آپ آف لائن ہیں
منگل22؍ذیقعد 1441ھ 14؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

 تاریخ نے ہمیں موقعہ دیا ہے کہ ہم خود کو ایک قوم ثابت کر سکیں۔ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ذاتی، لسانی اور سیاسی مفادات سے بالا تر ہوکر اپنی قوم اور اس میں ابتلا کے شکار افراد کے بارے میں سوچا جائے۔ خودغرضی اور وقتی فوائد سے صرفِ نظر کر کے انسانیت پر توجہ دی جائے اور ہر شخص اپنی اپنی جگہ یہ عزم کر لے کہ اس موقع پر صرف انصاف، بےغرضی اور بے لوث جذبے کی ساتھ حق داروں اور ضرورتمندوں ہی کی مدد کی جائے گی۔ اگر آج ہم اس امتحان میں سرخرو نہ ہوسکے تو پھر کبھی نہ ہوں گے۔ 

یہ شائد ہماری زندگیوں میں پیش آنے والاپہلا اور نہایت عجیب واقعہ ہے جب دنیا کے جدید سے جدید ممالک اور شہروں کے باسی اور غریب ترین ممالک کے غریب شہری بیک وقت ایک ہی مصیبت، کیفیت اور پریشانی کا شکار ہیں۔ ہمارا اشارہ اس وقت دنیا کو مصیبت میں مبتلا کر دینے والے وائرس کورونا یا COVID 19 کی طرف ہے جس نے بیک وقت اس عالم کو لاک ڈاؤن کر کے رکھ دیا ہے۔ دنیاکے ساتھ پاکستان میں بھی اس وباء کی روک تھام کے لئے لاک ڈاؤن کا سہارا لیا گیا ہے یعنی تمام دفاتر، اسکول، کارخانے اور کام کاج بند تاکہ لوگ کہیں جمع ہوکر ایک سےدوسرے کو یہ وائرس منتقل نہ کر سکیں۔ یہی اس قسم کی وباء کو پھیلنے سے روکنے کا ایک مروجہ طریقہ ہے جو نہ صرف یہ کہ صدیوں سے چلا آ رہا ہے بلکہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے نبیؐ نے اپنی حیاتِ طیّبہ کے دوران ہی یعنی ڈیڑھ ہزار سال قبل وباء سے بچاؤ کا یہی طریقہ ہمیں سکھایا تھا کہ جو جہاں ہے وہیں رہے اور کوئی باہر سے اندر نہ آئے اور نہ ہی وباء کے علاقہ سے کوئی دوسری جگہ یا شہر کی طرف جائے۔ یہی لاک ڈاؤن کا پہلا اور سب سے بنیادی اصول ہے۔ 

مگر آج کے دور میں جب شہر بڑے اور بے انتہا پھیلے ہوئے ہوں، آبادی بے حد زیادہ ہو، ذرائع آمد و رفت انتہائی آسان و سہل اور ہر جگہ دستیاب ہو، وہاں لاک ڈاؤن کے قوانین پہ عمل پیرا ہونا اتنا آسان نہیں جتنا زمانۂ قبل میں ہوسکتا تھا۔

پاکستان میں کورونا کی اولین تشخیص فروری کے مہینے میں ہوئی جب تک چائنا اور بہت سے دوسرے ممالک اس کی مکمل گرفت میں آ چکے تھے۔ پاکستان میں اس کی آمد بذریعہ ایران ہوئی جہاں سے زائرین کی ایک بڑی تعداد پاکستان واپس آ رہی تھی۔ ایران کے ساتھ زمینی راستوں کے ذریعے زائرین کی واپسی چونکہ سب سے پہلے بلوچستان میں ہوتی ہے اس لیے یہ جرثومہ وہاں سب سے پہلے پہنچا اور وہاں سے ہوتا ہوا یہ سندھ آیا۔ اس لئے اس کی پہلی آماجگاہ یہی علاقے بنے۔ بعد کے آنے والے دنوں میں پاکستان کے دوسرے صوبوں اور شہروں میں بھی اس کے مریض منظر عام پہ آنا شروع ہوئے۔ چین سے جغرافیائی لحاظ سے قریب ہونے کے علاوہ بھی پاکستان کی چین کے ساتھ بہت سی مشترک دل چسپاں ہیں اس لیے پاکستان وبا کے پھیلتے ہی چین کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہا جس کی وجہ سے پاکستان کسی حد تک اس قابل بھی رہا کہ وہ بروقت اس مصیبت سے نمٹنے کیلئے تیار ہوچکا تھا۔ جیسے ٹیسٹنگ کٹس جو چین سے فوری طور پر وصول ہوئے۔ 

اسی طرح حکومت نے قبل از وقت اقدام کرتے ہوئے نہ صرف یہ کہ ایران سے اپنی سرحدوں کو بند کیا بلکہ چین کے ساتھ بھی جزوی طور سے فضائی آمد و رفت کو منقطع کیا، حتّیٰ کہ پاکستانی طالب علموں کو بھی پاکستان واپس آنے سے روک دیا گیا جو کہ اس قسم کے حالات میں واحداور بہترین حل ہوسکتا تھا۔لاک ڈاؤن کے اس عمل کو تیز تر کرنے میں صوبہ سندھ کی حکومت اور انتظامیہ نے ایک بہتر کردار ادا کیا۔ اس معاملے میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ جہاں پنجاب اور مرکز ابھی لاک ڈاؤن کو نافذ کرنے یا نہ کرنے کے شش و پنج میں مبتلا تھے، وہاں سندھ کی حکومت نے فوری قدم اٹھاتے ہوئے کراچی جیسے بڑے شہر میں بھی افرادی نقل و حرکت پہ کمی یا پابندی لگانے سے گُریز نہیں کیا۔ اسکول کالجز اور یونیورسیٹیز بند کر دیئے گئے، جو کچھ دنوں کے اندر مکمل لاک ڈاؤن میں تبدیل ہوگئی۔ 

اگرچہ اس پہ سیاسی و غیر سیاسی تنظیمیں یہ سوال بہر طور اُٹھاتی رہیں کہ اگر لوگوں کو گھروں میں بند کر دیا گیا تو دیہاڑی دار طبقے کا کیا ہوگا۔ ان تمام باتوں سے اب تک سب ہی لوگ واقف ہو چکے ہیں کہ حکومت نے اس وباء کو پھیلنے سے روکنے کے لیےکیا ضروری فیصلے کئے یا کر رہی ہے۔ حکومت سندھ کے دوراندیش فیصلوں کے باعث صوبہ الحمدُللّٰہ کسی بڑی مصیبت سے اب تک دور ہے۔ جبکہ پنجاب میں یہ عمل کچھ تاخیر سے شروع ہونے کی وجہ سے وہاں مریضوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ آبادی کا تناسب زیادہ ہونے کی وجہ سے پنجاب میں دیہی علاقے بھی زیادہ ہیں جہاں کے لوگوں میں تعلیم کی کمی اور صورتحال کو درست انداز میں سمجھنے کی صلاحیت بھی نسبتاً کم ہوگی اور جس کی وجہ سے نجانے اور کتنےلوگ اب تک اس مرض میں خدا نخواستہ مبتلا ہو چکے ہوںگے اور شائد اب تک لاعلم ہوںگے۔

ہمارے لئے باعث اطمینان بات یہ ہے کہ اس وقت ہم اکیلے نہیں بلکہ پوری دنیا اسی مرض میں مبتلا ہے، لیکن ترقی یافتہ ممالک میں اس مرض کی وجہ سے شرح اموات بہت زیادہ ہے اور ہم اس وقت اس مصیبت سے نبرد آزما ہونے میں کئی ممالک سے بہتر کام کر رہے ہیں۔ ہمیں ایک صفحے پر ہونے کی جتنی ضرورت آج ہے پہلے کبھی نہیں تھی۔ آئیے ہم سب مل کر ایک نئی تاریخ رقم کریں اور اس وباء کو شکست دیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارا حامی و ناصر ہو۔

بہرطور مختصراً یہ کہ اس وقت پورا ملک لاک ڈاؤن میں ہے اور اسی وجہ سے پاکستان ابھی تک اس وباء کی ناقابل کنٹرول تباہی سے بچا ہوا ہے جو کہ پاکستان جیسے غریب ملک کیلئے ایک بہت بڑی بات ہے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہوگا کہ پاکستان اور تیسری دنیا کے ممالک کیلئےلاک ڈاؤن بہ نسبت ترقی یافتہ ممالک کے آسان ثابت ہوگا۔ پاکستان کے عوام گزشتہ ستر سالوں میں بے شمار اندرونی خلفشار اور بیرونی انتشار سے نبردآزما ہوتے رہے ہیں۔ پے در پے سیاسی و لسانی ہنگامے، جنگیں اور ہڑتالیں، کرفیو وغیرہ کی وجہ سے یہاں کےعوام اس قسم کی بندشوں کے عادی ہیں۔ اس کے مقابلے میں یہ لاک ڈاؤن کم ازکم انہیں اتنا آسان تو لگے گا کہ باہر خوف و ہراس کی فضا نہیں۔ بس گھر کے اندر رہیئے اور بیماری سے محفوظ رہیئے۔ اس کے علاوہ جس قسم کی ماحولیاتی آلودگیوں میں پاکستان میں لوگ زندگی گزارتے رہے ہیں، گٹرکا ملا آلودہ پانی پینا، ملاوٹ والی غذا کھانا اور آلودہ ہوا میں سانس لینا، ان سب باتوں کی وجہ سے ہمارے خون میں شامل antibodies مغرب کے صاف ستھرے اور خالص ماحول میں رہنے والوں کے مقابلے میں کورونا سےلڑنے کی ذرا زیادہ صلاحیت رکھتے ہوں گے۔ اب تک ہونے والی اموات کے اعداد و شمار سے تو ایسا ہی محسوس ہوتا ہے۔ آئیے اب اس امر کا بھی جائزہ لیتے ہیں کہ اس لاک ڈاؤن کو موثر بنانے کیلئے حکومت کیا کر سکتی ہے اور کم سے کم جانی نقصان کے ساتھ بھوک اور غربت کے عفریت سے کیسے نمٹ سکتی ہے۔

جیسا کہ اوپر اس بات کا تذکرہ ہوچکا ہے کہ لاک ڈاؤن میں اصل معاشی دھچکا غریب طبقہ کو لگتا ہے، خصوصاً یومیہ اجرت پہ کام کرنے والے جنہیں عرفِ عام میں دیہاڑی دار بھی کہا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ لاک ڈاؤن ہوگا تو وہ کمائیں گے کہاں سے اور کھائیں گے کیا؟ اس سوال کا جواب ہر با ضمیر شخص بالعموم اور حکومتی عہدیداران و شہری انتظامیہ کے لیے بالخصوص دینا انتہائی ضروری ہے۔ رعایا حکومت کی اولاد کی طرح ہوتی ہے اور ہر اچھے برے حالات میں یہ حکومت وقت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ رعایا کی ضرورتوں کا ہمہ وقت خیال رکھے۔ یہ سچ ہے کہ پاکستان میں بالعموم ایک ایسی آئیڈیل حکومت کبھی نہیں رہی ہے جس نے غریبوں اور ضرورت مندوں کا کما حقہُ خیال رکھا ہو۔ لیکن اس وقت ہم جن ضرورتوں کا ذکر رہے ہیں وہ صرف اتنی ہیں کہ جن سے جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھا جا سکے، باالفاظِ دیگر غذائی ضروریات۔ سوال یہ ہے کہ حکومت کس طرح یہ پتہ چلا سکتی ہے کہ اتنے بڑے ملک یا اس کے کسی ایک شہر یا اس کے کسی خاص علاقے میں کون کون اور کتنے لوگ ایسے ہیں جو کسی نہ کسی طرح یومیہ کمانے والے ہیں۔ یہ کام اتنا مشکل نہیں ہے۔ اس وقت بہت سے خیراتی، فلاحی و نجی ادارے ایسے ہیں جو روزانہ کی بنیاد پہ ایسے لوگوں کو مدد فراہم کر رہے ہیں اور یہ ادارے حکومتی سرپرستی کے بغیر اپنی مدد آپ کے اصولوں کے تحت کام کر رہے ہیں۔ 

حکومت چاہے تو ان اداروں مثلاً الخدمت فاؤنڈیشن، ایدھی، چھیپا، سیلانی اور بہت سے مخیّر حضرات جو اس کام میں پیش پیش ہیں انہیں اپنے ساتھ ملائے اور ان کے کام کو حکومتی سرپرستی مہیّا کرے جس سے فراہمئ غذا کے اس کام کو مہمیز مل سکتی ہے اور یہ زیادہ موّثر انداز میں آگے بڑھ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور طریقہ بھی ہے جس کی مدد سے انتظامیہ کامیابی سے ضرورت مندوں کو مدد فراہم کر سکتی ہے۔ اور وہ طریقہ ہے اب سے کچھ عشرے قبل تک راشن کنٹرول کا طریقہ۔ فرق صرف اتنا ہوگا کہ شہری یا صوبائی حکومت شہر کے پسماندہ اور کچے علاقوں اور بستیوں کے آس پاس عارضی کیمپ قائم کرے جیسا کہ پرائیویٹ فلاحی اداروں نے ان دنوں کیا ہوا ہے۔ یہ بات بعید از قیاس ہے کہ ایسی بستیوں میں رہنے والوں میں گھروں میں کام کرنے والیاں، چھابڑی اور ٹھیلے لگانے والے سبزی و پھل فروش، موچی، چوکیدار، مزدور کے علاوہ بھی کوئی رہتا ہوگا۔ 

حکومتی ملازمین یا اس حوالے سے شامل کئے گئے رضاکاران ان بستیوں کے لوگوں اور خاندانوں کے اعداد و شمار کے مطابق انہیں ایک ہفتے کیلئے آٹا، چاول، شکر اور تیل وغیرہ فراہم کریں۔ ان کے نام اور گھروں کے نمبر درج کر لئے جائیں یا ان کے شناختی کارڈ کا نمبر نوٹ کر لیا جائے تاکہ وہ ایک ہفتے سے قبل دوبارہ راشن نہ لیں۔ اس طرح ہر خاندان کو کم ازکم اتنا ضرور مل جائے گا کہ وہ اس ابتلاکے دورکو کسی نہ کسی طرح گزار سکے۔

کراچی شہر کی ہی مثال لے لیں تو اس شہر کے اندر اور اطراف میں جتنی ایسی بستیاں ہیں ان کے لئے اس وقت غذا کی فراہمی صرف انفرادی اور فلاحی ادارے ہی کر رہے ہیں اور مقام شکر ہے کہ ہمارے ملک میں راہ خدامیں دینے والوں کی کمی نہیں۔ ذرا سوچئے جو کام اکیلے لوگ کر سکتے ہیں اور اتنی عمدگی سے کر سکتے ہیں تو اگر ان میں حکومت اور انتظامیہ کی سرپرستی شامل ہوجائے تو کامیابی کا تناسب کتنا بڑھ جائےگا۔ یہ جان لیجیے کہ یہ کام اتنا مشکل نہیں جتنا بظاہر نظر آتاہے۔ اس طریقۂ تقسیم پر عمل کرنے سے اوّل تو انفرادی کام میں درپیش مشکلات ختم نہ سہی بہت حد تک کم ہوجائیں گی اور دوئم ہر کسی کو انصاف کے ساتھ بقدر ضرورت کچھ نہ کچھ مل جائے گا اور نا انصافی کرکے دوسروں کا حق مارنے والوں کی حوصلہ شکنی بھی ہوگی۔ 

یوں ساتھ مل کر کام کرنے سے ہم میں ایک قومیت کا جذبہ بھی بدرجہ اتم پروان چڑھ سکے گا۔ یقیناً ہم یہ عذر کبھی بھی نہیں پیش کر سکتے ہیں کہ اتنی بڑی تعداد کو غیر معیّنہ مدت تک کیسے کھلایا جائے گا۔ ایک زرعی ملک ہونے کے ناتے ہمارے پاس غذائی اجناس کی کوئی کمی نہیں اور پھر ہم کون سا مرغن کھانوں کی بات کر رہے ہیں۔ بس صرف روٹی چاول ہی تو کھائے گا غریب۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ذاتی، لسانی اور سیاسی مفادات سے بالا تر ہوکر اپنی قوم اور اس میں ابتلا کے شکار افراد کے بارے میں سوچا جائے۔ خودغرضی اور وقتی فوائد سے صرفِ نظر کر کے انسانیت پر توجہ دی جائے اور ہر شخص اپنی اپنی جگہ یہ عزم کر لے کہ اس موقع پر صرف انصاف، بےغرضی اور بے لوث جذبے کی ساتھ حق داروں اور ضرورت مندوں ہی کی مدد کی جائے گی۔ اگر آج ہم اس امتحان میں سرخرو نہ ہوسکے تو پھر کبھی نہ ہوں گے۔ تاریخ نے ہمیں ایک ایسا موقع دیا ہے جس میں ہم خود کو ایک قوم ثابت کر سکیں۔