آپ آف لائن ہیں
بدھ11؍ شوال المکرم 1441ھ3؍جون 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

حاجی حبیب الرحمٰن سے انٹرویو

مصنّف:مُنیر احمد مُنیر

صفحات: 1048

قیمت: 3000روپے

ناشر: ماہنامہ آتش فشاں،78ستلج بلاک، علّامہ اقبال ٹاؤن، لاہور۔

مُنیر احمد مُنیر کا نام صحافتی حلقوں میں ایک زمانے سے معروف ہے۔ ساٹھ کے عشرے کے وسط سے صحافت کا آغازکیا۔اگرچہ صحافت کے جملہ شعبوں میں مہارت کے حامل رہے ، تاہم’’ انٹرویو‘‘اُن کی مہارت کا اختصاصی میدان ہے۔اس عنوان سے اُنہوں نے دائیں اور بائیں بازو کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھا اورشایدیہی وجہ ہے کہ اُن کے انٹرویوز وسیع حلقوں میں پسندیدگی کی سَند بھی رکھتے ہیں۔ اپنے اپنے شعبوں کی نام وَر، خصوصاً سیاسی شخصیات سے طویل انٹرویو کرنے میں شاید ہی کوئی اُن کا ہم پلّہ قرار دیا جا سکے۔ کئی برس قبل اُنہوں نے پاکستان کی سول سروس سے وابستہ افسر اور مختلف اہم سرکاری عُہدوں پر فائز رہنے والے، سابق آئی جی پنجاب، راؤ رشیدکی ہنگامہ خیز اور اُتار چڑھاؤ سے پُر زندگی کے بارے میں سیاسی نوعیت پر مبنی طویل گفتگو کی ، جسے ’’جو مَیں نے دیکھا‘‘ کے عنوان سے کتابی صُورت میں قارئین کے سامنے پیش کیا ۔ 

کتاب کے مندرجات اس درجہ انکشافات پر مبنی تھے کہ اُسے راتوں رات مقبولیت حاصل ہو گئی۔نہ صرف مذکورہ کتاب کے کئی ایڈیشن شایع ہوئے، بلکہ اُسے پڑوسی مُلک میں بھی سراہا گیا۔ کتاب میں پیش کردہ متن یا جوابات سے قطع نظر اُس میں مصنّف کے دریافت کردہ سوالات ہی دراصل اس نوعیت کے تھے، جنہوں نے راؤ رشید کو مجبور کردیا کہ وہ کُھل کر اظہارِ خیال کریں اور یہی کتاب کی مقبولیت کا سبب قرار پایا۔ زیرِنظر کتاب ’’کیا کیا نہ دیکھا‘‘ بھی اُن کی سابقہ کاوشوں یا انٹریوز کے مثل ایک اور کوشش ہے۔ اُنہوں نے اس بارجس شخصیت کاانٹرویو کیا، وہ1928ء کو جالندھر، مشرقی پنجاب میں پیدا ہونے والے حبیب الرحمٰن ہیں،جنہوں نے پچاس کے اوائل میں سی ایس ایس کا امتحان پاس کرنے کے بعد محکمہ ٔپولیس سے ملازمت کا آغاز کیا اور ترقّی پا کر آئی جی کے عُہدے تک جاپہنچے۔ 

ایک طویل عہد جینے،بَھرپور زندگی گزارنے والے حبیب الرحمٰن سے ’’کیا کیا نہ دیکھا‘‘ کے عنوان تلے صاحبِ کتاب نے انٹرویو کی شکل میںکُرید کُرید کر سوالات کیے ہیں۔یہ سولات اس نوعیت کے ہیں ،جو گفتگو کو واقعات کی جُزویات تک لے جاتے ہیں اور یوں اُن جوابات سے مختلف وقتوں کے اہم حالات و واقعات خود بخود قاری کے سامنے آجاتے ہیں۔ اگرچہ’’حاجی حبیب الرحمٰن سے انٹرویو‘‘ مئی 1998 ء تا جنوری 2003 ء کے دورانیے پر محیط ہے، تاہم اسے کتابی شکل حال ہی میں دی گئی۔ کتاب میں شامل تصاویر بھی اہمیت کی حامل ہیں۔ تاہم، اس گرانی کے دَور میں کتاب کی قیمت ایک عام قاری کی قوّتِ خرید سے بہرحال باہر ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید