آپ آف لائن ہیں
جمعرات17؍ذیقعد 1441ھ9؍جولائی2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

احسن مرزا

عربی حکایت ہے کہ ایک بادشاہ اپنی بیٹی کی شادی کو لے کر بہت فکر مند رہتا تھا ۔ وہ برسوں سے نیک اور عبادت گزار داماد کی تلاش میں تھا ۔ ایک دن اس نے وزیر کو بلایا اور کہا کہ کسی طرح میری بیٹی کے لئے میری رعایا میں سے عبادت گزار انسان کو تلاش کر کے پیش کرو ۔

وزیر نے اپنی فوج کو شہر کی جامع مسجد کے گرد تعینات کر دیا اور کہا چھپ کر دیکھتے رہو جو شخص آدھی رات مسجد میں داخل ہو گا، اسے نکلنے مت دینا جب تک میں نہ آ جاؤں ۔ عین اسی وقت ایک چور چوری کرنے کے ارادے سے گھر سے نکلا اور دل ہی دل میں سوچا کیوں نہ آج شہر کی جامع مسجد میں جا کر چوری کی جائے وہاں مسجد کا قیمتی سامان چرایا جائے ۔ چور جیسے ہی جامع مسجد میں داخل ہوا مسجد کی انتظامیہ نے چور سے بے خبر مسجد کو باہر سے تالا لگایا اور اپنے گھروں کو چلے گئے ۔ 

فوجی دستوں نے وزیر کو اطلاع دی کہ لگتا ہے کوئی عبادت گزار آیا ہے ،مگر مسجد کو تالا لگ چکا اب صبح کی آذان پر ہی مسجد کھلے گی تو پتہ چلے گا کون ہے ۔وزیر جلدی سے مسجد پہنچا اور صبح کی آذان کا شدت سے انتظار کرنے لگا تا کہ اندر موجود نیک انسان کو بادشاہ کے سامنے حاضر کیا جاسکے۔ جیسے ہی مسجد کھلی وزیر دستے سمیت اندر داخل ہوا ۔ چور یہ دیکھ کر گھبرایا کہ آج تو پکڑا گیا اور جلدی سے نماز کی نیت باندھ لی ۔ جوں ہی سلام پھیرتا فورا کھڑا ہو کر دوبارہ نیت باندھ لیتا ۔ وزیر کو اس کی عبادت گزاری پر یقین آ گیا۔ 

جوں ہی سلام پھیرا فوجی دستے نے اس چور کو پکڑا اور بادشاہ کے سامنے پیش کیا ۔ وزیر نے کہا بادشاہ سلامت یہ ہے آپ کامطلوبہ شخص اسے مسجد سے گرفتار کیا ہے رات بھر مسجد میں عبادت کرتا رہا ۔ چور کی حالت غیر ہو رہی ہے ۔ بادشاہ چور سے مخاطب ہو کر کہنے لگا ۔ کیا خیال ہے اگر میں اپنی بیٹی کی شادی تمہارے ساتھ کر کے تمہیں اپنی سلطنت کا ولی عہد مقرر کر دوں۔ کیا تمہیں منظور ہے؟

چور ہکا بکا ہو کر دیکھنے لگا ۔ ڈرتے ڈرتے پوچھا ۔ عالی جاہ ۔ یہ کرم نوازی کس خاطر ؟ بادشاہ نے کہا تم عبادت گزار ہو ۔ رات بھر مسجد میں رہے صبح آذان ہونے پر باہر آئے ۔

چور دل ہی دل میں سوچنے لگا ” اے اللہ ۔ میں چوری کی نیت سے ہی سہی ،مگر تیرے گھر گیا ، دکھلاوے کی نیت سے ہی سہی نماز ادا کی اور بدلے میں تو نے دنیا میرے قدموں میں ڈال دی ۔ اگر میں سچ مچ عبادت گزار ہوتا اور راتوں کو تہجد پڑھا کرتا تو پھر تیرا انعام کیا ہوتا !!!

وہیں کھڑے کھڑے نادم ہو کر تائب ہوا ۔

خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کا دل عبادت میں لگتا ہے ۔ حال دل اپنے مالک کے سامنے گڑگڑا کر ذکر کرتے ہیں ۔ آرام دہ بستروں کو چھوڑ کر مصلے پر کھڑے ہوتے ہیں ۔ کیا مقام ہوگا ان کا اللہ کے نزدیک ۔ ایک انسان اس کاتصور بھی نہیں کر سکتا ۔