• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
یہ جن آف شور کمپنیوںکا شور اٹھا ہے، ہم نے کبھی ان کے اندر قدم بھی نہیں رکھا۔ بلکہ سچ پوچھئے تو کبھی ان کے سامنے سے گزرے بھی نہیں۔ اس کا سبب سیدھا سا ہے۔ ہم ان کے اندر اُس وقت داخل ہوتے جب دولت کے بوجھ سے ہماری جیبیں تار تار ہونے لگتی ہیں۔ ہم وہ ننانوے فیصد ہیں جو تھوڑے تھوڑے وقفے سے تھوڑا سا کماتے ہیں اور وہ بھی ٹیکس کٹ کٹاکے ہمارے ہاتھوں میں آتا ہے۔ ہم ان ایک فی صد کے قریب بھی نہیں جاسکتے جو برابری اور مساوات کے دشمن سرمایہ دارانہ نظام کے معمار ہیں اور جن کی تجوریوں اور کھاتوں میں اب مزید دولت رکھنے کی جگہ نہیں رہی،اور جنہیںبس دو ہی کام آتے ہیں۔ ایک یہ کہ دھن دولت کہاںسے بٹورے جائیں اوردوسرے یہ کہ اُس وبا اور لعنت کو کیسے چکمہ دیا جائے جسے دنیا ٹیکس کے نام سے جانتی ہے۔ اس کام کیلئے آپ کا اکاؤنٹنٹ ہونا ضروری نہیں۔ یہ ہنر جاننے کیلئے آپ کے اندر ہوس کا دریا موج زن ہونا چاہئے۔ باقی کام آپ ہی آپ ہو جایا کرتے ہیں۔آپ ان دنوں پاناما لیکس کا ذکر سن ہی رہے ہیں۔ لاکھوں خفیہ دستاویزکسی دیوانے کے ہاتھ لگ گئیں جو اس نے دنیا کے سامنے کھول دیں۔ان سے کتنوں کے بھید کھل گئے کہ انہوں نے جائز اور اکثر ناجائز طور پر کمائی ہوئی دولت دنیا کے کون کون سے تاریک گوشوں میںچھپا کر رکھی ہے۔ اس سلسلے میں میرا ذاتی علم ایک نامور شخصیت کے تعلق سے ہے۔ اس کا قصہ آخر میں سناؤں گا۔
ہوا یہ ہے کہ دستاویز کا ایک آتش فشاں پھٹ پڑا ہے جس سے یہ بھید کھلا ہے کہ مالدار ، با اختیار اور طاقتور لوگ اپنی دولت کیسے چھپاتے ہیں۔ یہ کروڑوں کاغذات پاناما کی ایک ایسی کمپنی سے چوری چھپے باہر آئے ہیں جس کے بارے میں طے تھا کہ اس سے بڑی راز دار کوئی دوسری کمپنی نہیں۔ نام ہے اس کا موزیک فونسیکا۔اس آسمان کو چھونے والے پلندے سے پتہ چلتا ہے کہ کمپنی کے گاہک کس طرح کالے دھن کو سفید کرتے تھے، دولت پر لگی پابندیوں سے کس کس طرح بچ کر نکلتے تھے اور ٹیکس جمع کرنے والوں کو کیسے چونا لگاتے تھے۔ کہتے ہیں کہ اب تک بڑے بڑے راز افشا ہوئے لیکن اس تازہ انکشاف کے آگے وہ معمولی نظر آتے ہیں۔ ایک برطانوی ادارے نے اس کا موازنہ اس طرح کیا ہے کہ اس سے پہلے شہرت پانے والی وکی لیکس کی معلومات اگر امریکہ کے کسی بڑے شہر کی آبادی کے برابر تھیں تو پاناما کے کاغذات سے ملنے والی معلومات بھارت کی آبادی کے برابر ہیں۔ ان میں دنیا کے بارہ ملکوں کے موجودہ یا سابق حکمرانوں کے نام آتے ہیں جن میں وہ ڈکٹیٹر شامل ہیں جنہوں نے خود اپنے ہی ملکوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا۔ اسی طرح ان حکمرانوں کے ساٹھ سے زیادہ رشتے دار اور شرکائے کاراور دوسرے سیاست داںان میں شامل ہیں۔ ان میں ایک نمایاں نام روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھیوں کا ہے۔ ان کاغذات نے دنیا میں جن ناموں کی دھوم مچائی ان میں چین کے صدرکے برادر نسبتی ، یوکرین کے صدر خود، برطانوی وزیر اعظم کے آنجہانی والد شامل ہیں۔ خفیہ کاغذات سے پتہ چلتا ہے کہ مسٹر ایئن کیمرون پاناما کی فرم کے گاہک تھے اور انہوں نے اس رازوں میں لپٹی کمپنی میں پیسہ لگایاتھا۔ اس پر برطانوی پارلیمان میں شور اٹھاکہ وزیر اعظم اپنے معاملات درست کریں اور اپنی دولت کے گوشوارے جاری کریں۔ اس کے جواب میں وزیر اعظم کے دفتر کو ایک بیان جاری کرنا پڑا جس میں کہا گیا کہ ڈیوڈ کیمرون، ان کی اہلیہ اور بچّوں نے ٹیکس چھپانے کی کمیں گاہوں سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔برطانیہ میں اس قسم کا بیان جاری کرنے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ معاملہ ختم بلکہ یہ گویا ایک طرح کا حلف ہوتا ہے جو ریکارڈ پر آگیا اور پتھر کی لکیر ہوگیا۔ جہاں تک ٹیکس چھپانے کی کمیں گاہوں کی بات ہے تو قصہ یہ ہے کہ ان ٹھکانوں کو کام میں لانے کے اگرچہ کتنے ہی قانونی اور جائز طریقے ہیںمگر زیادہ تر طریقے اوّل تو دولت کے اصل مالکوں کے نام پتے چھپانے کیلئے استعمال ہوتے ہیں، دوسرے اس بات کو راز میں رکھنے کیلئے ہوتے ہیں کہ یہ دولت آئی کہاں سے اور تیسرے اس دولت پر ٹیکس کی ادائیگی سے بچنے کے حربے ہوتے ہیں۔ آپ چاہے مالدار تاجر ہوںاور ٹیکس بچانا چاہتے ہوں، یا دنیا بھر میں منشیات کا کاروبار چلا رہے ہوں یا کسی جابر اور ظالم حکومت کے سربراہ ہوں، یہ تمام حربے چلنے کے طور طریقے قریب قریب ایک جیسے ہیں۔ اس کیلئے لوگ ان کمیں گاہوں میں کمپنی کھولتے ہیں جو شیل کمپنی کہلاتی ہیں اور جو شیل یعنی گھونگے یا سنکھ کی طرح کھوکھلی ہوتی ہیںحالانکہ دیکھنے میں جائز کاروبار نظر آتے ہیں۔ یہ کمپنیاں کچھ اور نہیں کرتیں، صرف اپنے پیسے کی دیکھ بھال کرتی ہیںاور ساتھ ہی یہ بھی ظاہر نہیں ہونے دیتیں کہ اس پیسے کا اصل مالک کون ہے۔ کمپنی کے خوب صورت لیٹر ہیڈ پر جن لوگوں کے نام چھپے ہوتے ہیں ان میں وکیلوںاور حساب دانوں سے لے کر باورچی اور ڈرائیور تک سبھی شامل ہوتے ہیں جو کاغذات پر دستخط کرنے کے سوا کوئی دوسرا کام نہیںکرتے۔ جب کبھی حکام یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ پیسے کا اصل مالک کون ہے تو انہیں ان ڈائریکٹروں کی فہرست دکھا دی جاتی ہے جو بالکل فرضی ہوتی ہے۔ یہ لوگ نہ صرف حکام سے بلکہ کبھی کبھی سابق بیگمات سے بھی حقیقت چھپانے کی تنخواہ لیتے ہیں۔ ان شیل یا کھوکھلی کمپنیوں کو محض ڈاک خانے کی کمپنیاںبھی کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا ٹھکانا بس وہ پتہ ہوتا ہے جس پر ان کی ڈاک آتی ہے۔
چلئے آخر میں اپنے ایک بزرگ دوست کا قصّہ سنا دوں جو بہت بڑے بینک کے بہت اعلیٰ منصب پر فائز تھے اور جب انہوں نے زندگی میں پہلی بار چُھپائی ہوئی دولت کے انبار دیکھے تو ان پر کیا گزری۔میں ان کا نام نہیں لوں گا کیونکہ یہ واقعہ لکھنے کیلئے میں نے ان سے اجازت نہیں لی ہے۔ وہ لندن میں قائم ایک بہت بڑے بین الاقوامی بینک کے اعلیٰ عہدے پر پاکستان سے برطانیہ لائے گئے۔ یہاں بڑی رونق رہی ان کے دم سے اور دعا ہے کہ جہاں بھی رہیں اسی طرح دھوم رہے ان کی۔ اچھا خاصا کام چل رہا تھا کہ ایک روز ان کے بڑے صاحب نے حکم دیا کہ تم کیمن آئی لینڈ نام کے اس جزیرے میں جاؤ جوسارے آف شور بینکوں سے بھی بڑھ کر ہے۔ ہمارے بزرگ دوست کا دل ایک بار دھڑکا ضرور لیکن بڑے صاحب کا حکم ٹالنا ناممکن تھا۔ آخر انہوں نے اور ان کی بیگم نے مال اسباب باندھا اور لندن چھوڑ کر کیمن آئی لینڈ چلے گئے۔ لندن شہر سے اس کی رونق اٹھ گئی۔خیال تھا کہ ہم بہت عرصے ان کی قربت اور صحبت سے محروم رہیں گے۔ پھر ہوا یہ کہ ایک روز دیکھاکہ وہ معہ اہلیہ کے واپس چلے آرہے ہیں۔ ہر حیرت زدہ شخص نے ان سے ایک ہی سوال کیا۔ ’’خیر تو ہے؟‘‘۔ قریب کے احباب کو انہوںنے بہت تفصیل سے تو نہیں لیکن اتنا ضرور بتایا کہ جب انہیں کیمن آئی لینڈ کی شاخ میں (انگریزی لفظ کیلئے معذرت) بریفنگ دی گئی اور انہوں نے دولت کی کمیں گاہ کے اندر جھانک کر دیکھا تو ایک شام کام سے واپس آکر اپنی اہلیہ سے کہا کہ ’ یہاں تو ہتھکڑیاں پڑ جائیں گی‘۔ اپنا اسباب باندھو اورنکل چلو۔ ہمارے بے حد محترم بزرگ لندن لوٹ آئے اورنتیجہ یہ ہوا کہ بڑے صاحب ان سے روٹھ گئے۔
ہم نے کبھی ان سے نہیں پوچھا اور انہوں نے کبھی ہمیں نہیں بتایا کہ کیمن آئی لینڈ کی اس آف شور بینکنگ میں کیا گزری ان پر ؟ بس اُس ہتھکڑی والی بات ہی نے ساری بات کہہ دی۔ خیال یہ ہوتا ہے کہ اس پاناما کے قصے کی حقیقت سامنے آنے کے بعد بہت سے لوگوں کے ہاتھوں میں زنجیریں پڑیں گی مگر نہیں۔ دولت مندوں سے کوئی نہیں جیت سکتا۔یہ لوگ لوٹ پوٹ کر اور جیسے بھی بنے گا، بچ کرنکل جائیں گے اوررہ گئے ہم، اُسی تنخواہ پر کام کرتے رہیں گے اور یہ سوچ کر صبر کر لیں گے کہ دنیا میں شدیدمالداروں کی تعداد بس آٹے میں نمک کے برابر ہے، اکثریت تو ہماری ہی ہے۔ہم زندہ باد۔
تازہ ترین