آپ آف لائن ہیں
منگل 15؍ذیقعد 1441ھ 7؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مرتب: محمّد ہمایوں ظفر

یہ آج سے لگ بھگ 25 سال پرانی بات ہے۔ اُس وقت میری عمر تقریباً سات سال تھی۔ والد صاحب ڈپٹی کمشنر آفس،اسلام آباد میں ملازم تھے اور ہم اسلام آباد ہی میں مقیم تھے۔ چوں کہ تعلیمی مصروفیات کی وجہ سے کافی تھکاوٹ ہوجاتی تھی، تو ہر ہفتے ہم سب والد صاحب کے ساتھ اپنے آبائی گائوں، نانی کے گھرچلے جاتے، اور ہفتے کی رات اور اتوار کا دن گائوں میں نانی کے گھر گزارنے کے بعد واپس آجایا کرتے۔ اس دوران میں اور میرے بڑے بھائی (جو آج ڈاکٹر رضوان علی شیر دل ہیں) اور چھوٹا بھائی (جو اب ڈاکٹر عثمان ہے) گائوں میں خوب موج مستی کیا کرتے۔ 

نانی جان ہماری آمد سے بہت خوش ہوتیں، ہمارے لیے خاص اہتمام کرتیں اور طرح طرح کے پکوان پکا کر ہمیں کھلاتی تھیں۔ وہ بہت نیک، پارسا خاتون تھیں۔ نوّے برس سے زائد عمر کی ہونے کے باوجود صوم وصلوٰة کی بڑی پابندی کیا کرتیں اور اسلامی مسائل، عقائد و نظریات پر مبنی کتب شوق سے پڑھتیں۔ ٹی وی چینلز پر علمائے کرام کے بتائی ہوئی آیات اور وظائف اکثر مجھ سے کاغذ پر تحریر کرواکر بار بار دہراتی اور یادکیا کرتی تھیں۔ پیرانہ سالی میں آنکھیں کم زور ہوجانے کے باوجود قرآن کریم کی تلاوت روزانہ کیا کرتیں۔ وہ ہمیشہ ایک دوسرے سے حسنِ سُلوک اور خاندان کو جوڑے رکھنے کی تلقین کیا کرتیں۔ بڑھاپے اور بیماری میں لوگ بہکی بہکی باتیں کرنے لگ جاتے ہیں، مگر ہم نے پوری زندگی اپنی نانی کے منہ سے کوئی فضول بات نہیں سُنی-

اُن ہی دنوں کی بات ہے، جب ہم حسبِ معمول ہفتہ واری چھٹی پر نانی کے گھر گئے ہوئے تھے، تو یہ واقعہ پیش آیا، جو بظاہر معمولی ہے، مگر آج بھی میری یادوں میں بالکل تازہ ہے۔ عموماً گائوں میں اکثر لوگ اپنے گھروں میں مویشی پالتے ہیں۔ نانی جان نے بھی کچھ مویشی پال رکھے تھے، جن میں سفید اور بھورے رنگ کی دو بہت خوب صورت بکریاں بھی شامل تھیں۔ صاف ستھری، کھلی کھلی رنگت والی ان بکریوں کی دیکھ بھال نانی جان خود کیا کرتی تھیں۔ گائوں میں صبح کے وقت سب لوگ اپنے مویشی جنگل کی طرف چھوڑ دیتے، جو پورا دن گھاس چَرنے کے بعد خود ہی گھر کی طرف لوٹ آتے۔ 

سردیوں کے دن تھے، ٹھنڈ کافی تھی، سب کمروں میں کمبل، لحاف اوڑھے مزے سے سو رہے تھے کہ اچانک نانی کی آواز آئی، وہ کہہ رہی تھیں کہ بکریوں کوچَرنے کے لیے ابھی تک کسی نے نہیں کھولا۔ میں نے نانی کی بات سنتے ہی بستر سے چھلانگ لگائی اور سیدھا باہر کی طرف لپکا، مجھے دیکھ کر میرا بڑا بھائی رضوان، بھی میرے پیچھے آگیا۔ ہم بکریوں کو کھولنے کے لیے دوڑتے ہوئے تیزی سے آگے بڑھے اور صحن سے ہوتے ہوئے بکریوں کے پاس پہنچے، تو اس وقت تک نانی بھی دروازے تک پہنچ چکی تھیں، انہوں نے ہمیں بکریوں کو کھولتے دیکھا تو کہا ’’بچّو!بکریوں کو کھول کے رسّی ان کے گلے میں ضرورلپیٹ دینا۔‘‘

رضوان مجھ سے پہلے بکریوں تک پہنچ گیا تھا،وہ بھورے رنگ والی بکری کو کھولنے لگا، میں بھی پنجوں کے بل بیٹھ کے سفید بکری کو کھولنے لگا، اسی اثناء میں رضوان بھوری بکری کھول چکا تھا، جس نے آزاد ہوتے ہی ایک چوکڑی بھری اور چشمِ زدن میں چھلانگیں مارتی جنگل کی سمت دوڑ گئی۔ جب کہ میں ابھی تک سفید بکری کو کھولنے کی تگ و دو میں لگا ہوا تھا،تھوڑی دقّت کے بعد جیسے ہی کھونٹے سے بندھی بکری کی رسّی کھولنے میں کام یاب ہوا، تو سفید بکری نے بھی ایک ایسی زقند لگائی کہ میں دیکھتا ہی رہ گیا۔ وہ آناً فاناً تیزی سے بھاگتی ہوئی بھوری بکری کے پاس پہنچ گئی۔ میں نانی کی ہدایت کے مطابق اس کی رسّی کو گلے میں لپیٹ نہیں سکا۔ کچھ دور تک بھاگ کر کوشش کی کہ کسی طرح اس کے قریب پہنچ کر اس کے گلے میں لٹکتی رسّی کو اس کے گلے کے گرد لپیٹ دوں، مگر وہ اس قدر اچھلتی کودتی جارہی تھی کہ میرے ہاتھ نہ آسکی۔ 

اسی اثناء میں، میری نظر بھوری بکری پر پڑی، تو یہ دیکھ کر اطمینان ہوا کہ رضوان نے اس کی رسّی گلے میں بالکل صحیح طریقے سے لپیٹی تھی۔ میں دوبارہ سفید بکری کے پیچھے بھاگا، مگر اس کی رسّی نہ پکڑسکا۔ بکری آگے ہی آگے بھاگتی جارہی تھی اور اس کے گلے کی رسّی زمین پر سانپ کی ماند رینگ رہی تھی۔ رسّی کی دوسری جانب دو ڈھائی انچ لکڑی کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا بندھا ہوا تھا۔ میں چند ثانیے بکری کو اسی طرح اچھلتے کودتے آگے جاتا حسرت سے دیکھتا رہا، یہاں تک کہ دونوں بکریاں پہاڑی کی چوٹی تک جا پہنچیں۔ کچھ دیر بعد ہم دونوں بھی گھر کی طرف چل پڑے، مجھے یہ ہی بات ستائے جارہی تھی کہ رسّی بکری کے گلے میں لپیٹ نہیں سکا، اور اگر نانی نے اس بارے میں پوچھا، تو کیا جواب دوں گا؟ مگر، نانی نے رسّی بکری کے گلے میں لپیٹنے سے متعلق کچھ نہیں پوچھا۔

پورا دن گزرگیا۔ دن میں ایک دو بار بکری کے گلے میں رسّی نہ لپیٹنے کا خیال آیا، لیکن میں نے دل کو تسلّی دی کہ اگر رسّی لپیٹ نہیں سکا اور وہ اسی طرح لٹکتی ہوئی بکری کے ساتھ چلی گئی، تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے، یہ کون سی اتنی بڑی بات ہے۔ بہرحال، پورا دن کھیل کود میں گزر گیا۔ شام کو سب مویشی گھر کی طرف آنے لگے۔ ایک ایک کرکے سب مویشی گھر لوٹ آئے، مگر ان دونوں بکریوں کا کوئی اتا پتا نہ تھا۔ شام کے سائے ڈھلنے لگے اور سورج کی کرنیں مدھم پڑنے لگیں، بکریاں نہیں لوٹیں، تو نانی، ماموں، امّی، خالہ سمیت سب ہی کو تشویش ہونے لگی۔ 

تھوڑی دیر مزید انتظار کے بعد ماموں جنگل کی طرف جانے کا فیصلہ کر ہی رہے تھے کہ اچانک بھورے رنگ والی بکری پہاڑی کے پیچھے سے نمودار ہوئی، جسے دیکھ کر سب میں خوشی کی اک لہر دوڑ گئی اور ساتھ ہی اُمید کی ایک کِرن نظر آئی کہ سفید بکری بھی اس کے پیچھے ہی ہوگی، جلد ہی وہ بھی آجائے گی، مگر ایسا نہ ہوا۔ اب میری پریشانی میں اضافہ ہونے لگا، سفید بکری جو میں نے اپنے ہاتھ سے کھولی تھی، ابھی تک واپس نہیں آئی، تو بالآخر اس کی تلاش میں ہم ماموں کے ساتھ پہاڑی کی طرف چل دیئے۔ پہاڑی کے قریب پہنچ کر تھوڑی ہی دورچلنے کے بعد وہ دل خراش منظر دیکھ کر ہمارا دل بیٹھ گیا۔ 

ہماری نانی کی خوب صورت نازوں پلی بکری پہاڑی کی چوٹی سے دوسری جانب جھاڑیوں میں پھنس کر اس طرح الجھ گئی تھی کہ اس کے گلے میں بندھی رسّی اس کی موت کا پھندا ثابت ہوئی اور بکری کی جان چلی گئی۔ بے بسی سے لٹکی ہوئی بکری دیکھ کر میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ پائوں تلے جیسے زمین ہی نکل گئی۔ اب مجھے شدّت سے احساس ہورہا تھا کہ نانی کی نصیحت کے مطابق اس کے گلے میں رسّی لپیٹنا کتنا ضروری تھا۔ بہرحال، گھرپہنچ کر یہ واقعہ سنایا، تو سب ہی بے حد افسردہ ہوگئے، چھوٹی خالہ نے تو رو رو کے اپنا برا حال کرلیا، جس کی وجہ سے ماحول مزید سوگوار ہوگیا۔ 

سب ہی افسردہ اور پریشان تھے، لیکن حیرت انگیز طور پر نانی اپنی چہیتی، بہت لاڈ پیار سے پالی گئی بکری کے مرنے پر سب کو دلاسے دے رہی تھیں، یقیناً وہ بھی اندر سے غم زدہ اور افسردہ تھیں، مگر اس کا اظہار نہیں کررہی تھیں۔ اور جب میں مجرم بنا ان کے سامنے گیا، تو مجھے دیکھ کر غیر متوقع طور پر مُسکراتے ہوئے آگے بڑھیں اور میرے سر پر ہاتھ رکھ کر بولیں ’’خیر ہے، کوئی بات نہیں، پریشان مت ہو۔‘‘ بکری کے گلے میں رسّی لپیٹنا، نانی کی وہ نصیحت تھی، جو میں کوشش کے باوجود بھی پوری نہ کرسکا، تاہم اس پر نانی جان کا حیران کن ردِعمل متاثر کن تھا۔

نانی جان کی صحیح قدر و قیمت کا اندازہ تب ہوا، جب وہ دنیا کی آلائشوں سے پاک ہو کر ہم سے بہت دور خاموش اور سنسان بستی میں چلی گئیں۔ یقیناً وہ ہمارے لیے شفقت و محبت، پیار و خلوص کے ایک شجرِ سایہ دار کی حیثیت رکھتی تھیں۔ ایک ایک بچّے کا نام لے کر دعائیں دیا کرتی تھیں۔ 26 جنوری 2019ء کو نانی جان علی میڈیکل اسپتال، اسلام آباد میں خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔ نانی جان کو ہم سے جدا ہوئے ایک سال سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے، لیکن اب بھی ان کی جدائی کے غم سے آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے، جیسے کوئی بہت قیمتی شئے گم ہوگئی ہے۔ اب بھی جب جانی کے گھر جاتے ہیں، تو بے اختیارقدم ان کے کمرے کی جانب اٹھ جاتے ہیں اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ نانی اب بھی ہماری منتظر ہوں گی۔ (عرفان علی رحمدل،گلشن دادن خان، راول پنڈی)

سُنیے…آپ سے کچھ کہنا ہے…!!

اگر آپ کے ذہن میں کوئی ایسا واقعہ محفوظ ہے، جو کسی کردار کی انفرادیت، پُراسراریت یا واقعاتی انوکھے پن کی بِنا پر قارئین کے لیے دل چسپی کا باعث معلوم ہو، تو فوراً قلم اٹھائیے اور اس صفحے کا حصّہ بن جائیے۔ یہ واقعات قارئین کے شعور و آگہی میں اضافے کے ساتھ اُن کے لیے زندگی کا سفر آسان کرنے میں بھی ممدومعاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ واقعات بھیجنے کے لیے تحریر کا پختہ ہونا ضروری نہیں، صرف سچّا ہونا لازم ہے۔ نیز، اپنا نام و پتا بھی لکھیے تاکہ رابطے کی ضرورت محسوس ہو، تو رابطہ کیا جاسکے۔ ہمیں اپنی تحریریں اس پتے پر بھیجیں۔

ایڈیٹر،سنڈے میگزین صفحہ ’’ناقابلِ فراموش‘‘، روزنامہ جنگ، شعبہ میگزین، اخبار منزل، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی۔