آپ آف لائن ہیں
منگل 15؍ذیقعد 1441ھ 7؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بچپن سے یہ سنتے اور پڑھتے آئے ہیں کہ زمین کا تین چوتھائی حصّہ پانی سے گِھرا ہوا ہے۔ کم سِنی میں ہمیں اس بات کا یقین نہیں آتا تھا، کیوں کہ ہرطرف زمین ہی زمین نظر آتی تھی، لیکن پھرجو ایک ہفتہ کھلے سمندر میں گزار کے آئے، تو تین چوتھائی کا تناسب، پانی کی وسعت، شوکت، ہیبت اور عظمت کے اظہار کے لیے بہت کم معلوم ہوا۔ دراصل، ہمیں اور ہمارے ایک صحافی دوست، گل زار کو امریکا کی ایک جہازراں کمپنی، رائل کیریبئن انٹرنیشنل (Royal Caribbean International)آرسی آئی نے اپنے تفریحی بحری جہاز (Legend of the Seas)کے افتتاحی سفر پر مدعو کرکے یہ موقع فراہم کیا۔ 

مذکورہ سفر سنگاپور سے شروع ہوکر تھائی لینڈ اور ملائیشیا سے ہوتا ہوا سنگاپور ہی پر ختم ہوا۔ طے شدہ شیڈول کے مطابق ہم کراچی سے شام سات بجے بذریعہ سنگاپور ایئر لائنز براستہ لاہور دوسرے روز صبح چھے بجے سنگاپور پہنچے۔ ہوائی جہاز ہی میں ہم نے اپنی گھڑیاں مقامی وقت کے مطابق تین گھنٹے آگے کرلی تھیں اور یوں آٹھ گھنٹے کا یہ سفر ہنستے بولتے، کھاتے کھلاتے اور بہت سوں کا ’’پیتے پلاتے‘‘ گزر گیا۔ بہرحال، سفر کے اختتام پرکچھ لوگوں کا جہاز سے اُترنے ہی کو جی نہیں چاہ رہا تھا۔ 

ائرپورٹ سے باہر نکلے، تو لائن میں لگی ہوئی سب سے آگے والی ٹیکسی کے ڈرائیور نے اپنی گاڑی کی ڈِکی کھول کر ہمارا استقبال کیا۔ معلوم ہوا کہ یہاں ٹیکسیاں پبلک مقامات سے اسی طرح نمبروار چلتی ہیں۔ نظم و ضبط کا یہ درس ہم وطن عزیز سے سن کرگئے تھے، اور یہاں اس پر عمل ہوتے دیکھا۔ ٹیکسی چلی، تو گل زار صاحب نے ڈرائیور سے استفسار کیا کہ ’’بندرگاہ یہاں سے کتنی دُور ہے؟ تو ڈرائیور نے جواب دیا ’’سنگاپور ایک چھوٹا سا علاقہ ہے۔ یہی ملک ہے اور یہی اس کا دارالخلافہ ہے۔ یہاں کوئی جگہ کسی دوسری جگہ سے دُور نہیں۔‘‘ ہمیں اس مختصر اور برجستہ جواب پر رضی اختر شوقؔ کا شعر یاد آگیا، جو انھوں نے اپنے شہروں کے بارے میں کبھی کہا تھا ؎اب جو چلے تو یہ کُھلا شہر کشادہ ہوگئے.....بڑھ گئے اور فاصلے گھر سے گھروں کے درمیاں۔

حیرت انگیز طور پر ایک ’’پورٹ‘‘ سے دوسری ’’پورٹ‘‘ کا فاصلہ صرف بیس منٹ میں طے ہوگیا۔ صاف ستھری کشادہ سڑکیں۔ راستے میں کوئی ٹوٹی ہوئی سڑک ملی، نہ کہیں گندگی کا ڈھیر اور نہ ہی پولیس کا سپاہی کہیں نظر آیا۔ بلاشبہ، صفائی ایمان کا نصف جزو ہے، لیکن ہمارے گٹراُبلتے، متعفّن شہروں کے مقابلے میں سنگاپور کسی لیبارٹری کی طرح صاف ستھرا اور باغ کی طرح ہرا بھرا لگا۔ یہاں تک کہ پیدل چلنے والوں کے ’’بالائی گزر گاہ‘‘بھی رنگ برنگے پھولوں سے لدے ہوئے تھے۔ ہماری حیرانیوں کا سلسلہ جاری تھا کہ ٹیکسی منزلِ مقصود پر پہنچ گئی۔ پھر ہماری اچانک میٹر پر نظر پڑی، تو ایک اور حیرانی ہماری جھولی میں تھی۔ 

حیرتوں کے سمندر میں....
جہاز کے بالائی حصّے پر لوگ گالف کھیل رہے ہیں

ہمارے یہاں کا ڈرائیور اپنی ٹیکسی کا اسٹیئرنگ بھی کنٹرول کرتا ہے اور میٹر بھی جب کہ وہاں کا میٹر خودکار ہونے کے ساتھ ساتھ خود مختار بھی تھا۔ یہ اسی تاجرانہ دیانت کا نتیجہ ہے کہ صرف پچاس لاکھ کی آبادی والے اس چھوٹے سے ملک میں، ایشیا کی حد تک، معیارِ زندگی جاپان کے بعد دوسرے نمبر پر ہے اور یہ دنیا کا اٹھارہواں امیر ترین ملک ہے۔ بندرگاہ پر ہمیں اپنا مطلوبہ جہاز تلاش کرنے میں ذرا دقّت نہ ہوئی۔ ہم نے جہاز کے مین گیٹ پر متعین دو سیکیوریٹی گارڈز کو ٹکٹ دکھا کر اپنی آمد کی اطلاع دی۔یہ دونوں جو صورت سے جاپانی لگتے تھے، ہمارے کاغذات چیک کرتے ہوئے آپس میں نہ جانے کس زبان میں گفتگو کررہے تھے۔ 

اسی اثناء میں ہم نے اپنے ساتھی سے کہا ’’یار گرمی بہت ہے۔‘‘ اس پر ایک گارڈ، جس کے سینے پر Netra Chemjongکے نام کا ٹیگ لگا ہوا تھا، نہایت شستہ اردو میں ہم سے مخاطب ہوا ’’صاحب! گرمی تو ابھی اور بڑھے گی۔‘‘ ہم نے خوش گوار حیرت سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا ’’آپ اردو سمجھتے ہیں؟‘‘ تو وہ بھی اسی خوشگواریت سے مسکراتے ہوئے بولا ’’اچھی طرح۔ ہم لوگ نیپال کے رہنے والے ہیں اور ہمارے ملک میں اردوخوب سمجھی اور بولی جاتی ہے۔‘‘ اس کی بات سن کر ہم نے زیرلب شکر ادا کیا کہ انھیں اجنبی سمجھ کر اردو میں کوئی غیر ذمّے دارانہ بات نہیں کی تھی۔

حیرتوں کے سمندر میں....
لیجنڈ آف دی سیز کا تھیٹر،فن کارانہ صنّاعی کا ایک خوب صورت شاہ کار

اب ذرا جہاز کا حال سن لیجیے۔ پے در پے حیرتوں کے سمندر میں غوطہ زن ہونے کے بعد اب آپ کے حیران ہونے کی باری ہے۔ گیارہ عرشوں(Decks)پر مشتمل، مکمل طورپرائرکنڈیشنڈLegend of the Seasمیں لگ بھگ ایک ہزارکمرے (Cabins)تھے، جہاں مجموعی طور پر دو ہزار افرد کے ٹھہرنے کی گنجایش تھی۔اُس وقت جہاز میں مختلف ممالک کے ایک ہزار چھے سو مسافر موجود تھے، جن میں زیادہ تر یورپی اور امریکی تھے۔ ہمارے علاوہ انڈونیشیا کی ایک خاتون بھی صحافیوں کی نمائندگی کررہی تھیں، جب کہ ملائیشیا اورسری لنکا کی دوخواتین کا تعلق ’’ٹریول ٹریڈ‘‘سے تھا۔ 

ہم چھے افراد آر سی آئی کے ریجنل چیف، مسٹر کیلون ٹان (Kelvin Tan)کے خاص مہمان تھے۔جہاز میں دو سوئمنگ پول، آٹھ سوافراد کی نشستوں کا ایک جدید تھیٹر، ساڑھے پانچ سو نشستوں کا مرکزی تفریحی لاؤنج، ڈیڑھ سو افراد کا ایک کانفرنس ہال، ایک ہزار افراد کا مرکزی ڈائننگ ہال، ڈھائی سو افراد کا ڈانسنگ فلور، ایک منی گالف کورٹ، لائبریری، شاپنگ مال، فوٹو اسٹوڈیوز، پکچر گیلری، بیوٹی پارلرز، فٹنس کلب، میڈیکل کلینکس، قمار بازوں کی دل جوئی کے لیے ایک عظیم الشان چمکتا، پھڑکتا سا کیسینو، ٹیلکس سینٹر، آٹھ خودکار لفٹس سمیت تعیشات زندگی کی نہ جانے کیا کیا جدید سہولتیں موجود تھا۔ حد تو یہ ہے کہ مسافروں کو تازہ ترین خبروں کی فراہمی کے لیے جہاز سے ہر روز ایک اخبار بھی شایع ہوتا تھا۔ ہم ایک ہفتہ جہاز پررہے اور خوب گھومے پھرے، لیکن پھر بھی مکمل طور پر اس کی سیر نہ کرسکے۔ 

جہاز پر چوبیس گھنٹوں میں دس مواقع پر کھانا مقررہ اوقات پر (فی سبیل اﷲ) مہیّا کیا جاتاتھا۔ اس کے علاوہ حسبِ خواہش کوئی بھی شئے (بغیر ذاتی خرچ کے) اپنے کمرے میں منگوائی جاسکتی تھی۔ اس لحاظ سے یہ پیٹو لوگوں کی جنّت تھا۔ جہاز کے چار عرشے زیرِ آب جب کہ سات سطح آب کے اوپر بنائے گئے ہیں۔ ہمیں اور ہمارے دوست کونیچے کے تیسرے عرشے پر بنے ہوئے دو کمرے دیے گئے، جو ساتھ ساتھ تھے۔ 

تمام کمرے اندرونی ٹیلی فون کے ذریعے ایک دوسرے سے منسلک تھے۔ جب ہم اپنے زیرِآب عرشے کی شیشہ بندکھڑکی سے باہر دیکھتے، تو رئیس امروہوی کے کئی دہائی قبل کہے گئے اس شعرکو حقیقی تعبیر مل جاتی کہ؎خاموش زندگی جو بسر کررہے ہیں ہم.....گہرے سمندروں میں سفر کررہے ہیں ہم۔اسی شعر کی پُرمزاح تضمین ہمارے مزاح گو دوست، ضیا الحق قاسمی نے کچھ اس طرح کی تھی کہ ؎ کچھ کام مل گیا ہے ہمیں آب دوز پر.....’’گہرے سمندروں میں سفر کررہے ہیں ہم۔‘‘

سمندر کے اندر کی بات بہت ہوگئی۔اب کچھ باہر کا حال ہوجائے۔ایک صبح جہاز تھائی لینڈکے ایک جزیرے’’پھُکٹ‘‘(Phuket) پر لنگر انداز ہوا۔یہاں ہماری گائیڈنُونی (Nooni)نام کی ایک شوخ و شنگ،تیز طرّار اورجگت بازقسم کی لڑکی تھی، جو فر فر انگریزی بول رہی تھی۔نُونی نے بتایا کہ جزیرے کی تین لاکھ آبادی میں 75فی صد بدھ،20فی صد مسلمان اور بقیہ5فی صد عیسائی،لامذہب خانہ بدوش اور دیگرقومیتوں کے لوگ شامل ہیں۔یہاں بدھوں کے 28مندر اور مسلمانوں کی 35مساجد ہیں۔ (اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام کے پودے کو شورزمین ہی زیادہ موافق آتی ہے۔) بدھ مذہب کے لوگ توحید پرست اور حیات بعد الممات پر ایمان رکھتے ہیں۔ ان کے یہاں خاندان کی اکائی پر بہت زور دیاجاتا ہے۔گھر کے سب افراد ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں اور بزرگوں کے ساتھ رہنا پسند کرتے ہیں۔ 

مغربی معاشرے کی طرح بوڑھے والدین کو ’’اولڈ پیپلز ہومز‘‘ میں داخل نہیں کروادیتے۔اکثر گھروں میں تین نسلیں ایک ساتھ رہتی ہیں۔ بدھوں کا مذہبی رہنما (Monk)تجرّد کی زندگی بسر کرتا ہے۔ اسے اپنا کھانا پکانے کی بھی اجازت نہیں۔ وہ نذرنیاز پر گزارہ کرتا ہے، جو اُسے دل کھول کردی جاتی ہے۔ (اسی لیے وہ عام آدمی سے زیادہ فربہ اور مچرّب ہوتا ہے۔) واضح رہے کہ تھائی، دنیا کی مشکل ترین زبانوں میں سے ایک ہے۔ صرف ایک لفظ’’ما‘‘ (Ma)کو چارمختلف لہجوں میں ادا کریں توچارالگ الگ معانی نکلتے ہیں، یعنی ((1یہاں آئو ((2کتّا (3) گھوڑا اور (4) ماں۔ 

تھائی لفظ’’ہا‘‘ کے معنی ہیں پانچ۔ مثلاً اگر آپ کو555کا سگریٹ درکار ہو، تو دکان دار سے کہیں’’ہاہاہا‘‘۔ چھوٹے سے اُس جزیرے میں مغربی طرز کے خوب صورت مکانات، اعلیٰ درجے کے ہوٹل، کشادہ پارک اور چمکیلی ریت کے ساحل نظر آئے۔ ہرطرف خوش حالی کا دور دورہ تھا، اگرچہ نُونی بار بار کہہ رہی تھی کہ ہمارا ملک معاشی بدحالی کا شکار ہے۔ شاید اُن لوگوں میں خود اعتمادی کی کمی ہے۔ ہمیں دیکھیں کس طرح منہگائی، بے روزگاری، ذخیرہ اندوزی اور بدعنوانی کا ’’زنانہ وار‘‘ (ہم نے یہ مضمون خواتین کے عالمی دن پر لکھاہے) مقابلہ کررہے ہیں۔

جہاز ملائیشیا کی ایک بندرگاہ پنانگ ((Penangپر رُکا، تو یہاں سے ہمیں ٹیکسیوں میں شہر کی سیر کے لیے روانہ کردیا گیا۔ ہم نے کیبل کاریں تو بہت دیکھی ہیں، لیکن کیبل ٹرین زندگی میں پہلی بار اُس شہر میں دیکھی۔ پچاس ڈبّوں پر مشتمل خوب صورت ٹرین تاروں کے سہارے سفر کرتی ہوئی سطح زمین سے پہاڑ کی چوٹی پر جاتی ہے۔ ایک مرحلے پر جب یہ تقریباً60ڈگری کے زاویے سے ترچھی ہوتی ہے، تو اچھے اچھوں کی خوف کے مارے سسکیاں نکل جاتی ہیں۔ دو گھنٹے کی تفریح کے بعد جب ہم واپس لوٹے تو دوپہر کے کھانے کی فکر ہوئی۔ اس وقت تک ہم پورا بازار گھوم چکے تھے۔ 

دونوں طرف ہوٹل ہی ہوٹل تھے، لیکن حلال کھانا کہیں دستیاب نہ تھا۔ ہم لوگ لاکھ گناہ گارسہی لیکن باہر جاکر حلال گوشت کے معاملے میں بہت محتاط ہوجاتے ہیں۔ نام وَر مزاح گو غالبؔ عرفان نے کیا خوب کہا تھا ؎تمہاری دعوت قبول مجھ کو،مگر تم اتنا خیال رکھنا.....بیئر کسی بھی برانڈ کی ہو،چکن فرائڈ حلال رکھنا ۔

اب پھر آتے ہیں ملائیشیا کی طرف۔ دارالحکومت (کوالالمپور) میں ہم نے(اُس وقت کی) دنیا کی سب سے اونچی عمارت ’’جڑواں ٹاورز‘‘ (Twins Towers) دیکھے۔ سواسو منزلہ یہ خوب صورت ٹاورز (جنھیں اوپر سے ایک پُل کے ذریعے ملادیا گیا ہے) انجینئرنگ کا ایک حیرت انگیز اور خوب صورت شاہ کارہیں۔ ٹاورز کی تیسری منزل پر برابر برابر تیرہ ریسٹورنٹ ہیں، جو ملک کے ہر صوبے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ہم نے بھی ان ہی میں سے ایک ریسٹورنٹ میں کھانا کھایا۔ یہ شہر اپنی صفائی، کشادگی،عمارات اور امارت کے لحاظ سے مغربی ملکوں کی ہم سری کررہاہے۔ 

یادش بخیر، ہمارے سابق وزیرِ اعظم، میاں محمدنواز شریف جب1997ء؁ میں اس ملک کا دورہ مکمل کرچکے، تو ملائیشیا کے وزیرِ اعظم، مہاتیرمحمد خود ڈرائیو کرکے انہیں ائرپورٹ چھوڑنے گئے، راستے میں مہاتیر صاحب کوسڑک پر ایک آئس کریم کا خالی پیکٹ نظر آیا، جو انہوں نے گاڑی روک کر اٹھا لیا اور ائرپورٹ پہنچ کر’’ڈسٹ بِن‘‘(کُوڑا دان)میں ڈال دیا۔ 

یہ وہاں کے ماحول کا اثر تھا کہ گل زار صاحب ٹافی کھاکر اس کا ریپر ہاتھ میں لیے Use Me(مجھے استعمال کیجیے)کا ڈبا ڈھونڈتے پھرے۔ وطنِ عزیز میں ہوتے، تو بے نیازی سے ہوا میں اُچھال دیتے۔ ہم اپنے بحری جہاز سے سنگاپور لوٹ رہے تھے، تو زبردست بارش ہوئی۔ پہلی نظر میں جہاز سے سمندر پر بارش کامنظر بہت بھلا لگا، لیکن پھر یک دم اپنے تھر اور چولستان کی یاد آگئی، تو کلیجے میں ایک ہُوک اُٹھی اور زبان پربے ساختہ احمد فرازؔ کا یہ شعر آگیا ؎صحرا توبُوند کو بھی ترستا د کھائی دے.....بادل سمندروں پہ برستا دکھائی دے۔