• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ملک بھر میں ہر روز کورونا وبا سے اموات میں تشویشناک اضافہ ہو رہا ہے مگر ہمارے پیارے ملک کے وزیراعظم کی سوئی لاک ڈائون کی مخالفت پر اٹکی ہوئی ہے۔ اس وقت اسلام آباد سمیت چاروں صوبوں، کے ساتھ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں لاک ڈائون ہے تاہم وزیرآعظم عمران خان کے بار بار اسرار کے بعد جیسے ہی لاک ڈائون میں نرمی کی گئی حیرت انگیز طور پر کورونا وائرس میں تیزی آتی رہی۔ اس وقت تک 444ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کورونا مریضوں کا علاج کرتے ہوئے خود کورونا کے شکار ہو گئے ہیں جبکہ 8سے زیادہ ڈاکٹر اس جنگ میں شہید ہو چکے ہیں، مگر حیران کن بات یہ ہے کہ پنجاب میں ڈاکٹروں کی تنخواہیں کاٹ لی گئی ہیں حالانکہ ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کو ان کی محنت کے صلے اور حوصلہ افزائی کے لئے ڈبل تنخواہیں دینا چاہیے تھیں۔ قابلِ تشویش بات یہ ہے کہ ہمارے وزیراعظم تاحال حالات کی نزاکت کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ انہیں رتی برابر بھی احساس نہیں کہ کورونا کے شکار مریضوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر پیرا میڈکل اسٹاف کس اذیت ناک حالت میں کورونا کے شکار انسانوں کی زندگیوں کو بچانے میں جان کی بازی لگا رہے ہیں، نہ صرف ماسک مگر کٹ کی حرارت ناقابلِ برداشت ہونے کے باوجود آٹھ آٹھ گھنٹے ڈیوٹی سرانجام دیتے ہیں یہاں تک کہ ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد اپنے گھروں میں بھی اپنے پیاروں سے دور رہتے ہیں۔

ایک خاتون ڈاکٹر نے بتایا وہ اپنی دو سال کی بیٹی کو دور سے دیکھتی ہے، اس سے پیار نہیں کر سکتی۔ اس وقت ہم حالتِ جنگ میں ہیں، ہمارا دشمن کورونا ہے، اس کو ختم کرنا ہے تو سخت لاک ڈائون کرنا ہوگا، سماجی فاصلے کی پاپندی کرنا پڑیگی ورنہ وبا کا علاج کرنے والے خود وبا کے شکار ہو جائیں گے، لاشوں کو دفنانے والا کوئی نہیں ہوگا پھر کیسے تاجر تجارت کریں گے، ایک ڈیڑھ ماہ میں تاجروں کا کوئی نقصان نہیں ہوگا، اگر تمام ڈاکٹر اکیلے جنگ لڑیں گے تو اکیلے ہی مارے جائیں گے مگر خان صاحب فرما رہے کہ میں تو لاک ڈائون کے حق میں نہیں ہوں مگر اشرافیہ لاک ڈائون چاہتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ وزیراعظم کا اشارہ کس کی طرف ہے؟ آسان الفاظ میں اشرافیہ اسٹیبلشمنٹ کو ہی جاتا ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسٹیبلشمنٹ کو بھی وزیراعظم کی نااہلی کا ادراک ہو چکا تھا کہ اسی لیے اسلام آباد میں بھی لاک ڈائون کیا گیا اور اس بارے انہیں بتانے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی گئی۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ عمران خان نیازی ابھی تک کنٹینر سے نہیں اُترے، یقیناً یہ ہی بات ہے کہ انہیں احساس ہی نہیں کہ اب وہ پورے ملک کے وزیراعظم بنا دیے گئے ہیں۔ شاید انہیں معلوم ہی نہیں کہ 18ویں ترمیم کے تحت ہی وزیراعظم بااختیار ہے اور ان پر لازم ہے کہ وہ ملک کی تمام اکائیوں کو ساتھ لیکر چلیں اور ان کے اعتماد کو ٹھیس نہ پہنچائیں۔

افسوس ناک بات یہ ہے کہ اس ساری صورتحال میں وزیراعظم ریاستی امور سے بیگانہ نظر آئے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کا تو یہ ہی بیانیہ ہے کہ وقت کا تقاضہ ہے کہ کورونا کے خلاف قومی جنگ کی قیادت وزیراعظم عمران خان کریں مگر نہیں معلوم کہ چیئرمین بلاول بھٹو کے کورونا کے خلاف بیانیہ کو خان صاحب اپنے خلاف بیانیہ کیوں تصور کرتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے خان صاحب کسی اور دنیا میں رہ رہے ہیں۔ جمعہ کے روز چیئرمین پیپلز پارٹی نے یہی کہا کہ عمران خان پورے ملک کی قیادت کریں یا عہدہ چھوڑ دیں، اس پر نیازی ٹائیگرز فورس آپے سے باہر ہو گئی، اور تو اور وزیر اطلاعات شبلی فراز نے چیئرمین پیپلز پارٹی کی پریس کانفرنس سنے بغیر بنی گالا ٹائیگرز کے لکھے ہوئے بیان پر انگوٹھا لگایا اور ان کا بیان الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا کی زینت بنا۔ اطلاعات کے مطابق کورونا سے سب سے زیادہ متاثر خیبر پختونخوا ہے جہاں اموات کی تعداد تشویش ناک ہے، یہی صورتحال بنجاب کی ہے۔ میرے خیال میں اس صورتحال کے ذمہ دار بھی وزیراعظم ہی ہیں کیونکہ جس طرح وہ سندھ میں مداخلت کرتے ہیں ویسی ہی مداخلت پنجاب اور کے پی میں کرتے ہیں جہاں ان کی اپنی پارٹی کی حکومتیں ہیں۔ اگر تعصب کی عینک اتار کر دیکھا جائے سندھ کورونا کے خلاف جنگ میں پہلے مورچہ پر ہے، جو ملک کو وبا سے محفوظ بنانے کے لیے شب و روز کوشاں ہے، اس وقت جب سندھ حکومت کی ساری توجہ صرف صوبہ کے عوام کو کورونا وبا سے بچانے پر مرکوز ہے کوئی شک نہیں کہ کورونا کے خلاف جنگ میں چیئرمین بلاول بھٹو سندھ حکومت کی مکمل رہنمائی کر رہے ہیں تاہم وفاقی حکومت سندھ سے جنگ میں مصروف ہے لاک ڈائون کے بارے عمران خان کا بیانیہ اور گورنر سندھ عمران اسماعیل سمیت وفاقی وزرا اور پی ٹی آئی کے لیڈروں کا طرزِ عمل بےشمار سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا لاک ڈائون کی وجہ سے صرف کراچی کے تجارتی مراکز بند ہیں باقی ملک میں کاروبار رواں دواں ہے؟ تو پھر وفاقی حکومت کیوں کراچی کے تاجروں کو اکسا رہی ہے؟

یہ بھی انتہائی بودی دلیل ہے کہ 18ترمیم کے بعد وفاق کسی وبا اور مشکل صورتحال میں صوبوں کی مدد کرنے سے قاصر ہے ایسی تاویلوں سے وفاق اپنی ذمہ داریوں سے فرار اختیار نہیں کر سکتا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بار بار وزیراعظم کو ان کے فرائض یاد دلاتے ہیں۔ وزیراعظم اپنی نالائقی پر غور کرنے کی بجائے سندھ سے جنگ شروع کر دیتے ہیں جو اس وقت کورونا کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

تازہ ترین