آپ آف لائن ہیں
جمعہ11؍ذیقعد 1441ھ 3؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ایسے وقت میں جب کورونا وائرس کی وجہ سے نافذ ہوئے لاک ڈاؤن کے دوران پڑوس میں جانا بھی مشکل ہو رہا ہے، تلنگانہ کی ایک خاتون نے آندھرا پردیش میں پھنسے اپنے لخت جگر کو گھر واپس لانے کے لئے 1400 کلومیٹر سکوٹی چلائی۔ بودھن قصبہ کی اسکول ٹیچر رضیہ بیگم برقع پہن کر دو پہیے پرنکلیں اور تمام مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے ضلع نیلور تک سفر طے کر کے اپنے بیٹے کو واپس لائیں۔ اس کا بیٹا محمد نظام الدین تقریباً دو ہفتوں سے ضلع نیلور کے رحمت آباد میں پھنسا ہوا تھا۔

حیدرآباد کے ایک نجی کالج میں انٹر میڈیٹ سیکنڈ ایئر (بارہویں جماعت) کا طالب علم نظام الدین اپنے سالانہ امتحان کے بعد اپنے دوست کے ساتھ رحمت آباد گیا تھا اور لاک ڈاؤن کے بعد تمام نقل و حمل کی سہولیات بند ہونے کے بعد وہ وہیں پھنس گیا۔ اس کے بعد رضیہ بیگم نے اپنے بیٹے کو واپس لانے کے لئے طویل سفر طے کرنے کا فیصلہ کیا۔رضیہ ایک پرائمری اسکول میں ہیڈ ماسٹر کی حیثیت سے کام کرتی ہیں۔ انہوں نے اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس وی جے پال ریڈی سے رابطہ قائم کیا اور اجازت نامہ لے کر 6 اپریل کی صبح رحمت آباد کے لئے روانہ ہو گئیں۔ 

پولیس نے انہیں کئی بیریکیڈس اور چیک پوسٹوں پر روکا، لیکن انہوں نے اے سی پی کا خط دکھایا اور پھر پولیس افسران نے انہیں مزید سفر کرنے کی اجازت دے دی۔دل چسپ بات یہ ہے کہ رضیہ بیگم کبھی اسکوٹی پر شہر سے باہر نہیں گئی تھیں، اس کے باوجود وہ گوگل میپ اور مقامی لوگوں کی مدد سے 700 کلومیٹر دور ،رحمت آباد پہنچنے میں کامیاب ہوگئیں۔

رضیہ نے ایک ٹی وی چینل کو انٹر ویو دیتے ہوئے کہا کہ، ’’میں صرف کچھ دیر وقفہ لینے کے لئے چیک پوسٹ پر ٹھہرتی اور پھر اپنے سفر پر نکل جاتی تھی۔‘‘ میرے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ میں اپنے بیٹے کو ساتھ لے کر 7 اپریل کی شام بودھن کے لئے روانہ ہوئیں اور اگلے دن گھر پہنچ گئیں۔بظاہر تو یہ سفر بہت طویل تھا لیکن بیٹے کی محبت اور فکر نے ایک ماں کے لئے اس راستہ کو آسان بنا دیا۔ رضیہ بیگم کہتی ہیں، ’’اگر آپ پرعزم ہیں تو پھر آپ کچھ بھی حاصل کر سکتے ہیں۔