آپ آف لائن ہیں
پیر14؍ذیقعد 1441ھ 6؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

گذشتہ سال میری والدہ کی وفات ہوئی تو وہ پاکستان میں تھیں اور میں یورپ میں تھا ۔ والدہ نے اپنے سات بچوں کو پالنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی تھی۔ میری زندگی کے کم و بیش 20سال انہوں نے ہر روز کھانا کھلایا اور کسی ایک دن بھی بھوکا نہیں سونے دیا ۔ ماں ہوتی ہی ایسی ہے ۔ یہ تو ہم کہہ دیتے ہیں ۔ لیکن ہم کیسے ہوتے ہیں؟ یہ ہمیں خود سوچنا ہے اور فیصلہ کرنا ہے کہ ہم کہیں ان کی بے ادبی تو نہیں کر دیتے اور بڑھاپے میں انہیں جھڑک تو نہیں دیتے نعوذباللہ ۔ اللہ پاک نے بڑھاپے میں والدین کا خاص خیال رکھنے کا حکم دیا ہے اور ایسا کرنا لازم ہے ۔ اس مختصر سی تمہیدی گفتگو کے بعد میں کچھ عرض کرنا چاہتاہوں ۔ 

ہوا کچھ یوں کہ ڈاکٹروں نے والدہ کو ڈیمنشیا (Dementia) کی بیماری بتائی ۔ یہ ایسی بیماری ہے کہ بڑھاپے میں ہر تین میں سے ایک بندے کو الزائمر (Alzheimer) یا ڈیمنشیا ہونا ہی ہونا ہے ۔ آپ میں سے بھی بہت سارے لوگ اس کا شکار ہو سکتے ہیں ۔ لہذا اسے دھیان سے پڑھیں ۔ یہ دونوں بیماریاں دماغی کمزوری کی وجہ سے ہوتی ہیں ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ میں اپنی والدہ کی خدمت نہیں کرسکا ۔دیار غیر میں ہونے کی وجہ سے اور نہ ہی اس بیماری کی معلومات تھیں ۔مجھے خود بھی سائنس (Sinus) کا مسئلہ اور الرجی کی پرابلم تھی ۔ بار بار چھینکیں آتی تھیں ۔ ناک سے پانی بے انتہا آتا تھا اور تقریبا15سال تک یہی مسئلہ رہا جو کہ لڑکپن میں ہی شروع ہو گیا تھا ۔بہرحال والدہ کاانتقال ہوگیا اور میں کچھ نہ کر پایا ۔

اس کا افسوس ہمیشہ رہے گا ۔ یہی افسوس اس طرح کا علم بانٹنے اور استغفار کرنے اور کروانے پر آمادہ کرتا رہے گا ۔ان کی وفات نے گہرا اثر چھوڑا جو ابھی تک باقی ہے اور ان کی یاد ستاتی ہے ۔ایک دن اتفاق سے ایک مسلمان ڈاکٹر کی وڈیو دیکھی ،جس میں اس نے بتایا کہ دماغی کمزوری کو دور کرنے کا واحد طریقہ’’ لمبا سجدہ‘‘ کرنا ہے ۔ یہ معلومات نئی تھیں ۔ دلیل کے طور پر انہوں نے یہ کہا کہ ہمارا دل کشش ثقل (Gravity) کے خلاف خون کو دماغ تک پمپ اتنے ٹھیک طریقے سے نہیں کرتا، جتنا جب ہم سجدے میں چلے جاتے ہیں ، تب کرتا ہے ۔ جبھی آہستہ آہستہ لوگوں کا دماغ کمزور ہو جاتا ہے اور بڑھاپے میں بالآخر جواب دے جاتا ہے ۔ 

یہ بات تو بھلی معلوم ہوئی ۔پھر کچھ ان کی وڈیوز دیکھیں تو معلوم ہوا کہ میری اپنی پرابلم رائنائٹس (Rhinitis) والی الرجی کا بھی یہی حل ہے ۔ کیونکہ دماغی کمزوری کی ہی وجہ سے ہمیں یہ پرابلم ہوتی ہے اور پھیپھڑوں پر بھی بہت منفی اثر چھوڑتی ہے ۔بہرحال واحد طریقہ تو یہی تھا کہ میں آزما کر دیکھ لیتا۔ آپ یقین جانئے میری 15سالہ پرانی پرابلم اور الرجی کا مسئلہ تو ایک ماہ میں ہی لمبا سجدہ کرنے سے حل ہو گیا ۔ الحمدللہ ۔نماز تو پڑھتا تھا ، لیکن نماز کے بعد سجدہ شکر کو لمبا کر دیا اور دیگر کئی اذکار بالخصوص 100مرتبہ درود پڑھنے میں ہی پانچ سے دس منٹ کا سجدہ ہو جاتا ۔ اس سے اور کئی مسائل حل ہوئے ۔ چہرہ خون کی سپلائی کی وجہ سے تازہ رہنے لگا اور بڑی عمر کے اثرات تقریبا ختم ہو گئے ۔۔ بالوں کو خون ملنے کی وجہ سے بال گرنے کم ہو گئے ۔ 

بلغم کا مسئلہ تھا ، وہ بالکل ختم ہو گیا ۔ کانوں کے مسائل اور آنکھوں کی کمزوری کے مسائل کم ہو گئے ،ساتھ ہی ساتھ آنکھوں کے نیچے گذشتہ ایک سال سے کالے رنگ کے حلقے نہیں دکھے ۔سبحان اللہ ! یہ مذہب ہی تھا جس کے ایک سجدے کے عمل میں ہماری اتنی بیماریوں اور نہ جانے کن کن بیماریوں کا علاج ہے ۔ورنہ بڑے سے بڑے یورپ کے ڈاکٹر کو میری الرجی کا علاج نہیں ملا ۔آج کل کرونا کا بہت زور ہے ۔ یقین مانئے اگر آپ لمبے سجدے کرنے شروع کر دیں نماز کے بعد تو آپ کے پھیپھڑے زیادہ مضبوط ہو سکتے ہیں ، کیونکہ سجدے کی ایک ایسی پوزیشن ہے، جس میں انسان کے پھیپھڑے زیادہ بہتر کام کرتے ہیں ۔ آزمودہ بات ہے ۔ 

آپ بھی آزما کر فائدہ اُٹھا سکتے ہیں ۔ یہ کم از کم پھیپھڑوں کو طاقت ضرور دے گا۔ اگر یہ باتیں پہلے پتاہوتیں تو شاید میں اپنی والدہ کی دماغی کمزوری کا مسئلہ حل کروا دیتا ۔ ایسا نہیں کر سکا تو کم از کم آپ یہ سب باتیں جان لیجئے اور اپنے بڑھاپے کے لیےاور موجودہ بیماریوں اور وباوں سے بچنے کیے لیے تیاری شروع کر دیجئے۔ اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو ۔ مذہب اسلام زندگی ہے ۔آخر میں حضرت علیؑ کا قول نقل کر دوں کہ اگر نمازی کو پتہ چل جائے کہ کن کن رحمتوں نے اسے گھیرا ہوا ہے تو وہ سجدے سے سر اٹھانا ہی نہ چاہے۔