آپ آف لائن ہیں
ہفتہ یکم صفرالمظفر 1442ھ19؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سو اصل معاملہ ماحول اور مقام سے زیادہ (گو یہ بھی اہم ہوتے ہیں) فرد کا ہوتا ہے۔ ’’زرخیز ذہن‘‘ کا مالک فرد انسانی تہذیب کی ترقی میں اہم ہوتا ہے جو نومولود خیالات لے کر سامنے آئے اور دنیا کو بتائے کہ وہ اربوں عام افراد کی طرح فقط مرنے کے لیے پیدا نہیں ہوا بلکہ دنیا پر اپنے پیروں کے ایسے مستقل نشانات ثبت کرے گا،جو اعتماد و مسرت کی علامت ہوں گے۔ اس امر میں ’’پٹے ہوئے رستے‘‘ سے ہٹ کر دوسرا رستہ اختیار کرنا بھی ضروری ہے۔ قابلِ قدرافراد عمومی اورمعروف خیالات سے ہٹ کر نیا، مگر قائل کرنے والا قابلِ یقین خیال تب سامنے لے کر آتے ہیں، جب وہ چیزوں کو مختلف اور تازہ رخ سے دیکھتے ہیں۔ مارک اے لیملے اپنے معرکۃالآرا مقالے’’واحد موجد کا فسانۂ باطل‘‘ میں بہت سی غلط طور پر معروف باتوں کی تصحیح و وضاحت کرتا ہے۔ وہ وضاحت کرتا ہے ’’بہ یک وقت ایک ایجاد مختلف شکلوں میں مختلف جگہوں پروجود رکھتی ہے اور درجہ بہ درجہ بہتری کے بعد وہ قابلِ عمل شکل اختیار کرتی ہے۔ 

یہاں تک کہ انقلابی ایجادات بھی یک دَم وجود میں نہیں آتیں۔‘‘ وہ بیان کرتا ہے کہ کپاس کو بیج سے علیحدہ کرنے والی مشین، ٹیلی گراف، ٹیلی فون، بجلی کا بلب، فلم پروجیکٹر، گاڑی، ہوائی جہاز، ٹیلی وژن اوردیگر کئی ایجادات کے موجد ایک سے زیادہ ہیں اوریہ تدریجی عمل سے گزر کر وجود میں آئیں۔ چند معروف مثالیں یوں ہیں۔ الیگزنڈر گراہم بیل نے ٹیلی فون ایجاد کیا اور آج بھی جب گھنٹی بجتی ہے تو اُس کے نام پر کہا جاتا ہے کہ ’’بیل‘‘ بجی ہے۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ گراہم بیل نے برقی سگنل کو آواز میں منتقل کیا۔ یہ درحقیقت ٹیلی گراف کا تسلسل تھا۔ بہت سے لوگ اس منصوبے پر کام کررہے تھے۔ 

فلپ ریس نے 1860میں صوتی ٹرانس میٹر بنا لیا تھا اور ہرمن لُڈوِگ نے بھی ریسیور بنالیا تھا۔ گراہم بیل کا اصل کارنامہ عام آوازوں اور گویائی کی آواز کو بجلی کی قوت میں کمی بیشی کےذریعے اختیار میں کر لینے کا تھا۔ یہ مقابلے کی ایک ایسی دوڑ تھی جس کی اختتامی لکیر پر گراہم بیل پہلے پہنچ گیا۔ ایلی شاگرے نے عین اُسی تاریخ کو ٹیلی فون کے پیٹنٹ کے لیے درخواست دی، جس روز بیل نے درخواست جمع کروائی۔ عدالت نے بالآخر فیصلہ بیل کے حق میں دے دیا۔ بہ قول لیملے ’’بیل کے، موجدوں میں نمایاں مقام کا سہرا اُس کے لیبارٹری میں کام کے علاوہ اُس کی عدالتی فتوحات اور منڈی میں کام یابی کے سَربھی ہے۔‘‘ بجلی کا بلب اور ٹامس ایلوا ایڈیسن کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ عام طور پر سمجھا جاتا ہے اوراس مضمون میں بھی بیان کیا گیا کہ ایڈیسن نے بلب ایجاد کیا، گویا یہ جادوئی چراغ یک دَم اُس کے ہاتھ آگیا۔ ایڈیسن کی ایجاد سے پہلے نہ صرف بجلی سے پیدا ہونے والی روشنی ایجاد ہو چُکی تھی بلکہ بجلی کی گرمی سے چمکنے والے بلب بھی ایجاد ہوچکے تھے۔ جب دیگر موجدوں کو ایڈیسن کی اختراعات کا علم ہوا تو انہوں نے اپنی ایجادات کے حقوق میں مداخلت کے الزام پر اُس پرعدالتوں میں ہرجانے کے کیس دائرکردیے۔ درحقیقت ایڈیسن نے معلوم کرلیا تھا کہ بانس کی ایک خاص قسم میں کاربن کاغذ کی نسبت زیادہ مدافعت ہوتی ہے، سو وہ زیادہ موثر طریقےسےروشنی پیدا کر سکتا ہے۔ یعنی بجلی کو زیادہ مزاحمت کاسامنا ہوگا تو اس کے گزرتے وقت زیادہ روشنی پیدا ہوگی۔ یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ دو اشیا ء کو جتنازور سے رگڑا جائے، اُتنی زیادہ حرارت پیداہوتی ہے۔اسی طرح بجلی زیادہ مدافعت پر زیادہ روشنی پیدا کرتی ہے۔ اِس دریافت سے ایڈیسن معروف اور رئیس تو ہوا مگر اس کام یابی میں خاصاحصّہ اس کی عُمدہ صنعتی پیداوار اور موثر تشہیر کا بھی تھا۔

مرسیڈیز اور رینالٹ گاڑیوں کے معروف برانڈ ہیں۔ درحقیقت یہ نام اُن گاڑیوں ہی کے نہیں، اُن کے مالکان کے بھی ہیں۔ یہ دونوں کمپنیاں پہلے سائکلیں بناتی تھیں۔ گاڑی اُن کی تحقیق و ترقی کی علامت ہے۔ سائکل درجہ بہ درجہ ترقی کرتی ہوئی گاڑی کی شکل اختیار کر گئی ۔ ایک ٹرائی سائکل میں(تین پہیوں والی سائکل، جیسے سائکل رکشا) انجن لگا دیا جائے تو وہ گاڑی بن جاتی ہے۔ ابتدا میں ٹرائی سائکل میں انجن لگا کر اُسے گاڑی کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ 

بعد ازاں گوٹ لیب اور ولہلم نے چار پہیوں والی سائکل میں چار اسٹروک انجن لگا دیا اور جدید کار ابتدائی شکل میں تیار ہوئی۔ اصل کمال تو ہنری فورڈکا تھا جس نے پہلی مرتبہ ’’اسمبلی لائن‘‘ کا تصوّر دیا، جس میں ہر شعبہ گاڑی کے مخصوص حصّوں پر کام کرکے اُسے آگے بڑھا دیتا تھا، یہاں تک کہ آخر میں ایک کےبعد دوسری گاڑی تیار ہوتی چلی جاتی تھی۔ یہ ایک نئے اورانقلابی’’کاروباری خیال‘‘ کی ایجاد تھی، جس نے آنے والے وقت میں تہلکہ مچا دیا۔ یوں گاڑی ایک بتدریج سامنے آنے والی ایجاد کی عُمدہ مثال ہے۔ لیملے اپنے مقالے کے اخیر میں چار ایسےموجدین کا تذکرہ کرتاہے، جن کی ایجادات فقط ان کے اپنے انفرادی خیالات کی پیداوار تھیں۔ البتہ دل چسپ بات یہ ہے کہ یہ تمام ایجادات حادثاتی طور پر وجود میں آئیں۔ مثلاً الیگزنڈر فلیمنگ کی ایجاد پینسلین تب حادثاتی طور پر وجود میں آئی، جب بیکٹیریااور پھپھوندی کا اتفاقاً ملاپ ہوا۔ 

اِسی طرح لوئی ڈیگرے بارہا کوششوں کے باوجود چاندی کی پلیٹ پر عکس اُتارنے میں ناکام رہا تواس نےجُھنجھلاکر اس پلیٹ کو کیمیائی مادّوں سے بھری الماری میں رکھ دیا۔ اس الماری میں پارے کا مرتبان بھی اُلٹا پڑا تھا، جس میں سے پارہ بہہ گیا تھا۔ اُس پارے کے بخارات نے پلیٹ پر عکس اُتاردیا۔ یوں کیمرے کی فلم وجود میں آئی۔ یہاں یہ امر ملحوظِ خاطر رہے کہ مذکورہ اور چند دیگر ایجادات موجدین کی کوششوں کا اتنا نتیجہ نہ تھیں، جتنا اتفاقات کا۔ اور یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ان موجدین کی کوششیں اُسی رُخ پرتھیں، جن پر وہ اتفاقات پیش آئے۔ اگروہ اس جانب کوشش نہ کررہےہوتےتو شاید متعلقہ اتفاقات بھی پیش نہ آتے۔ خیال کی نمو کےلیے وقت بہت اہم ہے۔ یعنی اگر خیال اُس وقت پیش کیا جائے، جب اُس کی ضرورت ہو یا ضرورت کا امکان ہو تو وہ کام یاب ہوگا۔ ای کامرس کے امکان کے لیے کمپیوٹر اور ورلڈ وائڈ ویب(www)کا ہونا ضروری تھا۔ اِسی طرح ہوائی جہاز کا خیال دوسو برس قبل بھی پیش کیا جاسکتا تھا، مگر اُس کے لیے پہلے انجن کی ایجاد ضروری تھی۔ اسی طرح یوٹیوب کو اگر تیس برس قبل متعارف کروا دیا جاتا تو یہ ناکام ہوجاتی کیوں کہ اُس وقت نہ تو تیز رفتار انٹرنیٹ کنیکشن تھے اور نہ ہی وہ سافٹ ویئر موجود تھے، جو ویڈیوز دیکھنے میں معاون ہوتے۔

دانش وَر، اسٹیون جانسن ایجادات وخیالات کے ارتقا پر چندنتائج کا تذکرہ کرتے ہیں، جن پر وہ اِس موضوع پر تحقیق کے دوران پہنچے۔ اُن کا کہنا ہے کہ اہم تبدیلیاں لانے والا خیال ابتدا میں چھوٹا سا واہمہ، قیاس، پروازِ فکر وغیرہ کی صورت میں ہوتا ہے۔ یہ نومولود ایک توانا خیال کی شکل بتدریج اختیارکرتاہے۔ ڈارون کا کہنا ہے کہ اُس کی مشہور ِ زمانہ ’’تھیوری آف نیچرل سلیکشن‘‘ (انتخاب فطری) مالتھس کی افزائش آبادی پر تحریریں پڑھتے وقت اُس کے دماغ میں کوندی (مالتھس کی تحریریں عموماً وسائل اورخصوصاً آبادی کے ساتھ خوراک کے وسائل سے تعلق پر بحث کرتی ہیں)۔ ڈارون کی ڈائریوں اور نوٹ بُکس کا مطالعہ بتاتا ہے کہ درحقیقت اس موضوع پر وہ خاصے عرصے سے سوچ بچار کررہا تھا اور مذکورہ تھیوری کا خاکہ وہ قریب قریب تیار کرچُکا تھا۔ 

یہ احساسِ ممکنات یا اندازہ ایک مکمل سوچی سمجھی تھیوری کی صورت میں وقت کے ساتھ ساتھ پختہ ہوا۔ ایک عنصر دیگر عناصر کےلیے توازن قائم رکھتا ہے۔ ایک چھوٹے سے جزیرے پر بھیڑیوں کا ایک غول بھیڑوں کاشکار کرکے اُن کی آبادی کو غیرمعمولی طورپر بڑھنے نہیں دیتا۔ اگربھیڑیں بڑھ جائیں تو وہ پورے جزیرے کے گھاس، پودے اوردرخت چَرجائیں اور یوں وہاں کا ماحولیاتی نظام بگڑجائے گا۔ جی پی ایس (GPS) گلوبل پوزیشننگ سسٹم کو فوجی استعمال کےلیےبنایاگیا تھا۔ بعد ازاں اس کا تجارتی استعمال اتنابڑھ گیاکہ یہ گاڑیوں سےلےکر اشتہاری کمپنیوں تک کے استعمال میں ہے۔ اس کی مثال یوں بھی دی جاسکتی ہے کہ اُود بلاؤ درختوں کو گرا دیتے ہیں، جو گلتے سڑتے رہتے ہیں۔ اُن میں ہُدہُد آکر سوراخ کردیتے ہیں۔ جب ہُدہُد وہاں سے رخصت ہو جاتے ہیں تو ان سوراخوں میں خُوب صُورت اور دل کش آوازوں والے پرندے قیام پذیر ہوتے ہیں اور جنگل میں سماں باندھ دیتے ہیں۔

وہ لوگ جو اپنے مخصوص حلقے سے باہر نکل کے اور متنّوع حلقوں میں اٹھتے بیٹھتے ہیں، ان میں نئے خیالات پیدا ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ اس بات سے عبداللہ حسین کی ایک بات یاد آگئی۔ وہ کہتے تھے کہ ایک ادیب کو زندگی کے ہر معاملے میں دلچسپی قائم رکھنی چاہیے تاکہ وہ اپنی تحریروں میں ان معاملات کا بہ خوبی احاطہ کرسکے۔ 

بڑے شہر بڑے خیالات کی آماج گاہ ہوتے ہیں۔ فلسفے، ایجادات، ناول، شاعری، ڈرامے، مجسمہ سازی، طب، تعمیرات سب ہی میں اہم ترین خیالات گئے وقتوں کے اہم شہری مراکز سے اُبھرے۔ درحقیقت شہر بڑےحلقےقائم کرنے اورچھوٹے حلقوں کا باہمی مربوط نظام قائم کرنے کا پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شہر، قصبات و دیہات کی بہ نسبت اپنے حجم اور آبادی کے تناسب سے کہیں بڑھ کر تخلیقی خیالات کی کثرت کا باعث بنتے ہیں۔ پھر گزشتہ چھے سو برس کی ایجادات اور دریافتوں کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ انفرادی کوششوں سے بڑھ کر اجتماعی کوششوں کا نتیجہ تھیں۔ عمومی تاثر یہ ہے کہ جدید سرمایہ دارانہ نظام نئے خیالات اور ایجادات کے پیش کرنے والوں کو معاشی خوش حالی بخشتا ہے، حالاں کہ جدید دَور میں سامنے آنے والی بہت سی ایجادات و خیالات اپنے مالکان کے لیے معاشی فائدہ نہ لاسکیں۔ 

اُن کی مثالوں میں ورلڈ وائڈ ویب، نظریۂ اضافیت، کمپیوٹر، ایکس۔رے، آلۂ قلب (پیس میکر) اور پینسلین وغیرہ شامل ہیں۔ معاشی خوش حالی یا انعامات کسی بھی موجد یا خیال کار کو اپنے شعبے میں نئی دریافتیں سامنے لانے پرزیادہ پرُجوش کرسکتے ہیں۔ اتفاقی ملاپ یا جوڑ بھی نئے خیالات پیدا کرتے ہیں۔ اِس کی بے حد دل چسپ مثال خوابوں میں آنے والے خیالات ہیں۔ ماہرین مطلع کرتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی امر یا منصوبے پر سوچتا ہوا سو جائے تو اُس کا دماغ نیند میں بھی اُس پر کام کرتا رہتا ہے۔ جرمن کیمیادان، کیکولےنےخواب میں ایک اساطیری اژدھے کو دیکھا، جو پلٹ کر اپنی ہی دُم کھا رہا تھا۔ اُس خواب سے اُس کے دماغ میں ایک خیال بجلی کی طرح کوند گیا کہ کس طرح کاربن ایٹم ایک دائروی چھلے کی شکل میں بینزین کا سالمہ (مالیکیول) بناسکتا ہے۔ ایک اورحیران کُن واقعہ ہے۔ ایلیاس ہووے ایک امریکی موجد تھا، جو سن 1800سے چلی آرہی فرسودہ سلائی مشین کا ڈیزائن زیادہ موثربنانا چاہ رہاتھا۔ اُس کےذہن میں سلائی مشین کی سوئی کا ناکا اور سوراخ اُس کے سَر ہی میں رکھنے کاخیال تھا، جیسا کہ آج کی عام سوئی میں بھی ہوتا ہے۔ 

یہاں تک کہ اُسے ایک خواب نظر آیا۔ خواب میں چند وحشی آدم خور ہاتھوں میں نیزے لیےاُس کاپیچھا کر رہے تھے۔ اُن کےنیزوں کی نوکوں میں سوراخ تھے۔ نیزوں کی نوکوں میں سوراخوں نے اُسے راہ سُجھائی کہ سلائی مشین کی سوئیوں کی نوکوں میں سوراخ رکھ کر اُن میں دھاگا ڈالا جائے۔ یوں جدید سلائی مشین کا خیال ایک خواب میں الہام کےذریعےایلیاس کو ہوا۔البتہ ایسے واقعات شاذونادر ہیں اور استثنیات میں شمار ہوتے ہیں۔ ویسے تو متعلقہ ماہرین نے یہ انکشاف بھی کیا کہ جس شخص کا دماغ جتنا زیادہ بے ترتیب خیالات کی آماج گاہ اور افراتفری کا شکار ہوگا، اُس کے تخلیقی ہونے کا امکان اتنا ہی زیادہ ہوگا۔ یعنی ہر بے ترتیب خیالات کا حامل شخص تخلیقی نہیں ہوتا مگر ہر تخلیقی ذہن کا مالک بےترتیب خیالات ضرور رکھتا ہے۔

پیرس کے کیفے ایسے لوگوں کی پسندیدہ جگہ تھی، جو 1920کے بعد ثقافتی جدیدیت کا دَور لے کر آئے۔ وہ ایک دوسرے کے خیالات سے آگاہی حاصل کرکے اپنے خیالات میں جدّت لاتے تھے۔ یہ وہی دَور تھا جب امریکا، برطانیہ، فرانس اور ہندوستان میں دانش ور باقاعدگی سے اکٹھے ہو کر ایک نادر فضا بنارہے تھے۔ پاک وہند کی ادبی فضا کو دیکھا جائے تو نہ صرف یہ اُردو افسانے کا دَورِ عروج تھا بلکہ تب کے اہم ترین افسانہ نگار، راجندر سنگھ بیدی، سعادت حسن منٹو، کرشن چندر، اے حمید، احمد ندیم قاسمی اور دیگر ایک ہی وقت میں عُمدہ ترین ادب تخلیق کررہے تھے۔ گویا نہ صرف باہمی میل ملاپ تھا بلکہ جذبۂ مسابقت بھی تھا، جو دوسروں سے بہتر تخلیقات پیش کرنے پر اُکساتا تھا۔ خوش نصیبی سے ایک ایسی فضا قائم ہوتی ہے کہ موجدودیگر تخلیق کار ایسی کاوشیں سامنے لاتے ہیں، جو ثقافتی و صنعتی تاریخ کا دھارا بدل دیتی ہیں۔ 

عظیم سائنس دان اور موجد بنجمن فرینکلن اور چارلس ڈارون بیک وقت کئی مختلف منصوبوں پرکام کرنے پر یقین رکھتے تھے۔ ایک وقت میں ایک منصوبہ مرکزِتوجّہ ہوتا اور دیگر منصوبے ان کے ذہنوں کے اوجھل گوشوں میں آہستہ آہستہ شکل اختیار کر رہے ہوتے۔ اِس طرح وہ ان منصوبوں کا باہمی ربط دریافت کر کے ایک منصوبے میں سے دوسرے منصوبے کی راہ میں حائل دشواریوں کا حل بھی تلاش کرلیا کرتے۔ معروف فلسفی، جان لاک نے 1652میں ایک ایسی دستاویزی کتاب تیار کر رکھی تھی، جس میں وہ اشاراتی نظام کے ذریعے مختلف نوعیت کے دل چسپ اور جدّت آمیز خیالات کو باہم منسلک کرتا تھا۔ قریباً چار سو برس گزرنے کے بعد بھی اُسے علمِ فلسفہ کا اہم نام تسلیم کیا جاتا ہے۔ ایڈیسن نے بھی اپنی لیبارٹری میں مختلف منصوبوں کے لیے علیحدہ سے گوشے بنا رکھے تھے۔ ایک منصوبے پرکام کے بعد وہ دوسرے منصوبے پر کام کے لیے دوسرے گوشے میں چلاجایا کرتا۔

باہمی حوالے(Cross-referencing)کاعام استعمال کمپیوٹر یا سافٹ پروگرام کی تحریر میں ہائپرلنک (Hyperlink) کی صُورت موجود ہوتا ہے، جس میں بیک وقت منسلک موضوعات پر مطالعہ وغوروفکر کیا جاسکتا ہے۔ فِکری تحریروں کے قارئین کے لیے ایڈورڈ ڈی بونو کے وضع کردہ ’’چھے فِکری ٹوپیاں‘‘ (Six thinking hats) نامی نظام کا مطالعہ اہم ہو سکتا ہے۔ یہ متوازی فکر کی بنیاد پر وضع کیا گیا نظام ہے۔ 

اس میں ہر ٹوپی کو ایک مخصوص رنگ دیاگیاہے اور یہ نظام دماغ کی قدرتی فکر کے قریب قریب انسان کو، مختص کردہ وقت کے اندر رہتے ہوئے، اپنی سوچ کوایک وقت میں ایک رُخ پر تشکیل کردہ انداز میں متحرک کرنے کی راہ نمائی و تربیت فراہم کرتاہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں ایجادات و خیالات انسانی فلاح کے علاوہ صنعتی اور کاروباری مقاصد کے ذریعے نفع کمانے کا باعث بھی بنتے ہیں۔ یوں یہ بعض صُورتوں میں فلاحِ عامہ اور دیگر صورتوں میں حصولِ سرمایہ کےمقاصد رکھتے ہیں۔ جدّت اور نئےخیالات نےبےشمار کاروباروں کو مقامی سے بین الاقوامی سطح تک پہنچا دیا۔ اِس ذیل میں کھانے پینے سے لے کر ملبوسات اورگاڑیوں سے لے کر الیکٹرانکس تک بے شمار بین الاقوامی برانڈز آتے ہیں۔ آسٹریلوی خاتون، میلانے پرکنز نے یکم جنوری 2012 کو سڈنی میں کانوا (Canva) نام کی ایک ویب سائٹ متعارف کروائی۔ یہ گرافک ڈیزائننگ (ترسیمیاتی تزئین کاری) کرتی ہے۔ (جاری ہے)