آپ آف لائن ہیں
منگل 10؍ شوال المکرم 1441ھ 2؍ جون 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ایک خاص طبقے کو خاص مقاصد کیلئے ایمنسٹی دی گئی، تجزیہ کار

ایک خاص طبقے کو خاص مقاصد کیلئے ایمنسٹی دی گئی


کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیوکے پروگرام ”رپورٹ کارڈ“ میں میزبان علینہ فاروق شیخ کے سوال کہ ایمنسٹی اسکیم کالے دھن کو سفید بنانے کی اسکیم ہے کیا اپوزیشن کی تنقید درست ہے؟جواب میں تجزیہ کاروں نے کہا کہ تعمیراتی شعبے سے ایک عام آدمی کو کیا فائدہ ہوگاایک خاص طبقے کو خاص مقاصد کے لئے ایمنسٹی دی گئی ہے اس کے علاوہ اس کا ریلیف مجھے عام آدمی کے لئے نظر نہیں آتا،تعمیراتی شعبے میں ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ ہوگا،کرپشن کے خلاف لڑی گئی مہم کو نقصان نہیں پہنچے گا۔تجزیہ کار حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ ہم اس وقت حالت جنگ میں ہیں اس بحران سے نمٹنے کے لئے آپ کو جتنی فہم و فراست درکار ہے اور جو منصوبہ بندی کرنا چاہئے وہ وقت کا تقاضہ ہے درآمدات اور برآمدات کی بندش سے تقریباً25 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا ہوگاتعمیراتی شعبے میں ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ ہوگا اس شعبے میں آپ زراعت اور دوسرے شعبوں کے مقابلے میں فاصلہ رکھتے ہوئے احتیاط سے بھی کام کرسکتے ہیں۔تجزیہ کارارشاد بھٹی نے کہا کہ عمران خان ایمنسٹی اسکیم کے خلاف تھے وہ اسے چوروں ،ڈاکوؤں کے تحفظ کی اسکیم کہتے تھے لیکن اس پر اپوزیشن کی تنقید یا اعتراض یہ ایسا ہی ہے جیسے مچھر ملیریا کے خلاف جہادکا اعلان کردے یا جیسے کورونا وائرس55 ہزار ہلاکتوں کے خلاف دنیا سے تعزیت کرلے کورونا وائرس سے پاکستان کو25 کھرب کا نقصان ہوسکتا ہے اورپونے دو کروڑ ملازمتیں بھی جاسکتی ہیں اس وقت جب ساری دنیا پریشان ہے تو یہ بڑا اچھااور دلیرانہ فیصلہ ہے روزگار کے مواقع میسر آئیں گے اور معیشت کا پہیہ چلے گا مگر بدقسمتی سے ایک خاص طبقہ بھی اس سے فائدہ اٹھائے گا۔تجزیہ کاربینظیر شاہ نےکہا کہ تعمیراتی شعبہ ملک میں روزگار فراہم کرنے میں چوتھے نمبر پر آتا ہے اگر باقی ممالک میں دیکھیں جہاں یہ وبا ہے اٹلی میں مکمل لاک ڈاؤن ہے مگر ان کی تعمیراتی صنعت کام کررہی ہے اس کے علاوہ چین میں بھی تعمیراتی کام جاری تھی ۔تعمیراتی شعبے میں سی پیک کے منصوبوں پر کام کیا جاسکتا ہے جبکہ ہاؤسنگ اسکیموں میں کام موخر کرنا چاہئے ایمنسٹی اسکیم دینے کے بعد جب بھی آپ ایف اے ٹی ایف کے پاس جائیں گے تو آپ ان کو کیا جواب دیں گے دوسرا یہ کہ کرپشن کے خلاف لڑی گئی مہم کو نقصان نہیں پہنچے گا۔تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا کہ اپوزیشن کے زمانے میں بھی لوگ کالے دھن کو سفید کرتے رہے تھے اور اب بھی یہی ہوگا تعمیراتی شعبے سے ایک عام آدمی کو کیا فائدہ ہوگاایک خاص طبقے کو خاص مقاصد کے لئے ایمنسٹی دی گئی ہے اس کے علاوہ اس کا ریلیف مجھے عام آدمی کے لئے نظر نہیں آتا۔سب سے زیادہ خوشی انہیں ہی ہورہی ہے جنہوں نے کالے دھن کے ذریعے سارا کام کیا ان کو ایک اور ریلیف مل گیا۔معاشی سرگرمیاں بالکل شروع ہونا چاہئیں پرائیویٹ کمپنیاں، ملٹی نیشنل کمپنیاں جوسیفٹی پروٹوکول کرسکتے ہیں جو ٹرانسپورٹ مہیا کرسکتے ہیں ان کے تحت آپ آہستہ آہستہ معاشی سرگرمیاں شروع کروائیں ۔تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا کہ دو بنیادی مسائل ہیں جس کی وجہ سے ہماری معیشت پچھلے کئی برسوں سے کورونا وائرس کا شکار ہوئی ہے ہماری معیشت کو کورونا وائرس آج سے بہت پہلے لگ چکا ہے ایک کورونا وائرس احتساب کا لگا تھا اس کی وجہ سے ہمارے ملک سے معیشت اور سرمایہ دونوں بھاگ گئے اس حکومت کی مستقل اقتصادی پالیسی نہیں کوئی سمت نہیں ہے جس کی وجہ سے سرمایہ کار کو اعتماد مل سکے ۔دوسرا یہ کہ وزیراعظم یو ٹرن بہت لیتے ہیں اس لئے بھی سرمایہ کار ڈر رہے ہوں گے کل اگر انہوں نے یو ٹرن لے لیاتو کیا ہوگا کیونکہ اسی حکومت نے آج سے ایک سال پہلے تعمیراتی صنعت کا بیڑا غرق کردیا تھا احتساب کا ڈرامہ بند کیا جائے اور اس پر قوم سے معافی مانگی جائے ۔اس وقت ایک جامع پالیسی ترتیب دینا چاہئے اور طویل المدت کے لئے اپنی معیشت سدھارنے کے لئے بھی پالیسی بنانے کی ضرورت ہے۔اس طرح کی جو اسکیمیں ہوتی ہیں اس میں چند چہیتوں کو نوازنے کا بھی عنصر ہوتا ہے اس میں اب وزیراعظم کے جوفنانسرز ہیں ان کی بلیک منی کو وائٹ کا بھی عمل ہوگااس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ بڑے سرمایہ کاروں کو ہوگا۔تجزیہ کارمحمل سرفرازنے کہا کہ تعمیراتی شعبے میں جو چھوٹ دی جارہی ہے اس سے عام مزدوروں کو کیسے فائدہ ہوگایہ اسی طرح ہے جیسے چینی پر سبسڈی دی جاتی ہے اس سے عام کسان کو بالکل فائدہ نہیں ہوگااتنا بڑا جو ریلیف تعمیراتی شعبے کو دیا گیا ہے وہ رقم غریب طبقے پر خرچ کرنی چاہئے تھی آپ امیروں کو امیر کرتے جارہے ہیں غریبوں کے لئے آپ کیا کررہے ہیں حکومت کو چاہئے کہ وہ اپنے انفرااسٹرکچر پروجیکٹس پر کام کرے اور اگر ایسا کرنا ہی تھا تو ایک سال قبل کام کا آغاز کرنا چاہئے تھا۔

اہم خبریں سے مزید