آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ 18؍ صفر المظفّر 1441ھ 18؍ اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
ابابیلوں نے آنا چھوڑ دیا ہے لیکن فرشتوں کا اُترنا ابھی جاری ہے۔ یہ کہانی انہی کی ہے۔ اسکردو سے بھی اور آگے ایک گاؤں ہے: کورفے۔ یہ پاکستان کا شاید آخری گاؤں ہے۔ اس سے آگے کوہ قراقرم اور کے ٹو کی چوٹی ہے۔ ان پہاڑوں پر چڑھنے کیلئے دنیا بھر کے کوہ پیما اسی علاقے سے گزرتے ہیں۔ وہ ذرا سا گاؤں کورفے اب دنیا کے نقشے پر نظر آنے لگا ہے۔ یہاں اس کا قصّہ سنانا ضروری ہے۔یہ بات اب پرانی ہوئی۔ ایک امریکی کوہ پیما گریگ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کوہ قراقرم پر گیا۔ واپسی میں ان کی ٹیم منتشر ہوگئی اورگریگ اپنے ساتھیوں سے بچھڑ گیا۔ بہرحال وہ مرتا کھپتا پہاڑ سے نیچے اترا اور راہ میں اسے جو پہلا گاؤں ملا وہ کورفے تھا۔ گاؤں کے بلتی باشندوں نے تباہ حال کوہ پیما کی تیمار داری اور خاطر داری بھی کی۔ جب گریگ کی صحت بحال ہوئی اور وہ گاؤں کو دیکھنے نکلا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ گاؤں میں کوئی اسکول نہیں، بچّے کھلے آسمان کے نیچے بیٹھ کر پڑھتے ہیں۔ ان کے پاس نہ کاغذ ہیں نہ کتابیں اور وہ سوکھی لکڑی سے مٹّی میں حروف اور ہندسے بنا رہے ہیں۔ گریگ نے گاؤں والوں کا احسان چکانے کے لئے ایک وعدہ کیا۔ اس نے کہا کہ وہ امریکہ جاکر کچھ رقم جمع کرے گا اور واپس آکر کورفے کے بچّوں کے لئے اسکول بنائے گا۔
گریگ نے امریکہ جاکر لیکچر دینے شروع کئے اور لوگوں

کو بتایا کہ دنیا میں ایک اسکول ایسا بھی ہے جہاں بچّے خاک پر پڑھتے ہیں اور خاک ہی پر لکھتے ہیں۔ اس پر لوگ عطیات دینے لگے، ایک بڑے مالدار اور بوڑھے شخص نے کہا کہ یہ لو رقم اور کورفے کے بچّوں کے لئے اسکول تعمیر کرو۔ بس یہ ہے کہ جب اسکول بن جائے تو اس کی تصویر لاکر میرے کمرے میں لگا دینا تاکہ میں ہر ایک کو دکھا سکوں کہ دیکھو یہ میرا اسکول ہے۔
دیکھتے دیکھتے خواب حقیقت بننے لگے۔ قراقرم کی تاریخ میں پہلی بار ایک اسکول کی عمارت کھڑی ہوئی، کلاسیں بن گئیں، فرنیچر لگ گیا، استاد آگئے اور پہاڑوں کے سنّاٹے میں پہلی بار روز صبح اسکول کا گھنٹہ بجنے لگا۔ وقفے میں کھیلتے ہوئے بچّوں کے وہ چھوٹے چھوٹے قہقہے گونجنے لگے اور علاقے کی تقدیر بدلنے لگی۔
اس کے بعد قصہ طویل لیکن تاریخی ہے۔ گریگ نے شمالی پاکستان سے افغانستان کے اندرونی علاقوں تک بچوں کے اسکول بنانے کی تحریک شروع کی اور اس کے لئے سینٹرل ایشیاء انسٹیٹیوٹ یا سی اے آئی نام کی ایک تنظیم قائم کی۔ اِس وقت گلگت بلتستان سے لے کر واخان تک کتنے ہی جدید اسکول بن گئے ہیں جن میں نہایت صاف ستھرے، شگفتہ اور شائستہ بچّے، خصوصاً بچّیاں تعلیم پا رہے ہیں۔ گریگ کا خیال ہے کہ لڑکیوں کو پڑھانا ضروری ہے تاکہ تعلیم کا سلسلہ نسل در نسل آگے بڑھے۔
یہ تو ہوا آج کی کہانی کا ایک رخ۔ اب اس داستان کا بالکل تازہ باب لکھتا ہوں۔ یہ کورفے کی چھ سال کی بچّی سکینہ کی کہانی ہے جس کی بلتی ماں کا نام چوچو اور باپ کے نام ابراہیم ہے۔ سکینہ اپنے گاؤں کے بچوں کی طرح کھیلتی کودتی نہیں تھی۔ اس کا بستر سے اٹھنا محال تھا کیونکہ اس کے دل میں سوراخ تھا اور سوراخ بھی ایسا جس کا علاج بے حد مشکل ہے۔ اس کے باپ ابراہیم کو اندازہ تھا کہ بچی بیمار ہے اور یہ احساس بھی تھا کہ لڑکی کے دوا علاج کے لئے اس کی جیب میں کچھ بھی نہیں۔
پچھلے سال موسم خزاں میں سی اے آئی کی ایک ٹیم کورفے آئی۔ جس وقت یہ لوگ اسکول کا معائنہ کر رہے تھے، ابراہیم پھٹے پرانے کوٹ میں لپیٹ کر سکینہ کو وہاں لے آیا۔ گریگ اور اس کے ساتھیوں نے بچی کا معائنہ کیا۔ دبلی پتلی بچی گہری گہری سانسیں لے رہی تھی اور رطوبت سے بھرے پھیپھڑوں سے طرح طرح کی آوازیں نکل رہی تھیں۔ اس کا دل بے ڈھنگی چال چل رہا تھا جس کی ہر دھڑکن پر یہ گمان ہوتا تھا کہ اب رُکا اور اب رُکا۔ گریگ جب نیچے اسکردو آیا تو سکینہ کو ساتھ لے آیا تاکہ اسپتال میں اس کے ٹیسٹ ہو سکیں۔
وہاں ہر قسم کے ٹیسٹ ہوئے۔ ہر ایک کا ایک ہی نتیجہ نکلا، سکینہ زیادہ عرصے نہیں جئے گی۔ اتفاق سے اُنہی دنوں اٹلی کے کوہ پیماؤں کی ایک جماعت اسکردو میں موجود تھی جو دنیا کی گیارہویں سب سے اونچی چوٹی گیشربرم اوّل سر کرنے جا رہی تھی۔ یہ لوگ مقامی آبادی میں گھل مل گئے تھے اور چاہتے تھے کہ انہیں سی اے آئی کے فلاحی کام دکھائے جائیں۔ تنظیم کے بلتی منیجر نذیر اور خود گریگ نے ان اطالوی مہمانوں سے کہا کہ پہلے اس بچّی کو دیکھیں جس کا نام سکینہ بتول ہے۔ مہمانوں میں شامل خاتون انا لیزا نے لڑکی کا معائنہ کیا اور کہا کہ اس کے دل کا آپریشن کرنا ہوگا ورنہ اس کا بچنا مشکل ہے۔ گریگ نے انہیں بتایا کہ اس کی تنظیم جو خدمت انجام دے چکی ہے اس سے زیادہ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ اس پر انا لیزا نے اعلان کیا کہ وہ کچھ کرکے رہے گی۔اب بچی کے باقاعدہ ٹیسٹ ہونے تھے تاکہ دل کو اچھی طرح پرکھا جائے۔ سی اے آئی نے ابراہیم اور سکینہ کو راولپنڈی پہنچایا جہاں دل کے مرض کے فوجی اسپتال میں اس کا معائنہ ہوا۔ تشخیص پریشان کن تھی، وہ یہ کہ آپریشن میں بھی جان جانے کا خطرہ ہے۔
انا لیزا حوصلہ نہ ہاری۔ اس نے اٹلی کے شہر میلان میں بچوں کے دل کے علاج کے بہت بڑے ماہر ڈاکٹر ایساندرو اور دوسرے ماہروں سے مشورہ کیا۔ انہوں نے بھی کہا کہ آپریشن خطرناک اور پیچیدہ ہوگا البتہ سکینہ کے بچ جانے کا امکان پچاس فیصد ہے۔ اٹلی کے ڈاکٹروں نے فیصلہ کیا کہ وہ مدد کریں گے اور جیسے بھی بنے گا، اخراجات کے لئے رقم فراہم کریں گے۔ادھر سی اے آئی کی مدد سے سکینہ اور اس کے والد نے پانچ مہینے راولپنڈی میں گزارے تاکہ بچی میں اتنی توانائی آجائے کہ وہ آپریشن کے دشوار مرحلے سے گزر سکے۔ تنظیم کے منیجر نذیر نے اس دوران پاسپورٹ اور ویزا حاصل کرنے کا کام شروع کیا اور مترجم کے طور پر خود ساتھ جانے کا فیصلہ کیا۔ اُدھر اٹلی والوں نے ہوائی سفر، خوراک اور دوا علاج کے لئے رقم جمع کرنی شروع کی اور تیرہ ہزار ڈالر اکٹھے کر لئے۔ فروری میں یہ تینوں اٹلی میں میلان کے ہوائی اڈے پر اترے۔ کمسن سکینہ شروع میں تو گھبرائی لیکن جب رضا کار لڑکیاں اور بچے اس سے کھیلنے اور تصویری کہانیاں سنانے کے لئے اس کے پاس آنے لگے تو اس کا دل بہل گیا۔
17 فروری کو آپریشن ہوا۔ اسپتال والے بتاتے ہیں کہ آٹھ ماہر سرجنوں نے آپریشن کیا جو اس اسپتال کے سب سے زیادہ پیچیدہ آپریشنوں میں شمار ہو گا۔ سرجری کے بعد انا لیزا بچی کو دیکھنے گئی اور اسے اپنے آنسو روکنا مشکل ہو گیا۔ سکینہ کے جسم میں ہر طرف طرح طرح کے پائپ اور تار لگے ہوئے تھے جیسے وہ بندھی پڑی ہو۔ بس یہ ضرور تھا کہ وہ زندہ تھی۔ اگلے روز انا لیزا نے اپنے بلاگ میں لکھا کہ سکینہ کی حالت ابھی تک اچھی نہیں، وہ بدستور آئی سی یو میں ہے، اسے تیز بخار ہے، سینے پر بلغم بہت ہے اور دل کے بائیں حصے میں خون کی گردش ٹھیک نہیں، اسے دعاؤں کی ضرورت ہے شاید انا لیزا کی یہ درخواست کام کر گئی۔ سکینہ اٹھ بیٹھی۔ ایک ہفتے کے اندر اندر وہ چلنے لگی اور اس کمرے میں جا پہنچی جو بچوں کے کھیلنے کے لئے مخصوص ہے۔ اٹلی کے میڈیا نے اس کی خبریں خوب نشر کیں اور چھ اخبار اور ایک ٹیلی وژن چینل والے اسپتال آئے۔
سکینہ کی خبریں شائع ہوئیں تو اس کے لئے لوگوں نے اور رقم دی۔ اس کی خاطر میراتھن ریس ہوئی جس میں لوگوں نے عطیات دیئے۔ بیس دن بعد یہ تینوں واپس پاکستان پہنچ گئے۔ نذیر نے بتایا کہ سکینہ اب بالکل ٹھیک ہے۔ اس کے سینے پر شگاف کا نشان ضرور ہے لیکن ٹانکے نکل گئے ہیں اور سب کچھ درست ہے۔ اب سکینہ کچھ وقت راولپنڈی میں اور اسکردو میں گزارے گی اور مئی تک یعنی یہ قصہ شروع ہونے کے پورے ایک سال بعد گاؤں والے اسے گود میں اٹھائے ناچتے گاتے کورفے میں داخل ہوں گے۔ قراقرم کی چوٹیاں انسان دوستی کا یہ جذبہ دیکھ کر فخر سے کچھ اور اونچی ہو جائیں گی اور ڈوبتے سورج کی سنہری کرنیں کے ٹو کے رخساروں پر افشاں بن کر پھیلیں گی۔
مگر ٹھہرئیے۔ یہاں تک پہنچ کر مجھے اچانک ایک خیال آیا۔ درد مند دل رکھنے والے جن فرشتہ صفت لوگوں کا اس کہانی میں ذکر آیا، سوچتا ہوں کہ وہ تو عیسائی تھے، وہ مسیحی تھے، ہم سے مختلف، ہم سے جدا، وہ ہمارے دوست نہیں ہو سکتے، ہم تو ان سے بہتر اور افضل ہیں، تو کیا کریں۔ کیوں نہ ان پر کوئی تہمت تھونپ دیں اور چل کر ان کی بستی پھونک دیں؟