پاکستان کی معروف سابقہ اداکارہ اریج فاطمہ نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے بڑے بیٹے کے دل میں سوراخ تھا۔
اریج فاطمہ نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں بطور مہمان شرکت کی جہاں اُنہوں نے اپنے بچوں کے بارے میں بھی بات کی۔
اُنہوں نے بتایا کہ میرا بڑا بیٹا عیسیٰ کورونا کے دوران پیدا ہوا تھا، لاک ڈاؤن کی وجہ سے سب کچھ بند تھا اور الٹرا ساؤنڈ میں یہ بات سامنے نہیں آئی تھی کہ عیسیٰ کے دل میں سوراخ ہے۔
اریج فاطمہ نے مزید بتایا کہ عموماََ اگر کسی بچے کے دل میں پیدائش کے وقت سوراخ ہو تو وہ وقت کے ساتھ ساتھ خود بخود بھر جاتا ہے لیکن میرے بیٹے کے دل میں جس جگہ پر سوراخ تھا اس جگہ پر سوراخ بہت کم ہوتا ہے اور زیادہ تر اس طرح کے کیسز جاپان میں سامنے آتے ہیں حالانکہ میرا جاپان سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن پھر بھی میرے بیٹے کے دل میں اس طرح کا سوراخ تھا۔
اُنہوں نے بتایا کہ جب ڈیلیوری کے بعد مجھے یہ پتہ چلا تو بطور ماں میں خود کو قصور وار سمجھنے لگی کہ مجھ سے ہی کوئی غلطی ہوئی ہے اس لیے میرا بیٹا اس حال میں ہے۔
اریج فاطمہ نے بتایا کہ میں عیسیٰ کی صحت کے حوالے سے اتنی زیادہ پریشان اور خوفزدہ رہتی تھی کہ اس کا کیلوریز کاؤنٹ پورا کرنے کے لیے 5 ایم ایل کی سرنجز سے دودھ پلاتی تھی۔
اُنہوں نے بتایا کہ میں نے اپنے بیٹے کی صحت کو دماغ پر اتنا حاوی کر لیا تھا کہ میں دودھ پلانے کے چکر میں اس کو سونے ہی نہیں دیتی تھی تو اس وجہ سے اس کی طبیعت ایک دن زیادہ خراب ہوگئی، ایمرجنسی میں اسپتال سے رابطہ کیا تو ڈاکٹر نے بتایا کہ جو بچے دل کے مریض ہوتے ہیں اُنہیں ہر 3 گھنٹے کے بعد دودھ پلایا جاتا ہے اور وہ 15 منٹ میں جتنا پی لیں بس اتنا کافی ہوتا ہے۔
اریج فاطمہ نے بتایا کہ عیسیٰ کی پیدائش کے بعد 2 سال تک میری زندگی کا مقصد صرف اپنے بچے کو امریکا میں بچوں کی صحت کے حوالے سے مقرر کردہ قانون کے مطابق صحت مند دیکھنا تھا۔
اُنہوں نے بتایا کہ ایک دن اچانک اسپتال میں مجھ سے جب یہ کہا گیا کہ میرے بیٹے کو ہارٹ سرجری کی ضرورت ہے تو میں بہت مایوس ہوگئی کہ میں نے اتنی محنت کی اس کے بعد بھی سرجری کی ضرورت ہے تو میں نے ڈاکٹر تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا۔
اریج فاطمہ نے بتایا کہ جب ڈاکٹر تبدیل کیا تو اُنہوں نے بھی مجھے سرجری کرنے کا ہی کہا لیکن ساتھ ہی پورا پروسیجر سمجھایا جب میں اور عزیر مطمئن ہوگئے پھر عیسیٰ کی اوپن ہارٹ سرجری ہوئی۔
اُنہوں نے روتے ہوئے بتایا کہ جب عیسیٰ کو سرجری کے لیے آپریشن تھیٹر میں لے جا رہے تھے تو وہ میری طرف دیکھ کر مجھے آوازیں لگا رہا تھا اور وہ ہمارے لیے بہت مشکل وقت تھا، میں خاموش بیٹھی رہی، عزیر نے بیٹے کو گلے سے لگایا مگر میں نے کچھ نہیں کہا، میں اس وقت دوسری بار حاملہ بھی تھی اور اسپتال میں اپنے ساتھ ایک قرآن لے کر گئی تھی لیکن مجھ میں وہ پڑھنے کی بھی ہمت نہیں ہوئی۔
اریج فاطمہ نے بتایا کہ الحمد للّٰہ، عیسیٰ کی سرجری کامیاب ہوئی اور اب وہ بالکل ٹھیک ہے۔
یاد رہے کہ اریج فاطمہ نے 2019ء میں ڈرامہ سیریل حسد کی کامیابی کے بعد شوبز کو خیر باد کہہ دیا تھا۔
ان کا پہلا نکاح 2014ء میں بزنس مین فراز خان سے ہوا تھا جو جلد ہی ختم ہو گیا تھا۔
انہوں نے 2017ء میں کینیڈین ڈاکٹر عزیر علی سے شادی کی اور اب وہ 2 بیٹوں عیسیٰ اور یحییٰ کی والدہ ہیں۔
وہ امریکی ریاست اوہائیو میں مقیم ہیں اور 1.6 ملین انسٹاگرام فالوورز کے ساتھ ایک معروف ڈیجیٹل کری ایٹر بھی ہیں۔