• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کورونا، پاکستان میں پہلی 2 اموات، دونوں پختونخوا میں ہوئیں، صوبے میں مزید پابندیاں، پنجاب کے شاپنگ مالز، ریستوران رات 10 بجے بند، تفریحی مقامات میں داخلہ ممنوع

کورونا، پاکستان میں پہلی 2 اموات، دونوں پختونخوا میں ہوئیں


پشاور / کراچی (نمائندہ جنگ / نیوز ایجنسیز) پاکستان میں کورونا وائرس سےپہلی 2؍ اموات ہوگئیں ،دونوں ہلاکتیں صوبہ خیبرپختونخوا میں جس میں سے ایک مردان اور دوسری پشاور میں ہوئی جبکہ کورونا وائرس کے مزید 67کیسز سامنے آنے کے بعد ملک بھر میں متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 304؍ ہوگئی ہے۔ سندھ میں 208، پنجاب 28، بلوچستان 23، پختونخوا19، اسلام آباد 2، گلگت بلتستان 15، آزاد کشمیر میں کورونا کے کیسز ہوگئے ہیں۔ 

علاوہ ازیں صوبوںمیں مزید پابندیاں عائد کردی گئیں ہیں اور بین الصوبائی بسیں بند کرنے پر سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے وزراء اعلیٰ نے اتفاق کرلیا ہے۔ 

پنجاب کے شاپنگ مالز، ریستوران رات 10بجے بند کرنے اور مری سمیت دیگر تفریحی مقامات میں داخلہ ممنوع کردیا گیا ہے ، دفاتر میں ملازمین کی تعدادمحدادکرنے کافیصلہ کرلیاگیا۔

گلگت بلتستان میں بھی 90؍ سالہ بزرگ کی کورونا وائرس سے ہلاکت کی اطلاع آئی تاہم گلگت بلتستان حکومت نے اس کی تردید کردی ۔بلوچستان حکومت نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے ایک ارب روپے کا فنڈ قائم کردیا ہے ۔ 

تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا میں گزشتہ 24؍ گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے 2؍ افرادجاں بحق ہوگئے۔صوبے میں دوافرادکی ہلاکت کے بعد صوبے بھر میں خوف وہراس پھیل گیا۔ 

بدھ کی شب پشاور کے بڑےسرکاری اسپتال لیڈی ریڈنگ میں کورونا وائرس سے ایک شخص کی ہلاکت ہوگئی ترجمان لیڈی ریڈنگ اسپتال کے مطابق 36سالہ عبدالفاتح جو کہ ضلع ہنگو کے علاقہ ٹل کا رہائشی تھا 17 مارچ کو لیڈی ریڈنگ اسپتال میں داخل کیا گیا تھا جو 18 مارچ 2020 ء کو جانبر نہ ہو سکا اور ہلاک ہوگیا ۔

ہلاک ہونے والے عبدالفاتح کے بارے میں معلوم ہواہے کہ وہ حال ہی میں دبئی سے واپس گھر لوٹاتھا۔اس سے قبل مردان کے علاقہ منگا سے تعلق رکھنے والا سعادت علی بھی کوروناوائرس سے جاں بحق ہوگیا۔

سعادت علی پیشے کے لحاظ سے ڈسپنر تھا جو علاقے میں ڈاکٹر سعادت خان کے نام سے مشہورتھا مقامی ذرائع کے مطابق وہ ایک ہفتہ قبل عمرہ کی سعادت سے لوٹ آیا سعادت خان کی گزشتہ روز طبیعت خراب ہو نے پر اسے اسپتال لا یا گیا اسپتال میں اس کے نمونے لیکرٹیسٹ کیلئے اسلام آباد لیبارٹری ارسال کئے گئے صوبائی وزیر صحت تیمورسلیم جھگڑا اورمشیراطلاعات اجمل وزیر نے صوبائی حکومت کی جانب سے کوروناوائرس سے دونوں ہلاکتوں کی تصدیق کردی ہے۔

ادھر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نےوزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان اور پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار سے ٹیلیفون پر رابط کر کے کورونا وائرس سے متعلق اپنے اقدامات سے آگاہ کیا ، وزیر اعلیٰ سندھ نے دونوں صوبوں کے وزیر اعلیٰ سے انٹر سٹی بس سرو س کے حوالے سے بتایا کہ سندھ آنے والی اور سندھ سے پنجاب اورکے پی کے جانے والی مسافربسیں کل سے روک دی جائیں گی۔

سرکاری اعلامیہ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب نے اس سلسلے میں اپنے چیف سیکرٹری کوسندھ کے چیف سیکرٹری سے بات کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ چیف سیکرٹری پنجاب اور چیف سیکرٹری سندھ انٹر سٹی بس سروس کی روک تھام سے متعلق میکنزم بنائیں گے ۔ محکمہ صحت سندھ کی ترجمان میران یوسف کے مطابق کراچی میں متاثرہ مریضوں کی تعداد 56ہوگئی ہے۔ 

انہوں نے بتایا کہ سکھر میں لائے جانے والے متاثرہ زائرین کی تعداد 151ہوگئی ہے جبکہ ایک مریض حیدرآباد میں ہے ۔ ان تمام مریضوں کو قرنطینہ کرکے صحت کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں ۔ 

انہوں نے بتایا کہ سندھ میں مجموعی طور پر کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 208 ہوگئی ہے ۔ دریں اثناء عوام کو کرونا سے تحفظ فراہم کرواتے ہوئے ایس ایچ او شریف آبادسب انسپکٹر کامران حیدر خود کرونا وائرس کی زد میں آگئے۔

دوسری جانب بلوچستان حکومت نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے ایک ارب روپے کا فنڈ قائم کردیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ مخلوط حکومت میں شامل جماعتوں کے اراکین اسمبلی اپنی ایک ماہ کی تنخواہ فنڈ میں دیں گے۔

انھوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ 20 اور اس سے زیادہ گریڈ کے افسران رضا کا ر تنظیمیں اور امدادی ادارے بھی فنڈ میں حصہ ڈالیں گے۔ اس سے قبل گلگت بلتستان میں کورونا وائرس سے متاثر مریض کی ہلاکت کی خبریں سامنے آئی تھیں تاہم وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حفیظ الرحمٰن اور وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے تردید کردی تھی۔

گلگت بلتستان کی حکومت نے اپنے بیان سے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا ہے کہ دیامر سے تعلق رکھنے والے 90 سالہ مریض کی موت کورونا وائرس کی وجہ سے نہیں ہوئی۔

یاد رہے کہ سیکریٹری صحت گلگت بلتستان راشد احمد نے وزیر اعلیٰ کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ کورونا وائرس سے دیامر سے تعلق رکھنے والا شخص جاں بحق ہوا۔ 

راولپنڈی کے آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف پیتھالوجی (اے ایف آئی پی) کی رپورٹ سے واضح ہوتا ہے کہ ʼمریض کا کورونا ٹیسٹ کا نتیجہ منفی آیا ہے اور اس کی موت نمونیا سے ہوئی۔ 

علاوہ ازیں صوبوںمیں مزید پابندیاں عائد کردی گئیں ہیں ، پنجا ب میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ،شاپنگ مالزاور ریستوران رات 10بجے بند کرنے کی ہدایت، مری اور دیگرتفریحی مقامات میں داخلہ ممنوع کردیاگیا، دفاتر میں ملازمین کی تعدادمحدادکرنے کافیصلہ کرلیا گیا۔ 

دوسری طرف وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا ہے کہ کورونا سے نمٹنے کیلئے23 کروڑ60 لاکھ کے فنڈ جاری کردئیے ہیں،صوبے میں دفعہ 144 اور ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں دکانیں رات 10 بجے بند ہوجائیں گی۔

کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے خدشات کے پیش نظر پنجاب حکومت نے مری سمیت دیگرسیاحتی مقامات بند کرنے اور مارکیٹس رات دس بجے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی زیرصدارت کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔

اجلاس میں بڑے شاپنگ مال اور دکانوں کو رات دس بجے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اس بات کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے کہ رات دس بجے کے بعد کسی بھی قسم کی سرگرمیوں کی اجازت نہ ہو۔اپیکس کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ صوبے میں کورونا وائرس کا زیادہ خطرہ بڑھنے پرریسٹورنٹ کو بھی بند کیا جائے گا۔

تازہ ترین