آپ آف لائن ہیں
پیر 9؍ شوال المکرم 1441ھ یکم جون 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

تفہیم المسائل

سوال:عوام میں یہ بات بے حد مشہور ہے کہ نام کا شخصیت پر بڑا اثر ہوتا ہے، اچھا یا برا، اسی کے ذیل میں یہ بات بھی ہے کہ بعض نام بھاری ہوتے ہیں۔ نیزحارث نام رکھنا کیسا ہے؟(عبدالمالک ،کراچی)

جواب:نام رکھنے اور ناموں کے ساتھ پکارنے کے بارے میں قرآن وحدیث میں تعلیمات موجود ہیں۔برے نام سے پکارنے کی ممانعت: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’ اور ایک دوسرے کو برے ناموںسے نہ پکارو،(سورۂ حجرات :11 )‘‘۔حدیث پاک میں ہے :’’ عبدالحمید بن جبیر بن شیبہ بیان کرتے ہیں:’’ میں سعید بن مسیب کے پاس بیٹھا ،تو انہوں نے مجھ سے بیان کیا : اُن کے دادا ، جن کا نام ’’حَزْن‘‘ تھا، نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارا نام کیا ہے؟، انہوں نے عرض کی: میرا نام ’’حَزْن‘‘ ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا: (نہیں) بلکہ تمہارا نام ’’سَہَل‘‘ ہے، انہوں نے عرض کیا : میں اپنے اُس نام کو جو میرے باپ نے رکھا ، تبدیل نہیں کروں گا، تو سعید بن مسیب نے کہا: تو (اسی لئے) ہمارے خاندان میں ’’حزونۃ‘‘(سختی) ہے ،(صحیح بخاری: 6193 )‘‘۔

نوٹ: حزونۃ کے معنٰی سختی کے ہیں ، اس سے یہ مفہوم اَخذ کیاجاسکتا ہے کہ نام کی معنویت کا اخلاق ومزاج پر کوئی اثر مرتب ہوسکتاہے ،ایساہونا ضروری نہیں ہے ۔

رسول اللہ ﷺ نے بعض نام نیک فال اور استحباب کے طور پر تبدیل بھی فرمائے،کیونکہ یہ قاعدۂ کلیّہ نہیں ہے کہ اگر کسی کے نام میں معنوی حسن نہیں ہے، تو اسے لازماً تبدیل کردیاجائے، چنانچہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں سے بعض کے اسمائےگرامی، جن میں معنوی حسن نہیں ہے ،آپ ﷺ نے تبدیل نہیں فرمائے۔ بلکہ نسبت سے عقیدت کی وجہ سے امت میں یہ نام رکھنے کی روایت ہمیشہ موجود رہی ہے ، کیونکہ اکابر کے نام پر نام رکھنے میں نسبت کی فضیلت کا حاصل کرنا مقصود ہوتاہے، ان میں سے چند نام یہ ہیں: جیسے عباس، عثمان، مُصْعَب، حُذَیفہ،سِماک، اُویس،حنظلہ ، عِکرمہ ، وکیع، قُتیبہ ، مِسوَر، عکاشہ، عَلقَمہ، عوف،جندل وغیرہ۔

رسول اللہ ﷺ نے اچھے نام رکھنے کی تلقین فرمائی اور چند ناموں کو آپ ﷺ نے تبدیل بھی فرمایا جیسا کہ حدیث پاک میں ہے:ترجمہ:’’حضرت ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بے تمہیں قیامت کے دن تمہارے ناموں اور تمہارے آباء کے ناموں سے پکاراجائے گا ، پس تم اچھے نام رکھاکرو ،(سُنن ابوداؤد:4948)‘‘۔

(۱)ترجمہ:’’حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں: رسول اللہ ﷺ برے نام کو (اچھے نام سے )تبدیل کر دیا کرتے تھے، (سنن ترمذی: 2839) ‘‘ ۔

(۲)ترجمہ:’’حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں : حضرت عمر ؓ کی ایک صاحبزادی کا نام عاصیہ تھا ، رسول اﷲ ﷺ نے اس کا نام جمیلہ رکھ دیا ، (صحیح مسلم:5599)‘‘۔واضح رہے کہ’’ عاص ‘‘کے معنی نافرمان کے ہیں اور ’’عاصیہ‘‘ اس کا مؤنث ہے۔

(…جاری ہے…)

اقراء سے مزید