آپ آف لائن ہیں
منگل 15؍ذیقعد 1441ھ 7؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

لاک ڈاؤن سے کاربن کے اخراج میں کمی عارضی ہے، ماہرین توانائی

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے کیے گئے لاک ڈاؤن کے باعث پوری دنیا میں کاربن کے اخراج میں بڑے پیمانے پر کمی سامنے آئی ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا دوبارہ اخراج پہلے سے بھی زیادہ بدتر ہوگا۔ 

بین الاقوامی توانائی ایجنسی کی  کورونا وائرس کے تناظر میں توانائی کے استعمال اور کاربن کے اخراج پر لگائے گئے تخمینوں کی اشاعت میں ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے سال میں توانائی کے استعمال سے تقریباً دو اعشاریہ چھ بلین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کی کمی ہوگی۔ 

2009 کے مالی بحران کے بعد بھی جو کاربن کے اخراج میں کمی ہوئی تھی یہ تخمینہ اس سے چھ گنا زیادہ ہوگا، اور دوسری عالمگیر جنگ کے بعد سے یہ کمی ان تمام گزشتہ کمی سے دوگنی ہوگی۔

لیکن عالمی توانائی ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ جب تک حکومتیں صورتحال کی بہتری کے لیے قابل تجدید توانائی کے حصول کے لیے سرمایہ کاری نہیں کرینگی، اخراج کی یہ سطح تباہ کن ہوتی جائے گی، یعنی جب لاک ڈاؤن کے بعد حالات نارمل ہونگے تب صورتحال مزید خراب ہوگی۔ یعنی کاربن کا اخراج دوبارہ ہوگا بلکہ اور زیادہ تباہ کن بھی ہوگا۔

 عالمی توانائی ایجنسی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر فتحی بیرول نے کہا کہ اس وقت تمام بڑے توانائی کے ذرائع کا استعمال بہت ہی زیادہ کم ہوگیا ہے،  اور یہ دنیا بھر میں توانائی کی پیداوار کرنے والوں کےلیے ایک بڑا اور تاریخی دھچکا ہے۔

 اسکے نتیجے میں قبل از وقت موت اور معاشی صدمے نے دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت جو توانائی کے استعمال میں کمی اور دنیا میں کاربن کے اخراج میں جو تنزلی ہے یہ ایسی چیز نہیں کہ اس پر خوش ہوا جائے۔

 جب 2008 اور 2009 کا مالی بحران ختم ہوا تو اسکے بعد دوبارہ صورتحال پھر ویسی ہی ہوگئی تھی جیسا کہ اس سے قبل تھی، تو اب بھی جیسے ہی کورونا وائرس کی صورتحال نارمل ہوگی تو پھر توانائی کا استعمال ہوگا اور کاربن کا اخراج بڑھ جائے گا۔

خاص رپورٹ سے مزید