آپ آف لائن ہیں
بدھ16؍ربیع الثانی 1442ھ2؍دسمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

عمران خان کی ایک اور ترکش ڈرامہ پاکستان میں نشر کرنے کی خواہش

وزیر اعظم عمران خان نےصوفی ازم پر مبنی معروف ترکش سیریز ’یونس ایمرے‘ پاکستان میں ٹیلی کاسٹ کرنے کی خواہش کا اظہار کردیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر سینیٹر فیصل جاوید خان نے اپنے ٹوئٹ میں عمران خان کی اس ڈرامے کو اردو میں ڈب کرکے پی ٹی وی پر ٹیلی کاسٹ کرنے کی خواہش کا بتاتے ہوئے لکھا کہ ’یونس ایمرے‘ ترکی کے ایک صوفی شاعر اور درویش کی زندگی  پر مبنی ہے جس نے اپنی زندگی تلاش حق کے لیے وقف کردی تھی۔

’دیریلش ارطغرل ‘ تحریر کرنے والے مہمت بزداغ نے ہی معروف سیریز ’یونس ایمرے‘ کو بھی تخلیق کیا ہے۔

اناطولیہ کے اِس درویش، صوفی بزرگ اور خداداد صلاحیتوں کے مالک شاعر مولانا جلال الدین رومی کے ہم عصروں میں شامل تھے اسی لئے انہیں ’رومی ثانی‘ کہا جاتا ہے۔

ترکی کے سرکاری چینل پر نشر کی جانے والی مقبول سیریز ’یونس ایمرے‘ 2015 میں نشر ہونا شروع ہوئی جو دو سیزن پر مشتمل ہے، دونوں سیزن کی مجموعی اقساط کی تعداد 44 ہے۔

یونس ایمرے کون تھے؟

ترکی اور وسطی ایشیا کے ممالک میں صوفی شاعر، درویش اور روحانی شخصیت کے طور پر مشہور یونس ایمرے 1238 میں پیدا ہوئے۔

رومی ثانی کہلائے جانے والے اپنی زندگی کے ایک حصے میں تصوف سے بیزار تھے اسی لئے قونیہ میں خود کو شریعت کے مسئلے سمجھنے میں مصروف رکھا۔

قابلیت، ذہانت، روشن فکر اور اجلے کردار کا پیکر یونس ایمرے مدرسے سے فارغ ہوئے تو انہیں قونیہ سے دور مضافاتی قصبے نالیحان میں قاضی بنا کر بھیج دیا گیا۔

اسی شہر کے ایک صوفی بزرگ ’تاپ دوک ایمرے‘  سے ملاقاتوں کے بعد یونس ایمرے کی زندگی میں ایسا موڑ آیا کہ ظاہر پر یقین رکھنے والے قاضی یونس نے سرکاری عہدہ اور پرآسائش زندگی چھوڑ کر درگاہ کا رخ کرلیا۔

ترکی کے معروف صوفی بزرگ حاجی بکتاش ولی کی ہدایت پر مشہور عالم تاپ دوک ایمرے سے یونس ایمرے نے قرآن و حدیث کے علم میں کمال حاصل کیا اور انہی کی خدمت میں روحانیت کے اسرار و رموز سیکھنے کیلئے 40 سال گزارے۔

ابتداء میں شاعری کو گمراہی سمجھنے والے یونس ایمرے کے کلام میں جہاں صوفی ازم، واحدت الوجود، دنیا کی بے ثباتی، انسانیت سے محبت و پیار، امن اور بھائی چارے کا پرچار ملتا ہے وہاں ترکی کی ابتدائی اور قدیم تہذیب و ثقافت کا بھی پتہ چلتا ہے.

نہایت پُراثر لب و لہجے کے مالک اور شیریں گفتار یونس ایمرے جب 1320 عیسوی میں دنیا سے رخصت ہوئے تو اناطولیہ سمیت ہر طرف ان کا چرچا تھا۔

سات صدیاں بیت جانے کے بعد آج بھی وہ ترکوں کی محبوب شخصیات میں سے ایک ہیں۔ ترکی باشندوں میں یونس ایمرے کا کلام آج بھی مقبول ہے اور ان کا نام نہایت عزت اور احترام سے لیا جاتا ہے۔

1991ء میں یونس ایمرے کی 750ویں سالگرہ کے موقع پر اقوام متحدہ نے متفقہ طور پر اس سال کو پوری دنیا میں ’یونس ایمرے‘ کے سال کے طور پر عالمی سطح پر منایا ۔

ترکی میں کرنسی پر تصاویر کے علاوہ کئی اہم مقامات اور عمارتوں میں یونس ایمرے کے مجسمے نصب ہیں۔

خاص رپورٹ سے مزید