آپ آف لائن ہیں
منگل 10؍ شوال المکرم 1441ھ 2؍ جون 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

کورونا وبا سے پیدا شدہ ابتر معاشی صورتحال سے نمٹنے کیلئے وزیراعظم ریلیف پیکیج کے تحت مشیرِ خزانہ حفیظ شیخ نے جمعرات کے روز یہ باعث ِ اطمینان اعلان کیا ہے کہ عوام کو بجلی اور گیس کے بل فوری طور پر جمع کرانے کی ضرورت نہیں، یہ تین ماہ بعد بھی جمع کرائے جا سکیں گے۔ اس تاخیر کا نقصان حکومت خود برداشت کرے گی۔ بیشک یہ وقت کی آواز ہے کیونکہ ایسی سماوی آفات میں جبکہ ملک بھر میں لاک ڈائون جیسی صورتحال پیدا ہونے کے سب سے زیادہ اثرات تنخواہ و اجرت دار درمیانے اور غریب طبقے پر پڑ رہے ہیں، ہزاروں ارب روپے کے قرضوں تلے دبی حکومت نے توانائی کے نرخ کم کر دینے اور یوٹیلیٹی بلوں کی ادائیگی موخر کر دینے کے آپشن استعمال کیے ہیں۔ سردی کا سیزن ختم ہونے کے بعد آئندہ تین ماہ کے دوران گرمی کے زور پکڑنے کی صورت میں گیس کی کھپت میں کمی اور بجلی کی طلب میں اضافہ ہو گا جو گزشتہ برس 22ہزار میگاواٹ سے تجاوز کر چکی ہے اور اب لاک ڈائون کے باعث اس کی پیداواری لاگت بڑھ جانا خارج از امکان نہیں۔ عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمتیں پھر سے بڑھنے لگی ہیں ایسے حالات میں بجلی کی رسد و طلب کا توازن برقرار رکھنا ایک چیلنج سے کم نہ ہوگا جس سے لوڈشیڈنگ جیسی کیفیت پھر سے پیدا ہو جانے کا احتمال ہے۔ مختلف مدوں میں وصول کیے جانے والے ٹیکسوں کے باعث بجلی کی قیمتیں تقریباً دوگنا ہو جاتی ہیں، ان کی ادائیگی موجودہ بحران کے بعد مشکل ہو جائیں گی کیونکہ کورونا پوری دنیا پر مسلط ہے اور اس کے اثرات ہر ملک کی معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں، اس سے آنے والے دنوں میں سب سے زیادہ غریب ممالک متاثر ہوں گے۔ یہ بات من حیث القوم ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے جس سے نبرد آزما ہونے کیلئے بہتر ہوگا کہ پہلے سے منصوبہ بندی کر لی جائے۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998

تازہ ترین