آپ آف لائن ہیں
جمعہ18؍ربیع الثانی 1442ھ 4؍دسمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

آئندہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا، حفیظ شیخ


کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے پروگرام ’’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘‘ میں مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہا ہےکہ آئندہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا،وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا کہ شہریوں کی زندگی اور معیشت دونوں ہی ہمارے لئے اہم ہیں،کم از کم ایک سے ڈیڑھ سال ہمیں کورونا کے ساتھ گزارنا ہوں گے، اس دوران اسمارٹ لاک ڈاؤن ہی بہترین حل ہے، جس طرح یکے بعد دیگرے چیزیں کھولی جارہی ہیں یہ ماہرین کی ہدایات کی خلاف ورزی ہے،وزیرتعلیم سندھ سعید غنی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد شاپنگ مالز کھولنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے۔ مشیرخزانہ حفیظ شیخ نے کہا کہ پاکستان 72سالہ تاریخ میں کبھی بھی برآمدات نہیں بڑھا سکا ہے، حکومت کو ورثے میں 20ارب ڈالرز کا مالی خسارہ ملا جسے کم کر کے 3ارب ڈالر تک لائے، امپورٹ بل بھی ایکسپورٹ سے دگنا تھا اسے بھی کم کیا گیا، اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر بھی 7ارب ڈالر سے 12 ارب ڈالر تک لے کر گئے، ایکسچینج ریٹ جو برآمدات نہ بڑھنے کی ایک وجہ تھی اسے بھی مینج کیا گیا۔ حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ کورونا کی وجہ سے عالمی جی ڈی پی میں تین فیصد کمی آئے گی، ایکسپورٹ سیکٹر کو جو فائدے دیئے ہیں انہیں برقراررکھیں گے، آئندہ بجٹ میں خام مال اور کافی چیزوں پر ڈیوٹی کم کرنے جارہے ہیں، ہمارا بنیادی مقصد لوگوں کو ریلیف دینا ہے، شہریوں تک کھانے پینے کی اشیاء اور نقد رقم پہنچانا چاہتے ہیں، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی سے پیداواری لاگت میں کمی ہوگی۔ حفیظ شیخ نے کہا کہ دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی ڈیمانڈ کم رہی تو کوششوں کے باوجودبرآمدات ضرورت کے مطابق نہیں بڑھ سکیں گی،چھوٹے کارخانوں اور دکانوں تک لیکوڈیٹی پہنچانے کیلئے تین بڑے فیصلے کیے ہیں، احساس پروگرام کے تحت ایک کروڑبیس لاکھ خاندانوں کو بارہ بار ہ ہزارروپے دیئے جارہے ہیں، کسانوں سے 82لاکھ ٹن گندم خریدی جارہی ہے اس سے 280ارب روپے ان تک پہنچیں گے،یہ پیسہ اشیائے خورد ونوش اور ٹریکٹر ز کی ڈیمانڈ پیدا کریں گے جس سے باقی معیشت میں طلب پیدا ہوگی، کورونا سے متاثرہ 40لاکھ کارکنوں کو بھی آج سے نقد رقم دینا شروع کردی ہے۔ حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ ورثے میں ملنے والے بڑے قرضے حکومت کیلئے چیلنج رہے ہیں، دو سال میں پانچ ہزار ارب روپے کی ادائیگی سود کی مد میں کی گئی ہے، حکومتی کوششوں سے آئی ایم ایف 1.4بلین ڈالر کا اضافی قرضہ دے رہی ہے، ورلڈ بینک اور ایشین ترقیاتی بینک ساڑھے چار ارب ڈالر اضافی موبلائزکررہے ہیں، جی ٹوئنٹی ممالک کی قرضوں کی ادائیگی میں ریلیف سے 1.8بلین ڈالر کی ادائیگی موخر ہوجائے گی، ترسیلات زر ابھی تک پچھلے سال سے زیادہ ہیں لیکن رواں ماہ چھ فیصد کمی آئی ہے، مشرق وسطیٰ، امریکا اور برطانیہ جس طرح متاثر ہوئے ہیں ترسیلات زر میں مزید کمی کی توقع ہے۔ حفیظ شیخ نے کہا کہ حکومت نے اس سال اخراجات کو اچھی طرح مینج کیا ہے، حکومت کے کسی ادارے یا وزارت کو اضافی گرانٹ نہیں دی گئی، اسٹیٹ بینک سے کوئی قرضہ نہیں لیا گیا، کورونا وائرس کی وجہ سے اخراجات میں اضافے کی وجہ سے مالی خسارہ 9فیصد تک پہنچ سکتا ہے، آئندہ مالی سال میں اسمارٹ انداز میں اخراجات کنٹرول کرنا ہوں گے، ریونیوز میں احتیاط سے کلیکشن کرنا ہوگی، ایسا ممکن نہیں کہ تمام ڈاکومنٹیشن کو رول بیک کردیں، وقت کا تقاضا ہے کہ بجٹ میں ایسے ٹیکس نہیں لگائے جائیں جس سے معیشت پر بوجھ آئے، آئندہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا۔ حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ ایسے شعبے جہاں روزگار کے زیادہ مواقع ہیں وہاں مراعاتی پیکیج دیں گے، کئی سو ٹیرف کو صفر کرنے جارہے ہیں، ایکسپورٹ سیکٹر کی مراعا ت میں اضافہ کریں گے، کورونا وائرس کے دور میں دی جانے والی سبسڈیز کو برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے، کمرشل اور انڈسٹریل یونٹس کو ایک حد تک تین مہینے کی بجلی مفت فراہم کررہے ہیں، نان ٹیکس ریونیو بڑھانے کیلئے ہمیں بہت محنت کرنا ہوگی، آئندہ برسوں میں نجکاری کے ذریعہ 2 سے 3ارب ڈالرز حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ حفیظ شیخ نے کہا کہ اسمال، میڈیم اور مائیکرو انٹرپرائزز کیلئے ایسی اسکیمیں لانے کا سوچ رہے ہیں جس میں 90فیصد تک رقم کی گارنٹی دیں، سگریٹس پر ٹیکس کلیکشن کم ہونے سے بچانے کیلئے غور کررہے ہیں، وزیراعظم نے تمباکو مافیا کے ساتھ سختی سے نمٹنے کی ہدایت کی ہے، آئندہ دنوں میں اس کے نتائج آنا شروع ہوں گے، تمباکو کے علاوہ باقی سیکٹرز میں بھی بہت سی کمپنیاں ٹیکس سسٹم میں اپنا کردار ادا نہیں کرتی رہی ہیں۔ حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ تیل کی قیمتوں میں کمی کو بھی مختلف اقسام کی ہیچنگ کے ذریعہ برقرار رکھنا چاہیں گے،دنیا کی معیشتیں کھلنا شروع ہوئیں تو تیل کی قیمتیں دوبارہ بڑھ سکتی ہے، پاکستان میں اسٹوریج کی کمی کی وجہ سے زیادہ مقدار میں تیل خرید کر اسٹاک نہیں کرسکتے ہیں، حکومت تیل کی کم قیمتوں سے فائدہ اٹھانے کیلئے ہیجنگ کا کوئی نظام وضع کرے گی۔وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا کہ ماہرین سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں ابھی کورونا کا عروج نہیں آیا ہے، جون کے پہلے ہفتے سے تیسرے ہفتے تک پاکستان میں کورونا کا عروج ہوگا۔

اہم خبریں سے مزید