آپ آف لائن ہیں
منگل6؍شعبان المعظم 1441ھ 31؍مارچ 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

حسنین عباس

بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا:’’پاکستان اسی روز قائم ہو گیا تھا جس روز برصغیر کا پہلا شخص مسلمان ہوا تھا‘‘۔ قائد اعظم کے اس بیان سے یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کے نزدیک پاکستان کی بنیاد اسلام پر ہے اور قیام پاکستان کے قیام کا سبب دو قومی نظریہ ہے۔ اسی دو قومی نظریے کی بنیاد پر علامہ اقبال نے برصغیر کے مسلمانوں میں آزادی کی تڑپ پیدا کی اور ان کو ولولہ تازہ دیا۔

علامہ اقبال نے اسلام کی بقا کے لیے بھی مسلم ریاست کی ناگزیریت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس سرزمین میں ایک ثقافتی قوت کی حیثیت سے اسلام کی بقاء کا دارومدار اسے ایک مخصوص علاقے میں مرتکز کرنے پر ہے۔ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ ہندوستان اور اسلام کے بہترین مفادات کے پیش نظر ایک مربوط مسلم ریاست قائم کر دی جائے۔ اس سے ہندوستان میں طاقت کا اندرونی توازن امن وسلامتی کا پیامبر ہوگا اور اسلام کو موقع مل جائے گا کہ وہ اپنے قانون، اپنی تعلیم اور اپنی ثقافت کو حرکت میں لے آئے اور انہیں اپنی اصلی روح اور زمانہ حال کی روح کے قریب لے آئے۔

علامہ اقبال نے 1930ء میں الہ آباد میں ہونے والے مسلم لیگ کے اکیسویں سالانہ اجلاس کی صدارت کی اور اپنا تاریخی خطبہ دیا۔ اس خطبے میں انہوں نے واضح الفاظ میں قیامِ پاکستان کا مطالبہ کیا اور اس کے لیے قابل عمل تجاویز بھی دیں۔ آل پارٹیز مسلم کانفرنس کے قومی مطالبات کی تائید کرتے ہوئے حضرت علامہ نے فرمایا:’’ذاتی طور پر میں ان مطالبات پر مزید یہ کہوں گا کہ میں پنجاب، شمال مغربی سرحدی صوبے، سندھ اور بلوچستان کو مدغم کر کے ایک واحد ریاست کی صورت میں دیکھنا چاہتا ہوں۔ ایک مضبوط شمال مغربی ہند کے مسلمانوں کی آخری منزل ایک خود مختار حکومت ہی ہے خواہ یہ حکومت برطانیہ کے تحت بنے یا حکومت برطانیہ سے الگ ہو‘‘۔

قائد اعظم نے مسلمانان ہند کے لیے الگ وطن کے حصول کی جنگ جاری رکھی اور 22 سے 24مارچ 1940ء میں منٹو پارک (موجودہ اقبال پارک) میں ٓل انڈیا مسلم لیگ کے ستائیسویں سہ روزہ سالانہ اجلاس کی صدارت کی۔ قائد اعظم کی صدارت میں ہونے والے مسلم لیگ کے اس اجلاس میں قرار داد لاہور منظور کی گئی۔ جسے بعد میں قرار داد پاکستان کا نام دیا گیا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس اجلاس میں برصغیر کے مختلف حصوں سے کم و بیش ایک لاکھ کے قریب لوگوں نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم نے فرمایا:’’ہندو قوم اور مسلمان قوم کے بنیادی اختلافات کو محض وہم وگمان بنانا ہندوستان کی تاریخ کو جھٹلانے کے برابر ہے۔ ایک ہزار سال تک ایک ہی خطے میں آباد رہنے کے باوجود ان کے اختلافات اسی پرانی شدت کے ساتھ موجود ہیں۔ اس لیے یہ سمجھنا سراسرغلطی ہے کہ اگر اس ملک پر ایک آئین ٹھونس دیا گیا تو ہندو اور مسلمان ایک قوم بن جائیں گے۔ جو کام انگریزوں کی ڈیڑھ سو سالہ حکومت نہ کر سکی، وہ اب کیسے ہو گا؟ ہندوستان کا مسئلہ دو قوتوں کا مسئلہ نہیں جب تک اسے بین الاقوامی مسئلے کے طور پر حل نہیں کیا جائے گا یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا۔

مسلم لیگ کے اس اجلاس میں قرار داد لاہور منظور کی گئی۔ اس قرارداد کا متن پانچ پیراگراف پر مشتمل تھا۔ یہ مسودہ سر سکندر حیات خان نے تیار کیا تھا جس میں بعدازاں ترمیم کر دی گئی۔ شیر بنگال مولوی فضل حق نے یہ قرار داد پیش کی۔ جسے کثرتِ رائے سے منظور کر لیا گیا۔

قرار داد کے پہلے حصے میں انڈیا ایکٹ 1935ء کی مخالفت کی اور اس ایکٹ کو نا قابل عمل قرار دیتے ہوئے غیر مناسب اور ناقابل قبول قرار دیا۔ اس قرارداد کے دوسرے حصے میں واضح الفاظ میں الگ وطن کا مطالبہ کیا گیا۔ اسی وجہ سے اس قرارداد کو قرار داد پاکستان کہا جانے لگا۔ اس حصے میں کہا گیا تھا کہ اس وقت تک کوئی آئینی منصوبہ نہ تو قابل عمل ہوگا اور نہ ہی مسلمانوں کو قبول ہوگا جب تک ایک دوسرے سے ملے ہوئے جغرافیائی یونٹوں کی جدا گانہ علاقوں میں حد بندی نہ ہو اور جن علاقوں میں مسلمانوں کی عددی اکثریت ہے جیسے کہ ہندوستان کے شمال مغربی اور شمال مشرقی علاقے، انہیں یکجا کر کے ان میں آزاد مملکتیں قائم کی جائیں اور ان میں شامل یونٹوں کو خود مختاری اور حاکمیت اعلیٰ حاصل ہو۔

قرار داد پاکستان کی منظوری کے بعد ایک روز قائد اعظم نے اپنے سیکرٹری مطلوب الحسن سید سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:’’آج اقبال ہم میں موجود نہیں لیکن اگر وہ زندہ ہوتے تو یہ جان کر بہت خوش ہوتے کہ ہم نے بالکل ایسا ہی کیا جس کی وہ ہم سے خواہش کرتے تھے‘‘۔ علامہ اقبال کے خطبہ صدارت الہ آباد 1930ء اور قائد اعظم کے خطبہ صدارت لاہور 1940ء دونوں میں دو قومی نظریہ کو بنیاد بنا کر الگ وطن کا مطالبہ کیا گیا۔ قرا داد لاہور یا قرار داد پاکستان کے متن میں بھی اس دو قومی نظریہ کو ہی پیش نظر رکھا گیا۔

آج کل بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے اس سے یہ بات ثبوت ہو چکی ہے کہ بانیانِ پاکستان کا دو قومی نظریہ کی بنیاد پر الگ وطن کا مطالبہ درست تھا۔ جن لوگوں نے اس وقت قائد اعظم اور بانیانِ پاکستان کے الگ وطن کے مطالبے کی مخالفت کرتے ہوئے بھارت سے الحاق کا فیصلہ کیا تھا وہ آج اپنے کیے پر پچھتا رہے ہیں اور علامہ اقبال اور قائد اعظم کی دور بینی کو خراج تحسین پیش کر رہے ہیں۔ آج ہمیں بھی یہ عہد کرنا ہے کہ ہم بانیانِ پاکستان کے خطوط پر چلتے ہوئے ملک پاکستان کی ترقی وکامرانی کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔

اسپیشل ایڈیشن سے مزید