• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قدرتی آفتیں اور وبائیں ملکوں کو متاثر کرتی ہیں اور قوموں کو سوچنے کا موقع دیتی ہیں کہ ہم سے کہاں غلطی ہوئی اور ہم کس جرم کا ارتکاب کئے جا رہے ہیں ۔ہمیں اپنی کون سی چیزوں کو درست کرنا ہے ۔دیکھنے والی آنکھ دیکھ سکتی ہے کہ اصل تنبیہ ایک عادلانہ نظام کے قیام کی ہے

………………

امیروں کو ایک جھلک غریبوں کے شب و روز کی نظر آ گئی۔ تنگی و ترشی بے کسی و بے یاری تو ان کی زندگی کا لازمہ تھی، اب صاحب حیثیت بغیر ڈرائیورکے اور بیگم صاحبہ ہاتھ میں جھاڑو لئے بغیر ماسی کے ۔باہر نکلنے پر پابندی،گھروں میں کسی کا آناجانا نہیں ۔دفتروں کی افسر شاہی ختم۔ایسی پھیکی زندگی دیکھی تھی ،اسی طرح کھاتے پیتے ممالک حیران ہیںکہ لندن کی سڑکیں سنسان ، فرینکفرٹ کا ہوائی اڈہ ویران، روم کی طرف نہ رستے جاتے ہیں نہ عقیدت مند۔نیویارک کا گورنر دن رات ٹرمپ کی غیر سنجیدگی کو کوس رہا ہے۔کیا کرونا کے بعد مغربی دنیا اپنے رویوں پر نظرثانی کرے گی ۔کیا اپنے نظام بد سے چھٹکارہ اور نئی سوچ کو پذیرائی ملے گی۔جو زیادہ منصفانہ ہو،جہاں فرد کی حیثیت ہو اور اس کی زندگی کو اہم جانا جائے۔جہاں زندگی مشینی نہ ہو اورصرف مادی منفعت کی دوڑ نہ لگی ہو ۔

 ہماری اور آپ کی زندگی میں دو واقعات نے دنیا کو تبدیل کیا۔دوسری جنگ عظیم اور نائن الیون۔ ایک نے بہتری کی طرف دوسرے نے بدتر حالات کا راستہ ہموار کیا ۔جنگ عظیم دوم کے دونتائج فوری برآمد ہوئے اول محکوم قوموں کی آزادی،دوم اقوام متحدہ کا قیام ،امپیریل طاقتوں نے اپنا تسلط کچھ تو جنگ کے باعث کمزور پڑنے پر اور کچھ مقامی جدوجہد آزادی کی تیزی اورتندی دیکھ کر بوریا لپیٹنے ہی میں عافیت دیکھی۔آزادی کی لہر انڈیا اور انڈونیشیا سے اٹھی اور ویت نام سے ہوتے ہوئے افریقہ جا پہنچی جہاں ایک ایک کر کے سارے ملک آزاد ہو گئے۔لیکن یہ آزادی مکمل نہ تھی۔حاکم تو چلا گیا لیکن محکوموں کے اپنے زورآوروں نے گھیرے میں لےلیااور اکثر ملکوں میں ایسے حکمران اوپر آگئے جن کا عوام سے کوئی واسطہ نہ تھا۔معاشی آزادی ایک اور بڑا سوال رہا۔آئی ایم ایف ورلڈ بینک اور ایسے ہی مالیاتی ادارے ملکوں کو قرضہ دیتے رہے جو حکمرانوں کے سوئٹزرلینڈ کے اکائونٹ اور آف شور کمپنیوں میں یا لندن اور نیویارک میں جائدادیں خریدنے میں صرف ہوتے رہےاور عوام کے حصے میں فقط فی کس قرض کی ادائیگی کا بوجھ آیا۔ان سب کے باوجود آزادی ایک نعمت ہے اور جن حالات میں ملی اس کی قدر کی جانی چاہیئے۔دوسرا قدم اقوام متحدہ کا قیام تھا۔تاکہ باہمی اختلافات اور سرحدی جھگڑوں کو بات چیت سے حل کیا جا سکے۔رکن ممالک اپنی شکایات اقوام متحدہ میں لائیں جہاں اس کا حل ڈھونڈا جا سکے۔اِس میں کہیں کامیابی ہوئی کہیں نہیں۔کشمیر کی مثال ہمارے سامنے ہے۔مگر کہا جاسکتا ہے کہ اس نے تیسری عالمی جنگ کو روکے رکھا۔لیکن سوویت یونین کے انہدام کے بعد اقوام متحدہ اپنی اہمیت کھوتی چلی گئی اور اب بہت سے لوگوں کو اس کا وجود یاد بھی نہیں۔

نائن الیون اتنا بڑا واقعہ نہ تھا کہ اسے جنگ عظیم دوم کے مقابل رکھا جائےلیکن ایک تو یہ نسبتاً تازہ واقعہ ہے دوم اس نے ہمیں براہ راست متاثر رکھا ہے۔ ایک کہانی گوانتانامابے کی ،دوسری عافیہ صدیقی کے قید و بند کی اور تیسری ایرپورٹوں پر جو سلوک روا رکھا گیا۔ اب ہمارے سامنے کورونا وائرس ہے جو 185 ملکوں پر بیک وقت حملہ آور ہے چھبیس(26) لاکھ مریض اور پونے دو لاکھ اموات اور کہاں جا کر تھمے گا کوئی نہیں جانتا۔ لیکن یہ تو طے ہے کہ اس وباء سے جانبر ہونے کے بعد دنیا ویسی نہیں رہے گی ۔

لیکن مسلم دنیا میں ایک اور سوال ہے جو اسی سے جڑا ہے اور ہنوز جواب طلب ہے ۔ایک بڑی تعداد میں لوگوں کا خیال ہے کہ کرونا اللہ کا عذاب ہے ۔ایک دوسری جماعت جس کے خیال میں یہ عذاب نہیں بلکہ ہماری آزمائش ہے ۔ایک تیسرا گروہ ہے جو اسے خدائے لم یزل کی طرف سے تنبیہ گردانتا ہے ۔لیکن اگر کسی کے خیال میں کرونا کے نزول میں بڑی حکمتیں پوشیدہ ہیں تو اس کی بات بھی سنی جانی چاہیئے۔

پہلی حکمت کرونا سے پھیلنے والے انفلوئنزا میں وہ مساوات ہے جو ہم کہتے تو ہمیشہ آئے تھے لیکن ہم نے مانا کبھی نہ تھا ۔یہ وائرس نہ غریب دیکھتا ہے اور نہ امیر ، نہ مرد نہ عورت ، نہ ایشیائی نہ افریقی ، نہ ہندو نہ مسلمان ، نہ برہمن نہ شودر ، نہ شاہی خاندان نہ سینٹری ورکر ۔امیروں کا خیال تھا کہ بیماری تو غریبوں کو پکڑتی ہے ہمارے لئے تو ہر طرح کا اسپشسلٹ موجود ہے ۔اور ایک سے بہتر ایک اسپتال ۔پتہ چلا کہ کرونا کا نہ کوئی علاج ہے نہ دوا ، اور نہ ہی کوئی کرونا اسپشلسٹ۔یہ وہ مساوات ہے جس کی تعلیم ہمیں مذہب نے دی لیکن ہم نے ہر طرح کی تفریقات پیدا کر رکھی تھیں ۔کرونا کے تجربے کے بعد دنیا اس فرق کو مٹانے پر آمادہ ہوتی ہے یا نہیں مگر حیران ضرور ہے کہ ایسی مساوات ممکن تو ہے ۔مگر اس سے زیادہ خیرہ کر دینے والی مساوات ہمیں ملکوں ملکوں نظر آئی۔جو ممالک ترقی کی سیڑھی پر بہت اوپر ہیں جہاں صحت کا نظام مربوط اور ریسرچ جن کا اوڑھنا بچھونا ہے، انہیں بھی اس بیماری نے ایسے ہی پکڑاجیسے غریب ملکوں کو جن کو حفظان صحت کے اصولوں پر نہ چلنے کا موردالزام ٹہراتے تھے ، جہاں جابجا گندگی کے ڈھیر ، خوراک کی کمی، بچوں کی کثرت ناسمجھی اور جاہلیت کا مرکب کہا جاتا ہے ۔

دوسری حکمت وائرس میں یہ پوشیدہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کا کھوکھلاپن اور وائرس کے سامنے اس کی بے بسی ۔اپنے شہریوں کو ہلاکت سے بچانے میں مکمل ناکامی جو عوام جانتے تو تھےمگر اس نظام کے ایسے اسیر تھے کہ کھل کر کچھ کہہ نہ سکتے تھے۔اس سرمایہ دارانہ نظام کا اطلاق صرف امریکہ یا برطانیہ پر نہیں ہوتا ، ہمارے ہاں بھی یہی نظام ہے۔اربوں کمانے والے مل مالکان ، کروڑوں میں کھیلنے والے بلڈرز اور لاکھوں لٹانے والے چوہدری ،غریب صرف یہ انتظار کرتا ہے کہ ان کے کاروبار کا صدقہ کچھ اسے بھی مل جائے ۔اور اس صدقے کو سرمایہ دارانہ نظام کی برکات سمجھا جاتا ہے ۔کیا آپ نے ڈاکٹر محبوب الحق کیTrickle Down Theory کے بارے میں کچھ نہیں سنا ؟ Trickle Down کامطلب ہےکہ ریاست پیسہ امیروں کے ہاتھ میں دے تاکہ وہ اس سے بڑے پروجیکٹ لگائیں تو نیچے تک قطرہ قطرہ کر کے غریبوں کو بھی فائدہ پہنچ جائے گا۔یہی وہ تھیوری تھی جس کے نتیجے میں ایوب دور میں دولت بائیس (22) خاندانوں کے ہاتھ میں آ گئی اور غریب کے حالات جوں کے توں رہے اور محبوب الحق کو ناکامی کا اعتراف کرنا پڑا۔ریگن کے دور میں امریکہ میں بھی یہی ہوا قومی خزانہ ٹریلین ڈالروں سے بھر گیا لیکن محروم طبقات کو کوئی فائدہ نہ پہنچ سکا۔

تیسری حکمت اس وائرس کے پھیلائو سے یہ سمجھ میں آتی ہے کہ وطن عزیز کے صحت کے نظام کو نظام کہنا ہی زیادتی ہے۔ لیکن امریکہ برطانیہ اٹلی اور اسپین میں اس عوامی بھلائی کے شعبے میں اتنی کم سرمایہ کاری کی گئی کہ وقت پڑنے پر عام آدمی کو کسمپرسی کی حالت میں چھوڑ دیا گیا۔مہذب مغربی دنیا جنہیں سینئر سٹزن (Senior Citizon)کہتی ہے یہاں یہ سوال پیدا ہو گیا کہ جب مریضوں سے بھرے ایک اسپتال میں کرونا کے دو مریض لائے جائیں ایک نوجوان اور دوسرا ضعیف ،تو کس کا علاج کریں اور کسے مرنے کے لئے چھوڑ دیں ۔

چوتھی حکمت جس کا نزول اس وائرس کے ساتھ ہوا وہ یہ کہ جو جتنا تونگر،صاحب حیثیت اور سیم و زر کا مالک ہے وہ اتنا زیادہ نقصان اٹھائے گا ۔وہ ممالک ہوں یا افراد ۔غریب کے پاس کھونے کے لئے کچھ ہے ہی نہیں ۔یومیہ اجرت کے مزدور کی ایک دن کی مزدوری گئی جو وہ پہلے ہی برداشت کرتا تھا جب سیاسی جماعتیں اپنی پنجہ آزمائی کے لئے آئے دن ہڑتالیں کراتی تھیں، جن کے اشارہ ابرو پر دیکھتے دیکھتے شہر بند ہو جاتا تھا۔اور دہشت گردی کے سبب کبھی ہفتوں کرفیو لگ جاتا تھا۔ اور جب کچھ نہ ہو تو کساد بازاری کے کارن کئی کئی دن ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنا پڑتا تھا۔مزدور کی زندگی پہلے بھی ایسے ہی گزرتی تھی، کرونا کے دنوں میں بھی ویسے ہی گزر رہی ہے ۔

اور پاکستان کی معیشت پر کیا گزری؟ شور مچانے کے لئے تو بہت کچھ ہے مگر ہمارا ملک ایک زرعی ملک ہےکھیتوں کی فصل کرونا سے متاثر نہیں ہو رہی اور نہ ہی 50% آبادی کی معیشت جو زراعت سے منسلک ہے ۔تعمیراتی صنعت کو اجازت مل گئی کہ وہ اپنی پرانی ڈگر پر آجائیں ۔ویسی ہی عمارتیں بنائیں جیسی بناتے تھے اور اس میں جو پیسہ لگائیں ان سے کچھ نہیں پوچھا جائے گا ۔تو پھر پاکستان کی معیشت کو دھچکا کہاں لگے گا۔بس لے دے کے کچھ فیکٹریاں ہیں جو چند مہینے بند رہیں گی۔کہاں راجہ بھوج کہاں گنگواتیلی۔کیا مقابلہ امریکہ ،جرمنی اور برطانیہ کی معیشت جہاں کھربوں ڈالر کا کاروبار فروری کے مہینےسے بند ہے اور چھ مہینے سے پہلے کھلتا نطر نہیں آتا۔اور سرمایہ دارانہ نظام کی سفاکی دیکھئے کہ غریبوں پر قرضے کا ایک پیسہ چھوڑنے کو تیار نہیں ۔بس ادائیگی موخر کر دی گئی۔ہمارے سر اپنے وزیر خارجہ سمیت اس عنایت پر جھکے ہوئے ہیں ۔اور ہمارے کچھ کہنے سے پہلے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے فرما دیا کہ ہم غریب ممالک کو قرضے دینے کے پابند نہیں ہاں اگر G.20 کے ممالک کی ہمدردی کی رگ پھڑک اٹھی تو کچھ قرضہ مرحمت خسردانہ کے طور پر مل سکتا ہے ۔کورونا کے بعد کی دنیا اس پر سوچنے پر مجبور ہو گی ۔

دیکھنے اور ڈھونڈنے والوں کے لئے پانچویں حکمت کرونا کی وباء یہ لئے ہوئے ہے کہ امیروں کو ایک جھلک غریبوں کے شب و روز کی نظر آ گئی ۔تنگی و ترشی بے کسی و بے یاری تو ان کی زندگی کا لازمہ تھی ،اب صاحب حیثیت بغیر ڈرائیورکے اور بیگم صاحبہ ہاتھ میں جھاڑو لئے بغیر ماسی کے ۔باہر نکلنے پر پابندی،گھروں میں کسی کا آناجانانہیں ۔دفتروں کی افسر شاہی ختم ،بیوٹی پارلر کی بکنگ کینسل نہ پارٹیاں نہ نائو نوش ۔ایسی پھیکی زندگی کاہے کو دیکھی تھی ۔اسی طرح کھاتے پیتے ممالک حیران ہیںکہ لندن کی سڑکیں سنسان ، فرینکفرٹ کا ہوائی اڈہ ویران ،روم کی طرف نہ رستے جاتے ہیں نہ عقیدت مند۔نیویارک کا گورنر دن رات ٹرمپ کی غیر سنجیدگی کو کوس رہا ہے۔کیا کرونا کے بعد مغربی دنیا اپنے رویوں پر نظرثانی کرے گی ۔کیا اپنے نظام بد سے چھٹکارہ اور نئی سوچ کو پذیرائی ملے گی۔جو زیادہ منصفانہ ہو،جہاں فرد کی حیثیت ہو اور اس کی زندگی کو اہم جانا جائے۔جہاں زندگی مشینی نہ ہو اورصرف مادی منفعت کی دوڑ نہ لگی ہو ۔

پاکستان کے لئے کرونا میں ایک بڑا سبق یہ بھی ہے ایمرجنسی اور غیر معمولی صور ت حال سے نپٹنے کے لئے حکومتی مشینری میں کوئی سکت نہیں ہے ۔سندھ حکومت وفاق سے یہ پوچھتی ہے کہ آپ لاک ڈائون میں ایک واضح فیصلہ کیوں نہیں کرتے۔وفاقی وزراء سندھ حکومت سے پوچھتے ہیں وہ رقم کہاں گئی جو راشن کی تقسیم کے لئے دی گئی تھی۔ قومی یکجہتی کا ایک اور مو قع ہاتھ سے نکل گیا ۔لیکن اگر سب یکجا بھی ہو جاتےتو ارادے کی وہ مضبوطی کہاں کہ غریب عوام تک راشن پہنچا سکیں۔ہاں کچھ خیراتی انجمنیں اور کچھ سیاسی جماعتوں کے فلاحی ونگز جن کی کوئی ساکھ ہے۔ مگر بائیس کروڑ کی آبادی جہاں 32 فیصد خطِ غربت میں ڈوبے ہوں تو کون سا خیراتی ادارہ اس تعداد کا بوجھ اٹھا سکتا ہے۔

لیکن آئیے ہم واپس چلیں اس سوال پر کہ کرونا عذاب ہے یا آزمائش ہے یا تنبیہ ۔ہمیں چاہیئے کہ ہم اپنے گناہوں کو یاد کریں اور استغفار کریں ۔اپنی اپنی زندگیوں کے گناہ آپ تنہائی میں غور کر لیجئے گا۔مگر ہم ان اجتماعی اور قومی گناہوں کا ذکرکر یں گے کہ جن کے باعث ستر(70) سال گزر گئے اور ہم وہی کھڑے ہیں جہاں سے چلے تھے۔ہمارا سب سے پہلا گناہ وہ تھا جب انگریز سے آزادی ملنے اور ایک عظیم جدوجہد کے بعد دنیا کے نقشے پر ایک نئے ملک کے باسی بننے کے بعد ہم نے اپنے پرانے جاگیر دارانہ نظام کا طوق اپنے گلے سے نہ اتارا ۔مسعود کھدر پوش کی ہاری رپورٹ یا ایوب خان کا سبز انقلاب یا بھٹو دور کی اصلاحات ، کوئی بھی جاگیر دارانہ نظام پر کاری ضرب نہ لگا سکا۔محمد مسعود قیام پاکستان سے پہلے کے ایک آئی سی ایس افسر تھے جنہیں قائد اعظم نے 1948؁ میں سندھ کے ہاریوں کی زندگی بہتر بنانے کے لئے ایک کمیٹی کا رکن مقرر کیا ۔مسعود ہمیشہ کھدر کے کپڑے پہنتے اور ہاریوں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ۔وہ خود تو مسعود کھدر پوش کے نام سے شہرت پاگئے لیکن ان کی رپورٹ قائد اعظم کے انتقال کے ساتھ داخلِ دفتر ہو گئی۔اب اگر ہم کچھ نہیں کر سکتے تو ہمیں استغفار کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی ہم نے ہندئوں کی چھوڑی ہوئی املاک قومی ملکیت میں نہ لی ۔ہم اس میں اسکول بنا سکتے تھے ۔ہم اس میں ڈسپنسریوں اور ہسپتالوں کا جال تعمیر کر سکتے تھے ۔لیکن ہم نے اس پر ہندوستان سے آنے والوں کا حق تسلیم کرلیا اور اس کی تقسیم میں اتنا جھوٹ بولا گیا کہ ہم جتنابھی استغفار کریں کم ہے۔

ہماری تیسری غلطی وہ پارلیمانی نظام جس میں عوام کے نمائندوں کی کوئی گنجائش ہی نہیں ۔چار چار لاکھ ووٹوں کا حلقہ اور کم از کم بیس(20) کروڑ کے الیکشن اخراجات ۔یہ الیکشن وہ منہ زور لڑ سکتے ہیں جنہوں نے ملک کے وسائل پر قبضہ کر رکھا ہے ۔چونکہ ہماری حکومتیں عوام کی نمائندہ نہیں ہوتیں اس لئے عوام حکومتوں کے ساتھ نہیں ہوتے ۔وہ ہر حکومت کے گرنے پر خوش ہوتے ہیں ۔چاہے وہ جنرل ایوب کا مارشل لاء ہو جو سیاست دانوں کو بے دخل کرے اور ایبڈو کے تحت سات سال کے لئے نااہل قرار دے ۔چاہے وہ پانامہ کا مقدمہ ہو جس میں عدالت نااہل قرار دے ۔ذرا یاد توکیجئےپہلا عیدالفطر کے چاند کا سرکاری اعلان اور عوامی ردِعمل جو دراصل ایوب خان حکومت پر عدم اعتماد کا اظہار تھا۔اور آج جب کرونا کی احتیاطی تدابیر پر مساجد کی بات ہوتی ہے تو عوام اسِ لئے بھی مخالفت کرتے ہیں کہ وہ حکومت کو اِس بات کا اختیار دینے کو تیار ہی نہیں کہ وہ اُن کے معاملات میں کوئی ہدایات دے سکے۔حکومت جب دہائی دیتی ہے کہ وہ قرضوں تلے دبی ہوئی ہے تب بھی اور جب کوئی حکومتی وزیر قرضے ملنے کی خوش خبری سناتا ہے تب بھی کسی کے کان پر جوں نہیں رینگتی کہ قرضہ نہیں ملتا ہے ،خرچ تم کرتے ہو تو ادائیگی بھی تم کرو ۔ہمیں تو وہی دن کی مزدوری ملتی ہے جو ملتی ہے۔ہمیں استغفار کرنا چاہیئے مگر حکومتوں کی ڈھٹائی دیکھیں چونکہ بلدیاتی نظام عوام سے قدرے قریب ہوتا ہے اس لئے سیاسی حکومتیں 1954؁ سے لے کر آج تک کبھی بلدیاتی انتخاب پر رضامند نہیں ہوئیں ۔ہمیں اگر یاد آتا ہے تو ایوب خان کا محلے کا بی ڈی ممبر یا ضیاءالحق کا شورائی کارکن یا مشرف کا ناظم ،یہ سب آمریت کے دور میں ممکن ہوا۔سیاسی حکمران عوام کو یہ بھی نہ دے سکے ۔کیا بڑے ممالک کی حکومتیں اپنے عوام کی بہبود کا سوچتی ہیں یا صرف ملٹی نیشنل کارپوریشنوں کے فائدے کے لئے قوانین بناتی ہیں ۔آخر Wall Street پر قبضہ کرو تحریک کیا تھی؟

ابھی ایک بڑے گناہ کا ذکر باقی ہے اور وہ ہے تعلیم اور صحت جس کا وظیفہ ہر حکمران کی زبان پر ہے لیکن خرچ دو فیصد سےزیادہ کبھی نہیں۔کسانوںاور مزدوروںکے بچوں کو اگر تعلیم مل گئی اور وہ اپنے حقوق کے لئے کھڑے ہو گئے تو یہ سیاسی خانوادے کہاں جائیں گے۔انہیں نعرے لگانے والے کہاں ملیں گے۔فیکٹریوں اور ملوں میں حقیقی مزدور یونین بن گئی تو من مانی کیسے چلے گی۔کوئی چوہدری کوئی وڈیرہ کوئی سردار نہیں چاہتا کہ اُس کے علاقے میں اسکول کھلے۔گورنمنٹ کھول دے تو اس میں بھینس باندھ دو۔ہیڈ ماسٹر آ جائے تو دودھ دہی گھی چاول اس کے گھر اتنا پہنچائو کہ وہ پڑھانا بھول جائے ۔اور صحت کی سہولتوں سے ہمارے مقتدر حلقوں کو کیا عناد ہے ؟ دراصل بیماریاں ایک بڑا ہتھیار ہیں غریب کو غریب رکھنے کا ۔غریب خود بیمار پڑے گا نہیں تو اس کا بچہ ۔اگر آس پاس اچھا سرکاری اسپتال ہے تو غریب مالی بوجھ اٹھائے بغیر صحت یاب ہو جائے گا ۔

اس لئے ان کی پہنچ سرکاری اسپتال تک ہرگز نہ ہو ۔وہ اپنی جمع پونجی بیماری پر لگا دے اور خطِ غربت کے نیچے دوبارہ پہنچ جائے اگر اپنی انتھک محنت سے باہر نکل رہا تھا۔تعلیم اور صحت پر ہمیں اس لئے خرچ نہیں کرنا کہ غریب کا بھلا ہو ۔ہمیں ملک کو آگے لے کر جانا ہے ۔قومی ترقی بغیر تعلیم کے اور بغیر صحت مند قوم کے ممکن نہیں۔ لیکن ہماری حکومتوں کی سب سے پہلی فکر اپنا اقتدار بچانا ہوتی ہے ۔ کیا ہمیں استغفار نہیں کرنا چاہیئے ۔

کرونا کے دوردِعمل ہمیں اپنے حکمرانوں کے دیکھنے کو ملے، ایک امید افزاء اور ایک مایوس کن ۔امید افزاء تو یہ کہ پہلی مرتبہ حکومتی اہلکاروں کی زبان سے دیہاڑی دار مزدور کا لفظ سننے کو ملا۔جیسے کہ کرونا کی وباء سے پہلے ان کا وجود ہی نہیں تھا۔خیر دیر سے ہی سہی جب وباء گزر جائے گی تو ہم یاد دلا سکیں گے کہ ہمارے ملک میں دیہاڑی دار بھی ہوتے ہیں ۔اور ان کا خیال رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔جو مایوس کن ردِعمل تھا وہ تھا کورونا سے معیشت کو جو دھچکا لگا اس کی بحالی کے لئے تعمیراتی صنعت کو مراعات اور دعوت۔یہ پھر وہی Trickle Down والا مائنڈ سیٹ ہے کہ بڑے ٹھیکے داروں کے منافع کی برکت سے مزدور کو اپنی اجرت مل جائے گی۔

کرونا نے ہمیں ایک موقع مہیا کیا ہے اپنے گریبانوں میں جھانکنے کا ۔اللہ کریم کا کوئی کام مصلحت سے خالی نہیں ۔قدرتی آفات یا وبائی امراض خداکا قہر نہیں ہوتے کچھ نقصان ضرور ہوتا ہے لیکن دراصل وہ حکیم اور دانا وقتی فائدہ دیکھنے والے انسان کو ایک موقع دیتا ہے کہ وہ اپنے اپنے اعمال پر نظر ڈالے ،انفرادی بھی اجتماعی بھی۔اور انفرادی سے زیادہ اجتماعی۔کیوں کہ قدرتی آفتیں اور وبائیں ملکوں کو متاثر کرتی ہیں اور قوموں کو سوچنے کا موقع دیتی ہیں کہ ہم سے کہاں غلطی ہوئی اور ہم کس جرم کا ارتکاب کئے جا رہے ہیں ۔ہمیں اپنی کون سی چیزوں کو درست کرنا ہے ۔دیکھنے والی آنکھ دیکھ سکتی ہے کہ اصل تنبیہ ایک عادلانہ نظام کے قیام کی ہے۔

یہی ضرورت عالمی سطح پر بھی ہے کہ کرونا کے بعد کی دنیا نسبتاً مساویانہ خطوط پر استوار ہو۔جس میں دولت مند ممالک غریب کے ساتھ بھائی چارے کی فضا قائم کریں ،اور خود اپنی آبادی کے مختلف طبقات میں عادلانہ رویہ اختیار کریں۔ مغربی جمہوریتوں میں اِس بات کا امکان موجود ہے اور امید کی جا سکتی ہے ۔البتہ خطرہ ان نادیدہ قوتوں سے ہے جو حکومتوں کو کنٹرول کرتی ہیں ۔کیا وہ ایسا ہونے دیں گی ؟

Trickle Down Theory اور اس کا متبادل

علم معاشیات میں اس نام کی کوئی تھیوری نہیں ۔نہ ہی معاشیات کی درسی کتابوں میں آپ کو اس کا ذکر ملے گا ۔ایک امریکی مزاح نگار نے Trickle Down کی اصطلاح بطور طنز استعمال کی تھی کہ جب بڑے لوگوں کے پاس بڑا پیسہ ہو گا تو اس کے چھینٹے چھوٹے لوگوں تک پہنچیں گے۔

پاکستان میں مارشل لاء کا دور بزنس مینوں اور کارخانہ داروں کے لئے بڑا کارساز تھا ۔تمام سیاست دان ایبڈو (EBDO) اور پروڈا (Proda) کے تحت نااہل ہو چکے تھے اور گھروں میں دبکے بیٹھے تھے۔بزنس اور صنعت کاروں کو کوئی رکاوٹ نہ تھی ۔سو اس دور میں ٹیکسٹائل اور بینکنگ نے بڑا فروغ پایا۔لیکن غریب کوجو قطرہ قطرہ ملتا تھا وہ کبھی اتنا نہ ہو پایا کہ وہ غربت سے باہر نکلے۔یہی کیفیت امریکہ میں ریگن کے دور میں اور برطانیہ میں تھیچر کے دور میں رہی ۔افسوس یہ ہے کہ پاکستان میں کسی دور میں اس تھیوری سے چھٹکارہ نہ پایا جا سکا ۔اور آج بھی جو بلڈرز اور کنٹریکٹرز کو سرمایہ لگانے کی دعوت دی جا رہی ہے وہ اسی سوچ کا مظہر ہے ۔

سوال یہ ہے کہ پاکستان کا معاشی نظام کیا ہو؟ ۔ہمارے خیال میں بےنظیر انکم سپورٹ یا احساس پروگرام میں غریب کو براہ راست پیسہ دیا جا رہا ہے۔یہ صرف جسم و جاں کا رشتہ رکھنے کے لئے ہے۔اصل حل یہ ہے کہ مستحق افراد کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ خود کسی پیداواری عمل کا حصہ بنیں ۔وہ کاٹیج انڈسٹری بھی ہو سکتی ہے جو SMEکے ذریعے یعنی چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کو مستحکم کر کے کی جا سکتی ہے۔آن لائن کاروبار اور انٹرپرینیور بھی اس کا حصہ ہو سکتے ہیں۔ اخوت پروگرام اس کی ایک چھوٹی سی مثال ہے۔

جس میں مستحق افراد کو ایک معقول رقم بطور قرضِ حسنہ دی جاتی ہے اس سے وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں یہ ابھی محدود پیمانے پر ہے اور جب تک اس میں حکومتی وسائل شامل نہ ہوں یہ ملکی معیشت میں فرق نہیں ڈال سکتی ۔مگر یہ ایک اچھا آغاز ہے ۔اس کو بڑھاوا ملنا چاہیئے اور اس کو ماڈل بنا کر دیگر فلاحی ادارے اور حکومتی محکمے ایسے متعدد پروگرام جاری کریں ۔شاید کہ یہ ایک بہتر پاکستان کی بنیاد ثابت ہو۔ 

تازہ ترین