آپ آف لائن ہیں
منگل6؍شعبان المعظم 1441ھ 31؍مارچ 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

نیب قانون، میر شکیل الرحمان غیر قانونی حراست میں ہیں

اسلام آباد (انصار عباسی) جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان نیب کی غیر قانونی حراست میں ہیں کیونکہ نیب آرڈیننس 1999ء چیئرمین نیب کو اختیار نہیں دیتا کہ وہ شکایت کی تصدیق کے مرحلے (کمپلینٹ ویری فکیشن اسٹیج) پر کسی کو گرفتار کر سکیں۔

نیب کے ساتھ کام کرنے والے ایک ذریعے نے دی نیوز کو بتایا ہے کہ میر شکیل الرحمان کی گرفتاری نیب کیخلاف سنگین نوعیت کی چارج شیٹ ہے۔

ذریعے کا کہنا تھا کہ نیب آرڈیننس کے سیکشن 24(اے) کے مطابق چیئرمین نیب انکوائری یا انوسٹی گیشن کے کسی بھی مرحلے پر اگر کسی ملزم کو پہلے گرفتار نہیں کیا گیا تو اسے گرفتار کرنے کی ہدایت جاری کر سکتے ہیں۔ نیب آرڈیننس کی مذکورہ بالا شق چیئرمین کو اختیار دیتی ہے کہ وہ انوسٹی گیشن یا انکوائری کے کسی مرحلے پر گرفتاری کی ہدایت دے سکتے ہیں لیکن میر شکیل کو 12؍ مارچ کو نیب لاہور نے چیئرمین نیب کے احکامات کے تحت کمپلینٹ ویری فکیشن اسٹیج پر گرفتار کیا گیا، جو کسی بھی انکوائری سے پہلے کا مرحلہ ہوتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب آرڈیننس 1999ء کے تحت پہلے چیئرمین نیب کے پاس کسی بھی وقت ملزم کی گرفتاری کا اختیار ہوا کرتا تھا لیکن 2000ء میں آرڈیننس میں ترمیم کے بعد سیکشن 24؍ (اے) کا اضافہ کرکے اس میں ’’انکوائری‘‘ کا اضافہ کیا گیا۔ نیب آرڈیننس 1999ء میں کمپلینٹ ویری فکیشن اسٹیج کا کوئی ذکر نہیں۔

اس مرحلے کو نیب کے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) کا حصہ 2005ء میں بنایا گیا تھا۔ ذریعے کا کہنا تھا کہ ان ایس او پیز میں شکایت کی تصدیق کے مرحلےکو خفیہ مرحلہ قرار دیا گیا ہے جس کا مقصد صرف اس بات کی تصدیق کرنا ہوتا ہے کہ شکایت درست ہے یا نہیں۔ ذرائع نے نیب کے ان ایس او پیز کی نقل دی نیوز کو بھی فراہم کی۔

ان میں ایک باب شکایات سے نمٹنے کے طریقہ کار کے متعلق بھی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ شکایت کا مطلب زبانی عائد کیا جانے والا الزام یا چیئرمین نیب کو تحریری طور پر کی جانے والی شکایت ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ کسی ایسے شخص کیخلاف نیب آرڈیننس 1999ء کے تحت کارروائی کی جائے جس نے آرڈیننس کے تحت کوئی جرم کیا ہے۔

ان ایس او پیز میں کہا گیا ہے کہ شکایات کے موصول، چھانٹی کرنے اور ان کی تصدیق کرنے کیلئے، کمپلینٹ ویری فکیشن سیل نیب کے ہر علاقائی دفتر میں فعال ہے، ان دفاتر کی قیادت ڈائریکٹر / ڈپٹی ڈائریکٹر کمپلینٹ کر رہے ہیں۔

اس سیل کے کام کاج میں شکایات کی وصول اور ان کا اندراج، معیاری فارمیٹ پر شکایت کرنے والے کیلئے تصدیق جاری کرنا، تاہم جعلی اور بے بنیاد شکایات یا ایسی درخواست جو قابل توجہ نہ ہو کیلئے وصولی کی تصدیق جاری نہیں کی جاتی، اس کے بعد شکایات کو ایگزیکٹو بورڈ کے جائزے کیلئے چھاننا، شکایات کی تصدیق یعنی ویری فکیشن، طے شدہ طریقہ کار کے مطابق ایگزیکٹو بورڈ کی جانب سے کیس آگے بڑھانے کی اجازت اور اس کے بعد ایگزیکٹو بورڈ کے روبرو کیس کو انکوائری میں تبدیل کرانے کیلئے اجازت کا حصول شامل ہے۔

ان ایس او پیز میں کمپلینٹ ویری فکیشن کے مرحلے پر کسی بھی ایسے شخص کو طلبی کا نوٹس جاری کرنے کا ذکر شامل نہیں ہے جس کی خلاف شکایت موصول ہوئی ہو۔ نیب آرڈیننس 1999ء اور نیب کے اپنے ہی ایس او پیز کے برعکس، میر شکیل الرحمان کو طلبی کا نوٹس جاری کیا گیا حتیٰ کہ شکایت کی تصدیق کے مرحلے پر ہی انہیں گرفتار کر لیا گیا۔

28؍ فروری کو نیب لاہور کے شکایت تصدیق سیل کی ڈپٹی ڈائریکٹر کو آرڈینیشن بینش نعمان نے میر شکیل الرحمان کو ڈپٹی ڈائریکٹر شکایت تصدیق سیل نرمل حسنی کے روبرو پیش ہونے کیلئے کال اپ نوٹس جاری کیا۔ نوٹس میں لکھا تھا کہ بیورو میں شکایت کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔ اس نوٹس کے ساتھ کوئی سوالنامہ منسلک نہیں تھا۔

5؍ مارچ کو نوٹس کے مطابق میر شکیل الرحمان نیب آفس میں پیش ہوئے اور نیب حکام کو دو صفحات پر مشتمل وضاحت پیش کی۔ تاہم، نیب حکام نے اسے وصول کرنے سے انکار کر دیا۔ نیب حکام نے اُن سے بیورو کو موصول ہونے والی شکایت کے متعلق سوالات کیے۔

میر شکیل نے حکام کو بتایا کہ یہ 34؍ برس پرانا معاملہ ہے لہٰذا ایک ہفتے کا وقت دیا جائے تاکہ پرانے ریکارڈ کو دیکھ کر بتایا جا سکے۔ انہوں نے حکام کو بتایا کہ وہ تمام دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ دوبارہ پیش ہوں گے۔ میر شکیل نے اُن سے تحریری سوالنامہ فراہم کرنے کو کہا تاہم نیب حکام نے تحریری طور پر کوئی بھی سوال دینے سے انکار کر دیا۔ بعد ازاں، میر شکیل نے درخواست کی کہ کم از کم انہیں سوالات لکھنے کی اجازت دی جائے۔

پہلے تو انہوں نے یہ درخواست قبول کرنے سے انکار کر دیا لیکن جب، میر شکیل نے وہاں نصب سی سی ٹی وی کیمرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب کچھ ریکارڈ ہو رہا ہے کہ نیب والے زبانی سوالات کیلئے بھی انکار کر رہے ہیں، تو انہوں نے درخواست قبول کر لی۔ یہی وہ وقت تھا جب نیب والوں نے 13؍ سوالات بتائے جو میر شکیل الرحمان نے کاغذ پر لکھے اور انہیں بتایا کہ وہ ان کے جواب لے کر 12؍ مارچ کو پیش ہوں گے۔

12؍ مارچ کو میر شکیل الرحمان نیب لاہور کے دفتر پیش ہوئے اور ان کے پاس 13؍ سوالوں کے جوابات تھے، یہ وہی سوالات تھے جو نیب والوں نے انہیں لکھوائے تھے۔ ان جوابات کے ساتھ، جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف اپنے ہمراہ تمام دستاویزی ثبوت بھی لے گئے۔

نیب لاہور کے دفتر میں پیش ہونے کے 20؍ منٹ بعد اے آر وائی نے خبر نشر کرنا شروع کر دی کہ نیب والوں نے میر شکیل الرحمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس بات کی کوئی وضاحت موجود نہیں کہ نیب والوں نے میر شکیل الرحمان کے جوابات کا کب جائزہ لیا اور کب چیئرمین نیب نے ان کی گرفتاری کے وارنٹس پر دستخط کیے تھے۔

عمومی طور پر وارنٹس اس انکوائری یا انوسٹی گیشن کے آخری مراحل کے موقع پر جاری کیا جاتا ہے، اور میر شکیل الرحمان کے معاملے میں کیس اس نہج پر پہنچا ہی نہیں تھا۔ میر شکیل نیب کے ساتھ شکایت کی تصدیق کے مرحلے پر بھی تعاون کر رہے تھے، اور زیادہ تر کیسز میں ملزمان کو طلب بھی نہیں کیا جاتا۔

اکتوبر 2019ء میں نافذ کی گئی نیب کی اپنی پالیسی کے مطابق، بیورو کو پہلے ایک سوالنامہ بھجوانا ہوتا ہے اور اُن کے جوابات ملنے پر، اگر یہ جوابات اطمینان بخش نہ ہوں تو، بیورو ایک اور سوالنامہ بھجوائے گا جس کے موصول ہونے کے بعد اگر یہ جوابات بھی اطمینان بخش نہ ہوں تو اُسی صورت اس شخص کو براہِ راست سوالات پوچھنے کیلئے طلب کیا جائے گا۔ میر شکیل کے کیس میں ایسا نہیں کیا گیا۔

15۔ ہر کیس میں نیب چار مراحل کے مطابق عمل کرتا ہے جو یہ ہیں:… اول) شکایت کی تصدیق، دوم) انکوائری، سوم) انوسٹی گیشن، چہارم) ریفرنس دائر کرنا۔

میر شکیل کے کیس میں نیب کو اس قدر جلدبازی تھی کہ اس نے اپنے ہی طے شدہ طریقہ کار کو روند ڈالا جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف کو شکایت کی تصدیق کے پہلے مرحلے پر کسی انکوائری کے شروع ہونے سے قبل ہی گرفتار کرلیا۔   

اہم خبریں سے مزید