آپ آف لائن ہیں
ہفتہ6؍ربیع الاوّل 1442ھ 24؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

آج کل جو معاشرتی تبدیلیاں دنیا مشاہدہ کر رہی ہے اُس کی توقع پچھلے سال کے اواخر تک کسی کو بھی نہیں تھی اور یہ معاملات اس طرح کب تک چلتے ہیں اس کا بھی کسی کو اندازہ نہیں مگر اب کچھ اجتہادی داخلی و خارجی مسائل میں اپنی ذاتی رائے کا استعمال ضروری سمجھتا ہوں کیونکہ دوست لوگ ہوں یا اجنبی کچھ مفروضوں کی بنیاد پر علم قیافہ کی روشنی میں ازراہ مہربانی رہنمائی فرما رہے ہیں یا ہماری آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں۔ اس وقت دنیا کی نظریں کورونا کے علاوہ کچھ دیکھ ہی نہیں رہیں اور اِس غُل غپاڑے میں بہت کچھ سنائی بھی نہیں دے رہا۔ سچ پوچھئے تو لاک ڈاؤن نے موجودہ پاکستانی حکمرانوں کی فیصلہ سازی پر ایک سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ غریب آدمی تو پس ہی گیا اور لاک ڈاؤن کے نام سے مشابہت بھی نہیں پیدا ہو سکی۔ ایسی صورتحال میں کورونا سے عام عوام تو خیر کیا بچتے وہ میڈیکل اسٹاف بھی نہیں بچ سکا جو کہ کورونا کے کیسز کو ڈیل کر رہا تھا۔ اب ینگ ڈاکٹرز کی ڈیمانڈ حق بجانب نظر آتی ہے۔ پروٹیکٹو کٹس کے بغیر نوکری کرنا ایسی مصیبت ہے جو اللہ کرے کسی کے نصیب میں نہ آئے پھر تيل کی قیمتوں میں عالمی گراوٹ کے بعد بھی مہنگائی آسمانوں کو چھو رہی ہے، بیرونی دنیا سے قرضوں میں ريليف ضرور ملا مگر دسمبر تک، اس کے بعد گرتی برآمدات اور فارن ریمیٹنس

جو تباہی لائے گا اس کا خیال کرنا بھی پسینے میں شرابور کرنے کے لیے کافی ہے۔ کاروبار کا حجم تو بہرحال دنیا بھر میں کم ہونا ہی ہے مگر نیب جس طرح سے مہربانیاں فرما رہا ہے پاکستان میں کاروباری سرگرمیاں مزید ماند پڑ سکتی ہیں۔ اس پر مستزاد اخبارات کے مالکان زیر عتاب ہیں اور سیاسی جماعتوں کے رہنما پیشیاں بھگت رہے ہیں۔ بہرحال حکومت نے اس سارے معاملے کی اصلاح اس طرح چاہی ہے کہ شبلی فراز صاحب کو تحریک انصاف کے مقصد ارادہ اور نیت کی وضاحتوں کے لیے مقرر فرما دیا ہے۔ چلیں اتنا سوال کر لیتے ہیں کہ کیا واقعی مسائل کا حل اسپوک پرسنز کی تبدیلی سے ممکن ہے اور کیا واقعی میں یہ اسپوک پرسن تحریک انصاف کا حقیقی چہرہ ہیں اور کیا تحریک انصاف کا کوئی حقیقی چہرہ تھا بھی یا بس سب دھواں ہی دھواں کہ جس کے پرے سب کچھ دھندلا تھا۔ اس کے علاوہ ڈیورنڈ لائن کے پار سے آنے والی خبریں ہیں۔ دریائے کابل کا معاملہ فی الفور سلجھانے کی ضرورت ہے جبکہ سکھ گردوارہ پر کابل میں انڈین ایجنسیز نے جو اٹیک کروایا اس کے بعد انڈین رول پر مربوط اور منصفانہ پیش بندی کی ضرورت ہے کیونکہ اگر ایسی پیش بندی مناسب طور پر نہ کی گئی تو ایسی صورت میں ہمارے فوجی جوانوں کے جنازے اس طرف سے مزید اٹھتے رہیں گے اور ان کی تعداد بڑھتی جائے گی، خدانخواستہ۔ مزید المیہ یہ ہے کہ وہاں پر ایسے عام شہری بھی قتل ہو رہے ہیں کہ جن کے قتل سے ہمارے اداروں کو بدنام کرنے کی حکمت عملی کامیاب بھی ہو سکتی ہے لہٰذا ایسے واقعات کا بھی فی الفور تدارک وقت کی ضرورت ہے ورنہ کہیں نقصان بڑھ نہ جائے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ امریکہ اور ہم آج طالبان اور کابل انتظامیہ کو ضرور تسلیم کرتے ہیں مگر یہ معاہدہ بظاہر امریکہ کا افغانستان سے نکلنے کی حکمت عملی کے علاوہ کچھ نظر نہیں آ رہا۔ افغانستان میں ہتھیار بند فوجیں آمنے سامنے جلد یا بدیر آ سکتی ہیں۔ ایک اور مسلک کے طالبانی کمانڈر کی موجودگی اور اس کا ویب سائٹ پر بیان جاری کرنا اس امر کا غماض ہے کہ طالبان بھی بہت کچھ سیکھ چکے ہیں اور اب وہ ہمسایوں کے ساتھ بھی بنا کے رکھنا چاہتے ہیں اور ان کے ہمسایوں کی پوزیشن بھی ظاہر کرتی ہے کہ وہ بھی طالبان سے تعلقات میں طالبان کے گزشتہ حکومت کے دور کی مانند تلخی قائم نہیں ہونے دینا چاہتے، ہم نے اگر دہشت گردوں کی بانہوں کو مضبوطی سے واقعی باندھنا ہے تو عمیق پالیسیز کی ضرورت ہے ورنہ باگیںکسنا مشکل ہو جائے گا۔ خاص طور پر دہشت گردوں کے ضدی اور سرکش عناصر کو کہ جن کو پاکستان کی آبادیوں تک رسائی حاصل رہی ہے، ہماری ذمہ داری بھی یہی ہے کہ ہم افغانستان میں رونما ہونے والے تغیر کو ابھی سے پہچانیں۔ قصہ مختصر ہمارے لیے اہم امر یہ ہے کہ امریکا طالبان معاہدہ پر صرف مطمئن نہ رہا جائے بلکہ افغان طالبان اور موجودہ افغان حکومت سے دو ٹوک اور حکمت عملی کے ساتھ بات کی جائے کہ افغان سرحد کی جانب سے دہشت گردی کی کارروائی ہر صورت روکی جائے۔ انڈیا ناصرف وہاں پر ایسی تنظیموں کو تیار کر رہا ہے جو سی پیک اور دیگر پاکستانی مفادات کو نقصان پہنچانے کی حکمت عملی پر كکاربند ہیں بلکہ ریاست کی سطح پر دریائے کابل پر بھی انڈیا شرارت کر رہا ہے اور ان شرارتوں کا سدِ باب ہی ہماری کامیابی ہوگی۔