آپ آف لائن ہیں
جمعرات10؍ذیقعد 1441ھ2؍جولائی2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

IMF کے مجوزہ ہدف کیلئے 800 ارب کے نئے ٹیکس لگانا ہونگے، پی بی سی

پاکستان بزنس کونسل (پی بی سی) کا کہنا ہے کہ مالی سال 2021 میں ٹیکس محاصل میں 34 فیصد اضافے پر تشویش ہے، آئی ایم ایف کے مجوزہ ہدف کے لئے 800 ارب کے نئے ٹیکس لگانا ہونگے۔

پی بی سی کاکہنا ہے کہ مالی سال 21 سے پہلے معیشت کو مزید بہتر بنانا ہے، نئے ٹیکس کورونا سے پہلے مشکل سے مستحکم ہوئی معیشت کا گلا گھونٹ دیں گے۔

پاکستان بزنس کونسل نے بتایا کہ ٹیکس ہدف سے پہلے ایف بی آر ریفارمز کی ضرورت ہمیشہ پی بی سی نے اجاگر کی ہے، ہم نے اگلے مالی سال شرح سود 11 فیصد رکھنے کی بات کی ہے۔

پی بی سی کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے اگلے مالی سال شرح سود 11 فیصد رکھنے کی بات کی ہے، ٹیکس بیس بڑھانے کی اداریاتی صلاحیت ایف بی آر کے پاس نہیں ہے۔

پی بی سی نے کہا کہ غیر حقیقی ٹیکس اہداف پورا کرنے کے لئے پہلے سے ٹیکس دینے پر انحصار کا خدشہ رہتا ہے، مالی سال 21 میں ٹیکسوں میں 34 فیصد اضافہ غیر حقیقی ہے۔

کونسل نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف کے آئندہ مالی سال میں 2 فیصد اضافہ منظر نامہ مزید خراب کرتا ہے، آئی ایم ایف نے مہنگائی کا اندازہ 8 فیصد لگایا ہے،جبکہ بے روزگاری اور طلب کم ہونے کے سبب اسے 6 فیصد کیاجانا چاہیے۔

تجارتی خبریں سے مزید