آپ آف لائن ہیں
جمعہ13؍شوال المکرم 1441ھ 5؍جون 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group
تحریر:واٹسن سلیم گل۔۔ ایمسٹرڈیم
کیا ہونے جارہا ہے اور کیا نہیں یہ کوئی نہیںجانتا سوائے خدا کی ذات کے مگر ایک بات تو پکی ہے کہ کچھ نہ کچھ تو ہونے جارہا ہے۔ دنیا کے حالات جس تیزی کے ساتھ تبدیل ہورہے ہیں وہ حیرت انگیز طور پر عجیب وغریب ہے۔ اللہ سبحان تعا لیٰ کی اس زمیں پر ان واقعات کا اتنی تیزی کے ساتھ رونما ہونا اور ایک حیرت کے بعد دوسری حیرت کے درمیان کے وقت میں اتنا کم فاصلہ انسانی ارتقا کے زمانے سے آج تک نہیں ہوا۔ دنیا حیرت انگیز واقعات اور تاریخ سے بھری پڑی ہے۔ انسانی تاریخ اور ہماری زمین کی پیدائیش کے وقت میں بہت بڑا فرق ہے۔ زمین کی تخلیق کے عوامل میں بھی وقت بلکہ زمانوں کا فرق ہے۔ زمین کی عمر ساڑھے چار ارب سال ہے اس کے چند ملین سا ل بعد چاند کی پید ئش ہوئی اس کے چند ملین سال بعد زمین پر پانی پھر آکسیجن، پھر اوزون اور پھر ہریالی کی صورت میں زندگی کا وجود ہوا۔ ان تمام تبدیلیوں کے درمیان لاکھوں سال کے فاصلے موجود تھے۔ انسانی ارتقاء کے حوالے سے مختلف نظریات موجود ہیں سا ئنس کہتی ہے کہ انسان کروڑوں سال سے زمین پر موجود ہے۔ چارلس ڈارون کے نظریہ نے ایک الگ منطق پیش کر کے انسانی سوچ کو تقسیم کر دیا جب اس نے یہ تھیوری پیش کی کہ انسان بندر کی نسل کی ایک جدید شکل ہے۔ آج کے دور کے انسان کو ہومو سیپینزکہا جاتا ہے جبکہ اس کی پہلی شکل کو ہوموایرکٹس کہا جاتا ہے مگر سا ئنسدان دونوں کے درمیان کسی بھی قسم کا تال میل جوڑنے میں ناکام رہے ہیں۔ ہم جو کہ خدا تعا لیٰ کی ذات اقدس پر ایمان رکھتے ہیں ہمارا نظریہ اس حوالے سے مختلف ہے۔ دنیا میں سب سے بڑی آبادی سامی مذاہب یعنی دین ابراہیمی کے ماننے والوں کی ہے جن میں مسیحی، مسلمان اور یہودی شامل ہیں۔ ہمارا یہ ماننا ہے کہ انسان حضرت آدمؑ کی اولاد میں سے ہیں اور انسان کی تخلیق چھ سے ساڑھے چھ ہزار سال قبل ہوئی۔ ان ہزاروں برسوں میں دنیا میں بہت سے زلزلے، طوفان، سونامیاں، آفتیں اور بیماریاں نسل انسانی کو تباہ و برباد کرنے کے لئے اپنا زور لگاتی رہیں مگر چونکہ خدا تعا لیٰ رحیم اور کریم ہے جو شفقت کرنے میں غنی ہے اس نے انسان کو ان مشکلات سے نکالا ہے۔ میرے لئے حیرت اس بات کی ہے کہ میری زندگی میں، میں نے جو خوفناک حالات اور عجیب و غریب واقعات دیکھے ہیں ان کے درمیان کا فاصلہ بہت کم رہ گیا ہے۔ 1498 میں جاپان میں سونامی سے 35000 لوگ لقمہ اجل بن گئے۔ 1586 میں پھر جاپان نے اس صدی کی خوفناک سونامی کا سامنا کیا جس سے 10000کے قریب ہلاک ہوئے، 1755میں لزبن پرتگال 60ہزارزندگیوں کو نگل گیا، 1883 میں کراکاٹوا انڈونیشیا میں خوفناک سونامی نے تباہی مچا ئی، مگر میری زندگی میں ہم نے تاریخ کی دو بدترین سونامیوں کا سامنا کیا جن میں لاکھوں زندگیاں ختم ہو گئیں۔ اسی طرح تاریخ میں خوفناک ترین زلزلے جو ریکٹراسکیل پر اشاریہ 9 کی طاقت کے تھے دو بار میری زندگی میں گزرے۔ 2004 اور 2011 کو ۔ اس شدت کے زلزے انسانی تاریخ میںبہت کم ریکارڈ ہوئے۔ میری ہی زندگی میں کتھرینہ، ریٹا، مچ، ماریہ اور ڈیوڈ جیسے تاریخ کے خوفناک طوفان ظہور پذیر ہوئے ۔ دنیا میں بہت سی جان لیوا بیماریوں نے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں لوگوں کی جان لی جن میں خسرہ، چیچک، تب دق، کالی کھانسی، ملیریا، جزام، انفلونزا، ہیضہ وغیرہ شامل تھیں مگر انسان نے ان کا علاج دریافت کیا اور بہت بڑی تعداد کو اس عفریت سے نجات ملی۔ مگر میری زندگی میں ہمیں کچھ نئی قسم کی وباؤں کا سامنا ہے جن کا علاج ابھی تک ممکن نہیں ہے۔ کینسر، آدھے سر کا درد، الرجک، ایچ آ ئی وی ای، ایوئین فلو، زکا وائرس، کانگو وائرس، ایبولا وائرس، کورونا وائرس وغیرہ۔ یہ ایسی بیماریاں ہیں کہ انسان ابھی تک ان کے علاج کے لئے مکمل طور پر کو ئی کامیابی حاصل نہیں کر سکا۔ کیا ہماری دنیا خاتمے کے نزدیک ہے؟ کیا ہم اپنے منطقی انجام کی جانب گامزن ہیں؟، کیا خدا تعا لیٰ انسان سے ناراض ہے۔ یہ سوالات بہت سے لوگوں کے ذہین میں اٹھ رہے ہیں۔ ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ ہمیں اپنے گناہوں سے توبہ کرنی چاہئے۔ ہمیں اس مشکل دور میں ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہئے اور اس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ہمارے ایکسپرٹ اگر ہمیں یہ تجویز دے ر ہے ہیں کہ ہمیں اپنے، اپنے گھروں میں رہ کر اس خوفناک وائرس کو شکست د ینا ہوگی تو ہمیں ان کی تجاویز کو سنجیدہ لینے کی ضرورت ہے۔ اللہ سبحان تعا لیٰ کبھی بھی انسان پر اس کی طاقت او رحیثیت سے زیادہ آزما ئش نہیںدیتا۔ یاد رکھیں جب قوم لوط کو خدا نے تباہ کرنے کا فیصلہ کیا تو تب بھی خدا نے لوط کے گھرانے کو اس آفت سے نکلنے کا ایک راستہ بتایا کہ اس شہر سے جلد سے جلد دور چلے جاؤ اور پیچھے مڑ کر مت دیکھنا مگرحضرت لوط کی بیوی نے حکم عدولی کی جس کی سزا اسے ملی۔ اسی طرح آج بھی خداتعا لیٰ ہمیں اپنے بندوں کے وسیلے سے یہ پیغام دے رہا ہے کہ اپنے گھروں میں رہو تو محفوظ رہو گے۔ اور گھر سے نکلوگے تو اس بلا کو ساتھ لے کر گھر میں داخل ہوگے ۔خدا تعا لیٰ کی رحمت اور شفقت کا ثبوت یہ ہے کہ جب سے کورونا کے خوف سے لوگوں نے گھروں میں رہنا شروع کیا ہے ہمارے ماحول پر اس کے نہایت شاندار اثرات شروع ہو گئے ہیں۔ ہمارے ماحال میں آلودگی کا تناسب بہت حد تک کم ہوا ہے جس کے اثرات ہماری نسلوں کو ضرور ملیں گے۔ ایٹمی ہتھیار، بحری بیڑے، جراثیمی ہتھیار، اربو ڈالر رکھنے والے ملکوں نے بھی اس وبا کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔ اس وبا کے سامنے کو ئی صدر، وزیراعظم، بادشاہ، شہنشا نہیں ہے۔ سب اس وبا کے خوف، ہیبت اور ظلم کا شکار ہورہے ہیں ان کواگر کو ئی بچا سکتا ہے تو وہ ہے خدا کی ذات اس لئے سب کو اسے راضی کرنے کے لئے توبہ کرنی چاہئے۔
یورپ سے سے مزید