سینیئر وائٹ ہاؤس اہلکار نے کہا ہے کہ امریکا اگلے چند ماہ کے دوران شام میں موجود اپنی فوج کو بڑی حد تک واپس بلانے کی تیاری کر رہا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں اہلکار نے کہا کہ شامی حکومت نے اپنی سرحدوں کے اندر دہشت گردی کے خلاف لڑائی کی قیادت کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
وائٹ ہاؤس اہلکار نے کہا ہے کہ شام میں اب بڑے پیمانے پر امریکی فوجی موجودگی کی ضرورت نہیں رہی، تاہم امریکا خطے میں کسی بھی خطرے کا جواب دینے کے لیے تیار رہے گا۔
انہوں نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج واشنگٹن میں بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس کی صدارت کریں گے، اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ ری کنسٹرکشن فنڈ میں جمع ہونے والی رقم کا اعلان کریں گے اور غزہ کے لیے انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس سے متعلق بھی اعلان کریں گے۔
امریکی عہدیدار کے مطابق اجلاس میں 47 ممالک سے وفود شریک ہوں گے، جن میں اسرائیل اور یورپی یونین کے نمائندے بھی شامل ہیں، اجلاس میں امریکی وزیرِ خارجہ مارک روبیو، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر اور دیگر بھی خطاب کریں گے۔
اجلاس میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل ارکان فرانس، برطانیہ، روس اور چین شریک نہیں ہوں گے۔