو زرداری (ن) لیگ پر تنقید کیوں کر رہے ہیں۔ 

انہوں نے کیوں (ن) لیگ کے ترقیاتی کاموں کو جعلی ترقی قرار دیا ہے؟ بلاول بھٹو زرداری نے لاہور میں صحافیوں سے متعدد ملاقاتیں کی ہیں، وہ لاہور پریس کلب بھی گئے، لاہور کے وکلا سے بھی خطاب کیا، بار سے مخاطب ہو کر بہت کچھ کہہ بھی گئے۔ 

دائیں اور بائیں بازو کی بحث کو حالات کے جبر نے ختم کر دیا تھا، اس بحث کو بھی بلاول بھٹو کے دورۂ لاہور نے زندہ کر دیا ہے، انہوں نے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ترقی پسندوں سے ملاقات کرکے حالات کو نئے موڑ کا راستہ سوشل ڈیمو کریسی دکھایا ہے، اسی طرح انہوں نے مزدوروں سے بھی حالِ دل بیان کر ڈالا، عام آدمی کی پسی ہوئی زندگی پر بہت باتیں کیں۔ 

بلاول بھٹو زرداری نے لاہور میں پیپلز پارٹی کے ورکرز سے ملاقاتیں بھی کیں، جیالوں کو سراہا، پرانے کارکنوں کے گھروں کا رخ کیا، بلاول بھٹو زرداری نے یہ سب کچھ کیوں کیا؟ اس کے لئے انہوں نے لاہور ہی کو کیوں چنا؟ یہ وہ بحث ہے جو آج کل ان لوگوں میں ہو رہی ہے جنہوں نے سیاسی سیلابوں کے کئی رخ دیکھے، جنہوں نے امکانات سے حالات کو پیدا ہوتے ہوئے دیکھا اور حالات کے ہاتھوں سیاست کے بدلتے ہوئے دھارے دیکھے۔

میرے نزدیک ان سوالوں کے جواب زیادہ مشکل نہیں سیدھی بات ہے کہ بلاول بھٹو کو پنجاب میں سیاسی خلا نظر آیا، اس سیاسی خلا کو پُر کرنے کی آرزو میں انہوں نے تاخیر نہ کرتے ہوئے لاہور کا رخ کیا۔ 

لاہور میں بلاول بھٹو نےاپنے نانا کا چلن اپنایا، انہوں نے بانی چیئرمین کی فلاسفی پر عمل کیا۔ اگرچہ پنجاب میں اس وقت پی ٹی آئی کی حکومت ہے مگر سب جانتے ہیں کہ یہ حکومت اتحادیوں کے سہارے کھڑی ہے اور پھر جو کارکردگی دکھانا چاہئے تھی، وہ بھی نہیں ہے۔ (ن) لیگ کی قیادت ملک سے باہر ہے اور پارٹی تتربتر ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے گویا پنجاب میں ایک بڑا سیاسی خلا جنم لے چکا ہے، اسی کو دیکھتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے لاہور کا رخ کیا۔ 

انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ ان کے نانا کی سیاست کو لاہور ہی نے چار چاند لگائے تھے۔ بینظیر بھٹو شہید جلا وطنیوں اور حالات کے جبر کے باعث بھٹو صاحب کے جن راستوں کو نہ اپنا سکی تھیں، بلاول بھٹو ان راستوں پر چل پڑے ہیں۔ اگر ان کے حالیہ دورۂ لاہور کو دیکھا جائے تو ایک بات صاف نظر آتی ہے کہ انہوں نے زندگی کے ہر شعبے کے افراد سے رابطہ ضرور کیا ہے، خاص طور پر عام آدمی کی بات کی ہے۔ 

پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو یاد بھی کروایا ہے کہ پارٹی کی بنیاد اسی شہر میں رکھی گئی تھی، اسی شہر نے محترمہ بےنظیر بھٹو کا تاریخی استقبال بھی کیا تھا۔ شاید اسی لئے بلاول بھٹو نیا سیاسی طوفان لاہور ہی سے اٹھانا چاہتے ہیں، انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ جب تک پنجاب کا اقتدار ان کے پاس نہیں آتا، اس وقت تک وہ جو کچھ کرنا چاہتے ہیں، نہیں کر سکتے۔ 

یہ سچ ہے کہ پیپلز پارٹی پنجاب میں رفتہ رفتہ کمزور ہوئی، پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے اس طرف توجہ کم دی اور جونہی پارٹی نے (ن) لیگ کےساتھ مفاہمت کی سیاست کا آغاز کیا تو عمران خان کو ایک سیاسی خلا مل گیا، عمران خان نے اسی سیاسی خلا کا فائدہ اٹھایا اور آج عمران خان کے پاس وفاق کے علاوہ پنجاب کا اقتدار بھی ہے۔

 آج جب (ن) لیگ کی قیادت بھاگ کر لندن جا چکی ہے تو ایک مرتبہ پھر سیاسی خلا پیدا ہو چکا ہے، پی ٹی آئی کی اپوزیشن کرنے کیلئے بلاول بھٹو نے سرگرمیاں شروع کر رکھی ہیں، اگر وہ اسی طرح کام کرتے رہے تو یقیناً تحریک انصاف کے مقابلے میں (ن) لیگ نہیں بلکہ پیپلز پارٹی ہوگی، بلاول بھٹو زرداری نے اسی لئے جو سیاسی چال چلی ہے وہ پیپلز پارٹی کی بنیادی فلاسفی پر مشتمل ہے، انہوں نے لاہور پریس کلب اور لاہور بار سے مراسم بحال کیے ہیں، مزدور اور کچی بستی سے تعلق جوڑا ہے، بائیں بازو کے ترقی پسندوں کو اکٹھا کیا ہے، جدوجہد کرنے والوں سے ملاقاتیں کی ہیں، طلبہ اور سول سوسائٹی سے رابطہ بحال کیا ہے یہ سب کچھ کرتے ہوئے تحریک انصاف اور (ن) لیگ کو ہدف تنقید بنایا ہے، یہی وہ سیاسی وار ہے جو ایک تیکھا اور سمجھدار سیاستدان کرتا ہے۔

 بلاول بھٹو لاہور سے کام شروع کرکے اسے پورے پنجاب میں پھیلانا چاہتے ہیں اور پنجاب میں اٹک بھی شامل ہے، اٹک سے لوگوں کی سیاسی یادیں وابستہ ہیں۔

گزشتہ دنوں اٹک میں مافیا کے چند ارکان نے پولیس سے مل کر اسلام آباد کے ایک سینئر صحافی تنویر اعوان کو تشدد کا نشانہ بنایا اس میں پولیس کے جونیئر اہلکار ملوث ہیں کیونکہ ڈی پی او اٹک سید خالد ہمدانی کے بارے میں مجھے خود خبر ہے کہ وہ نہایت ہی نفیس اور فرض شناس افسر ہیں مگر ایسے شاندار افسروں کو بھی مافیا کا ساتھ دینے والے جونیئر اہلکار بدنام کرکے رکھ دیتے ہیں۔ اب اگر اس بات کو واحد اپوزیشن لیڈر بلاول بھٹو اچھال دیں تو حکومت کی بدنامی ہی ہو گی۔

آصف علی زرداری بیمار ہیں اس دوران بلاول بھٹو کو چاہئے کہ وہ پنجاب کی سیاست کے حوالے سے فریال تالپور سے ضرور رہنمائی لیں کیونکہ فریال تالپور کو پتا ہے کہ پنجاب میں کس کس کے ساتھ بھلائی کی گئی تھی۔ مزدور، کسان، طالبعلموں اور صحافیوں کے ہم آواز ہوکر بلاول بھٹو، محسن نقوی کی زبان میں نعرے بلند کرتے نظر آ رہے ہیں کہ :توڑ ظلم کا غرور

تازہ ترین